خدارا! ہوش کیجئے

14مارچ2018ءکوکراچی میں محمد علی جناح روڈ پر اسپتال کے قریب سے نَوزَائیدہ بچوں (New Born Babies)کی 3 لاشیں ملیں۔ پولیس واقعے میں مُلَوَّث کسی شخص یا اِدارے کا تعیُّن نہ کر سکی۔ ریسکیو اِداروں کے اَعداد و شمار کے مطابق2017ء میں ملک بھر سے 755 نوزائیدہ بچوں کی لاشیں ملیں 310 کراچی کی کچرا کونڈیوں اور گٹروں سے بَرآمد ہوئیں۔ رَواں سال جنوری 2018 میں 15، فَروری میں 22 اور مارچ کے 14دِنوں میں 12 نوزائیدہ بچے بے رَحْمی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔(دنیا نیوز آن لائن)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اِس طرح کى خبرىں  نئى نہىں ہىں، ماضى میں بھی ایسی خبروں  کا سلسلہ رہا ہے، لہٰذا ایسی خبروں کے بنىادى اَسباب (Basic Reasons) پر غور کرنے کى سخت حاجت ہے۔ ان کے بنیادی اَسباب میں سے  اىک سبب بےشرمى اور بےحىائى کا فروغ پانا ہے  جس مىں  پرنٹ میڈیا اور الىکٹرونک مىڈىا  کا کردار کسى سے ڈھکا چھپا نہىں۔ مغرِبى دُنىا کے ساتھ ساتھ وہ مَمالِک جہاں   مسلمانوں کى اَکثرىت ہے بلکہ وہ ملک جو اِسلام کے نام پر آزاد ہوا اگر وہاں بھى کنوارى لڑکیوں کے  ماں بننے کى تعداد مىں اِضافہ ہوتا رہے، نوزائىدہ بچے اسپتالوں مىں چھوڑ دئیے جائیں اور وىلفىئر فاؤنڈیشن  والے  اپنے اِداروں  کے باہر جُھولے  لگائىں کہ بچوں کو مارنے کے بجائے ان جھولوں میں ڈال دیں،تو اب باقی رہ کىا گىا ہے! یاد رکھئے! اس بُرائی  کى روک تھام کے لئے وقتی طور پر گفتگو کر لینا کافى نہىں بلکہ قراٰنِ کرىم اور اَحادیثِ مُبارَکہ کے اِرشادات کو سامنے رکھتے ہوئے ان پر عمل کرنا ہو گا۔ قراٰن پاک میں بدکاری سے روکا گیا ہے اور اسے  بےحیائی اور بہت بری راہ قراردیا گیا ہے۔

دَرسِ قُرآن گر ہم نے نہ بھلاىا ہوتا                     ىہ زمانہ نہ زمانے نے دِکھاىا ہوتا

بَدکاری سے بچنے کے لئے اىسے مَضامىن، مَناظر اور تصاوىر جن سے بَدکارى کی خواہش  کو تحرىک ملتى ہو  سے بچنے کے ساتھ ساتھ بالخصوص اَجنبی عورَتوں  کے ساتھ تنہائی اِختیار کرنے سے بچنا بھی  ضَروری ہے۔ فرمان مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: خبردار !  کوئی شخص جب کسی (اجنبی) عورت کے ساتھ تنہائی میں ہوتا ہے تو وہاں تیسرا شیطان ہوتا ہے۔ (ترمذی،ج 4،ص67، حدیث: 2172) مِراٰۃ المناجیح میں ہے:جب کوئی شخص اَجنبی عورت کے ساتھ تنہائی میں ہوتا ہے خواہ وہ دونوں کیسے ہی پاکباز ہوں اور کسی (نیک) مَقْصَد کے لئے (ہی) جمع ہوئے ہوں (مگر)شیطان دونوں کو برائی پر ضَرور اُبھارتا ہے اور دونوں کے دِلوں میں ضَرور ہیجان پیدا کرتا ہے، خطرہ ہے کہ زِنا (بدکاری) واقع کرا دے! اس لئے ایسی خَلْوَت (یعنی تنہائی میں جمع ہونے) سے بَہُت ہی اِحتیاط چاہئے،گناہ کے اَسباب سے بھی بچنا لازم ہے، بخار روکنے کیلئے نزلہ و زکام( کو) روکو۔(مِراٰۃُ المناجیح،ج5، ص21) بَدکاری سے بچنے کے لئے  اس کے ہولناک عذاب کا علم ہونا بھی ضَروری  ہے۔فرمان مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: تم ضرور  اپنی نگاہیں نیچی رکھو گے اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو گے اور اپنے چہرے سیدھے رکھو گے یا پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہاری شکلیں بگاڑ دے گا۔(معجمِ کبیر،ج8،ص208، حدیث: 7840)منقول ہے کہ جہنّم میں آگ کے تابوت میں کچھ لوگ قید ہوں گے کہ جب وہ راحت مانگیں گے تو ان کے لئے تابوت کھول دیئے جائیں گے اور جب انکے شعلے جہنمیوں تک پہنچیں گے تو وہ بیک زبان فریاد کرتے ہوئے کہیں گے: یااللہ! ان تابوت والوں پر لعنت فرما ۔یہ وہ لوگ ہیں جو عورتوں کی شرمگاہوں پر حَرام طریقے سے قبضہ کرتے تھے۔(بحر الدموع، ص:167)

مىرى تمام ماں باپ سے یہ فرىاد ہے کہ وہ اپنے شادى بىاہ، خوشى غمى،تعلىمى اِداروں  اور  اپنے گھر بار کے معاملات پر غور کرىں اور اِسلام کے وہ بنىادى اُصول اور قوانین  جن  کا تعلق چادر اور چار دِىوارى، پَردے ، شرم و حىا اور  نگاہیں نىچى رکھنے سے ہے ان پر عمل کو یقینی بنائیں،اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس  برائی میں نمایاں کمی آئے گی۔ اس حوالے سے شیخ طریقت، امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی کتاب ”پردے کے بارے میں سوال جواب“ پڑھنا بے حد مفید ہے۔

Share