حضرت سیّدنا امام شافِعی علیہ رحمۃ اللہ القَوی

بحیثیتِ مسلمان یہ بات قابلِ اِفْتِخار ہے کہ  ہماری تاریخ ایسی جلیل ا لقدر  شخصیات سے مُزَیَّن ہے جن کی علمی وَجاہَت کا شہرہ اَطرافِ عالَم میں پھیلا ہوا ہے ۔ ان ہی روشن و   تابَنْدہ  شخصیات میں  سے  ایک   دَرَخْشاں نام عالمُ العَصْر، ناصرُ الحدیث، فَقِیْہُ الْمِلَّۃ، حضرت سیّدنا  امام ابو عبد اللہمحمد بن ادریس  شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی  کا  بھی  ہے، جو مجتہد، فقہِ شافِعی کے بانی ا ور عظیم رُوحانی شخصیت کے مالک ہیں۔ حالاتِ زندگی 150ھ میں جس دن حضرت سیّدنا امامِ اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاَکرم کا وصال ہوا اسی دن غَزَّہ  (فلسطین)میں آپ کی ولادت ہوئی۔ (وفیات الاعیان،ج4،ص23) آپ کےدادا کے دادا حضرت سیّدنا شافِع رضی اللہ تعالٰی عنہ صحابیِ رسول تھے،انہی کی نسبت سے آپ شافعی کہلاتے ہیں۔ (المنتظم ،ج10،ص134،سیر اعلام النبلاء،ج8،ص378 ملخصاً) کم عُمری میں ہی آپ یتیم ہو گئے تھے اس لئے آپ کی پرْورِش اور تربیت آپ کی والدہ  نے فرمائی۔(سیر اعلام النبلاء،ج8،ص377) بچپن میں آپرحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو تحصیلِ علم اور  تیر اَندازی کابے حد شوق تھا، تیر اندازی میں مہارت کا یہ عالَم تھا کہ  آپ  کے دس میں سے دس نشانے دُرُست لگتے تھے۔(تاریخ بغداد،ج2،ص57) حصولِ علم میں مشقتیں معاشی اِعتبارسے آپ کے ابتدائی حالات نہایت  دُشوار گزار تھے، آپ کی والدہ کے پاس استاد صاحب کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے کچھ نہیں ہوتا تھااور کاغذ نہ ہونے کی وجہ سےکبھی ہڈیوں پراور کبھی صفحات مانگ کر ان پر احادیثِ مبارکہ لکھا کرتے۔ (سیراعلام النبلاء،ج8،ص379 مفہوماً) شدید تنگ دَسْتی کے باعث تین بار آپ کو اپنا تمام مال حصولِ علم کے لئے فروخت کرنا پڑا۔(تاریخ دمشق، ج51،ص397 ملخصاً) اتنے سخْت حالات کے باجود آپ طلبِ علم میں لگے رہے،حصولِ علم کےلئےعرب کےدیہاتوں میں آپ نے 20 سال  گزارے اور  وہاں کی زبانوں اور اَشعار پر عبور حاصل کیا۔ (سیراعلام النبلاء،ج8،ص379 ماخوذاً) زبردست قوّتِ حافِظہ آپرحمۃ اللہ تعالٰی علیہ بہت ذہین تھے،7 سال کی عمر میں کلامِ مجید اور10سال کی عمر میں  حدیث شریف کی کتاب”مؤطَّا امام مالِک“ صرف 9 راتوں میں حِفظ کر لی تھی۔ (تاریخ بغداد،ج2،ص60، الدیباج المذہب،ج2،ص157) 15 سال کی عمر میں آپ کو فتویٰ دینے کی اجازت مل گئی(المنتظم،ج10،ص136) لیکن اِحتِیاط کے پیشِ نظر آپ نےاس وقت تک فتویٰ دینا شروع نہ کیا جب تک دس ہزار حدیثیں یاد نہ کر لیں۔ (المنتظم،ج10،ص135) اساتذہ وتلامذہ آپ نے اپنے دور کے عظیمُ المَرْتَبَت علمائے کرام و بزُرْگانِ دین سے علم حاصل کیا،ان میں حضرت سیّدنا امام مالک ، حضرت سیّدنامُسلم بن خالد، حضرت سیّدنا سفیان  بن عُیَیْنہ اورحضرت سیّدنا فُضَیْل بن عِیاض رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم کے اسمائے گرامی قابلِ ذکر ہیں، جبکہ  آپ کے تلامِذہ میں  حضرت سیّدنا  امام احمد بن حنبل، حضرت سیّدناامام عبداللہ حُمَیْدی  اور حضرت سیّدناامام حسن زعفرانی علیہم الرحمۃجیسی نابِغۂ روزگار شخصیات شامل ہیں۔(الدیباج المذہب،ج2،ص157)آپ کی جلالتِ  علمی کو دیکھتے ہوئے آپ کو یمن  میں نَجْران کا قاضی مقرر کیاگیا۔ (البدایہ والنہایہ،ج7،ص255) دیگر اَکابِرین کے علاوہ آپ نے حضرت سیّدنا امام اعظمعلیہ رحمۃ اللہ الاَکرمکے جلیل القدر شاگرد حضرت سیّدنا امام محمدرحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے بھی اِکتسابِِ فیض کیا۔ (البدایہ والنہایہ،ج7،ص255ماخوذاً) علومِ مُرَوَّجہ کی تکمیل کے دوران عراق ہی سے آپ نے اپنی فقہ (یعنی فقہِ شافعی) کی تَروِیج و تَدوین کا آغاز فرمایا۔ (ترتیب المدارک،ج3،ص179ملخصاً) آپ نے ہی سب سے پہلے اصول ِ فقہ کے موضوع پر کتاب  تصنیف فرمائی  نیز ابوابِِ فقہ اور اس کے مسائل کی دَرَجَہ بَندی فرمائی۔(مرآۃ الجنان،ج2،ص14 ملخصاً) تصانیف حضرت سیّدنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی نے دَرْس و تَدریس اور تَصانیف کے ذریعے علمِ دین کی خوب اِشاعت فرمائی جس کا فیضان آج تک جاری ہے، آپ کی تَصانیف میں  کتاب ”الاُمّ“، ”اَلرِّسالَۃ“، ”اِخْتِلافُ الْحَدِیث“، ”اَدَبُ الْقاضی“ اور ”اَلسَّبَق و الرَّمْی“ وغیرہ  زیادہ مشہور   ہیں۔ (اعلام للزرکلی، ج6، ص26) عبادات اور زُہد وقناعت مُجْتَہدِ وقت ہونے کے ساتھ ساتھ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نہایت عبادت گزار اور  قراٰنِ پاک کی  کثْرت سے تِلاوت کرنے والے تھے، آپ روزانہ ایک قراٰنِ  پاک اور رمضانُ المبارک  میں ساٹھ قراٰن مجید کا ختم فرماتے۔ آپ نہایت خوش آواز قاریِ قراٰن تھے، آپ کی  تلاوت سن کر لوگوں پر رِقّت طاری ہو جاتی تھی۔ (المنتظم،ج10،ص135ماخوذاً) زُہد و قَناعت  میں بھی آپ کا اعلیٰ مقام تھا،چنانچہ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا: میں  نےسولہ سال سےکبھی سیر ہو کرکھانا نہیں کھایا۔ (لباب الاحیاء، ص32 ) بزرگوں کا آپ کی عظمت کا اعتراف آپ کی شرافت و عظمت کا شہرہ زبانِ زدِ عام تھا  یہاں تک کہ اُس دور کے صاحِبانِ کمال نے بھی آپ کے فَضائل و مَناقِب بیان فرمائے، چنانچہ حضرت سیّدنا سفیان بن عیینہرحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتےہیں: امام شافعی(علیہ رحمۃ اللہ الکافی) اپنے زمانے کے اَفراد میں  سب سے اَفضل ہیں۔ (الانتقاء، ص120) حضرت سیّدنا امام احمد بن حَنبَل رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں: امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی دنیا کے لئے سورج اور لوگوں کے لئےخیر و عافیَّت کی طرح ہیں جس طرح ان دونوں کا کوئی مُتَبادِل نہیں اسی طرح ا ن کا بھی کوئی مُتَبادِل نہیں۔ (الانتقاء، ص125ماخوذاً) وصال زندگی کی 55 بہاریں دیکھنے کے بعد علم و فضل کا یہ چمکتا سورج رجب 204ھ  جمعرات کی رات کو مصر میں غروب ہوا۔ (الدیباج المذہب،ج2،ص160،الانتقاء،ص160) مزار مبارَک جبل مقطم کے قریب قَرافہ صغریٰ (قاہرہ مصر) میں مَرجعِ عوام وخواص ہے ۔ اللہ  پاک کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بےحساب مغفِرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭ ماہنامہ فیضان مدینہ،باب المدینہ کراچی

Share

حضرت سیّدنا امام شافِعی علیہ رحمۃ اللہ القَوی

حضرتِ سیّدُنا ابو عبد اللہ سفیان بن سعید بن مَسروق ثَوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی علمِ حدیث و فقہ کے بہت بڑےعالم اور صاحبِ زُہدوتقویٰ تھے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ حضرت سیّدنا امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  کے ہم زمانہ ہیں۔ ولادت آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  کی ولادت 97 ھ میں ہوئی۔ (سیر اعلا م النبلاء،ج7،ص 175) تحصیلِ علم آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے ابتدا میں اپنے والد اور”کوفہ“ کے مشہورشیوخ ِحدیث بالخصوص امام اَعمش اور ابواسحٰق سَبِیعی رحمہم اللہ تعالی سے حدیث و فقہ کادرس لیا۔ اس کے علاوہ طلبِ علم کےلئے مختلف ممالک کا سفر بھی کیا۔ (محدثین عظام حیات وخدمات، ص105مفہوماً) ایک بار والدہ  ماجدہ نے آپ کا علمی شوق  دیکھ کر فرمایا: بیٹا! علم حاصل کر تےرہو! میں  چَرْخَہ کات کر تمہارے اخراجات پورے کروں گی۔ (صفۃ الصفوۃ،جز2،ج3،ص125، رقم: 468) شیوخ و تلامذہ ایک قول کےمطابق آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے 600 اساتذہ  سے کسبِ علم کیا۔ (سیر اعلا م النبلاء،ج7،ص177) آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے روایات لینے والوں میں سفیان بن عُیَیْنَہ ،ابوداؤد طیالسی  اورعبداللہ بن مبارک جیسےبڑےمحدثین بھی شامل ہیں ۔ (سیر اعلا م النبلاء،ج7،ص175، 178) حکایت امام ابُوالمُثَنَّی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں: ایک بار میں نے ”مَرو“ شہر میں لوگوں کا شوروغل سنا: ثَوری آرہےہیں، ثَوری آرہے ہیں۔ میں باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک لڑکا ہے جس کی داڑھی کے ابھی چند بال نکلے  ہیں۔ امام ذَہبی علیہ رحمۃ اللہ القَوی فرماتے ہیں:  لوگ بلند آواز سے اس لئے کہہ رہے تھے کہ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نہایت ذہین اور مضبوط حافِظے کے مالک تھے، نیز نوجوانی ہی میں حدیثیں بیان کیا کرتے تھے۔ (سیر اعلا م النبلاء،ج7،ص179 مفہوماً) حلقۂ درس آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو عُلومِ اسلامیہ میں کمال کی مہارت حاصل تھی، آپ کا باقاعدہ حلقۂ درس  18 سال کی عمر میں بخارا میں قائم ہوا جہاں عاشقان علم کاہُجوم رہتا۔ (محدثین عظام حیات وخدمات، ص111)علمی مَقام حضرت سیّدنا عبداللہ بن مبارَک رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتےہیں: میں نے گیارہ سو(1100) شُیوخ  سے حدیث کا علم حاصل کیا، ان میں سب سے افضل آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو پایا۔ (تاریخ بغداد،ج9،ص158) حضرتِ سیّدنا امام مالک  علیہ رحمۃ اللہ الخالِق فرماتے ہیں: پہلے عراق سے ہمارے پاس دراہم اور کپڑے آتے تھے جب سے سفیان آئے ہیں ہمارے پاس علم آنے لگا ہے۔ (تہذیب التہذیب،ج3،ص400، رقم: 2519) حضرات امام شُعْبَہ، ابن عُیَیْنہ اوریحییٰ بن مَعِین رحمہم اللہ تعالی   نےآپ کو ”اَمِیْرُالْمُؤْمِنِیْن فِیْ الْحَدِیْث“  کا مقدّس لقب دیا۔ (تاریخ بغداد،ج9،ص165، ملتقطاً) مبارک فرمان جو شخص قبر کو کثرت سے یاد کر تا ہے (تو امید ہے کہ) وہ اسے جنت کے باغوں میں سے ایک باغ پائے گا اور جو قبروں کے ذکر اور ان کی یاد سے غافل رہے گا (تو   اندیشہ ہے کہ) وہ اپنی قبرکو جہنَّم کا گڑھا پائے گا۔ (احیاءعلوم الدین، ج5، ص238) وِصال آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ شعبانُ الْمعظّم161ھ میں بصرہ کے مقام پر  دنیا سے پردہ فرماگئے۔(طبقات لابن سعد، ج6، ص350) مزار مبارک بصرہ ہی میں بنی کُلیب نامی قبرستان میں ہے۔(الثقات لابن حبان،ج3،ص411)

اللہ پاک کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری بےحساب مغفِرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭ ماہنامہ فیضان مدینہ،باب المدینہ کراچی

 

Share