غیبت کی تباہ کاریاں

اس وقت مسلمانوں کی  بھاری اکثریّت غیبت کی خوفناک آفت کی لپیٹ میں ہے،اسی غیبت کے  باعث آج  اکثر گھر میدانِ جنگ بنے ہوئے ہیں، خاندانوں ،مَحلّوں اور بازاروں میں  اسی غیبت کے سبب نفرت کی منحوس دیواریں قائم ہوچکی ہیں۔ ایک بڑی  تعداد کو غیبت کی تعریف تک معلوم نہیں حالانکہ اس کے بارے میں ضَروری اَحْکام جاننا ہر مسلمان عاقِل بالِغ پر فرضِ عین ہے اور اس کے متعلق ضروری مسائل نہ جاننے  والا گنہگار اور جہنّم کا حقدار ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّشیخِ طریقت، امیرِاہلِ سنت، حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اصلاحِ اُمّت کے جذبے کے  تحت مختلف کتابوں  میں پھیلے  ہوئے غیبت کے بیان کو سِلکِ تَحْریر میں پِرو کر تفصیل کے ساتھ’’غیبت کی تباہ کاریاں‘‘ نامی کتاب میں جمع فرما دیا۔ اس کتاب کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں  زندگی کے مختلف مواقع پر اور مختلف شعبوں سے تعلّق رکھنے والے لوگوں میں کی جانے والی  غیبتوں کی سینکڑوں مثالیں بیان کی گئی ہیں مثلاً: ٭منگنی/شادی میں غیبتوں کی مثالیں ٭تاجروں کے متعلق غیبتیں ٭نعت خوانوں کے مابین ہونے والی غیبتوں کی مثالیں وغیرہ۔ اس  کتاب میں غیبت کرنے اور سننے کی حُرمت، غیبت و بُہتان میں فرق، غیبت پر اُبھارنے والی اشیا، زندوں اور مُردوں کی غیبت ،نابالغ کی غیبت، کس بچّے کی غیبت جائز ہے اور کس کی ناجائز؟ غیبت سے پیچھا چھڑانے کا طریقہ اور غیبت کے تفصیلی علاج وغیرہ کا ذکر ہے جبکہ دیگر مُہلکات (یعنی ہلاکت میں ڈالنے والی چیزوں مثلاًتکبُّر ، چغلی، بہتان وغیرہ) کا بھی مختصر بیان ہے۔ اس کے علاوہ مختلف موضوعات پر سینکڑوں مدنی پھول اپنی خوشبوئیں بکھیر رہے ہیں نیز اس کتاب کے ساتھ بعض  مضامین کی مناسبت کی وجہ سےآخر میں ’’عفو و درگزر کی فضیلت مع ایک اہم مدنی وصیت‘‘رسالہ شامل کیا گیا ہے۔ اللہ کریم کی رَحمت سے امّیدہے کہ اس کتاب کے  پڑھنے سے اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کواب تک کی جانے والی گناہوں بھری غیبتوں کے اِرتکاب پر ندامت مَحسوس ہوگی اور اس پر ملنے والی سزاؤں کو پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے اور اگر دل زندہ ہوا تو خوفِ خدا کے سبب آنکھوں سے بے اختیار آنسو چھلک پڑیں  گے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ! اس کتاب کو غیرمعمولی قبولّیت حاصل ہوئی،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2009 سے 2017 تک صرف اردو زَبان میں تقریباً ایک لاکھ پچپن ہزار (155000) کی  تعداد میں  چَھپ کر منظر عام پر آچکی ہے۔ اس کے علاوہ  ہندی،سندھی،انگلش اور گجراتی زبانوں میں اس کا ترجمہ بھی ہوچکا ہے۔ لہٰذااس کتاب کو جلد از جلد دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ سے ہدیۃً حاصل کرکے خود بھی پڑھئے اوردوسروں کو بھی اس کے پڑھنے کی ترغیب دلائیے۔ نیز یہ کتاب مختلف زبانوں میں دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ (www.dawateislami.net)پر آن لائن پڑھی اور ڈاؤن لوڈبھی کی جاسکتی ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭ ماہنامہ فیضان مدینہ، باب المدینہ کراچی

Share