شبِ بَراءَت اور اللہ والوں کے معمولات

نبیِّ پاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم،صحابۂ کرام علیہم الرضوان اور اولیائے عِظام رحمۃ اللہ تعالٰی علیہمشعبانُ الْمُعَظَّم  بالخصوص اس کی پندرھویں(15ویں) رات میں عبادات کا اہتمام فرمایا کرتے تھے۔

سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے معمولات اُمّ المؤمنین حضرت سیّدتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں:میں نے حُضورِ اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو شعبانُ الْمعظّم سے زیادہ کسی مہینے میں روزہ رکھتے نہ دیکھا۔(ترمذی،ج2،ص182، حدیث: 736) آپ رضی اللہ تعالٰی عنہا مزید فرماتی ہیں: ایک رات میں نے حضور نبیِّ پاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکو نہ پایا۔ میں آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تلاش میں نکلی تو آپ مجھے جنّتُ البقیع میں مل گئے۔نبیِّ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں(15ویں) رات آسمانِ دنیا پر تجلّی فرماتا ہے، پس قبیلۂ بنی کَلب کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ لوگوں کو بخش دیتا ہے۔(ترمذی،ج2، ص183، حدیث: 739 ملتقطاً) معلوم ہوا کہ شبِ براءت میں عبادات کرنا، قبرستان جانا سنّت ہے۔(مراٰۃ المناجیح،ج2،ص290)

بزرگانِ دین کے معمولات بزرگانِ دین رحمہم اللہ المبین بھی یہ رات عبادتِ الٰہی میں بسر کیا کرتے تھے حضرت سیّدُنا خالد بن مَعدان، حضرت سیّدُنا لقمان بن عامر اور دیگر بزرگانِ دین رحمہم اللہ المبین شعبانُ المُعَظَّم کی پندرھویں(15ویں) رات اچّھا لباس پہنتے، خوشبو، سُرمہ لگاتے اور رات مسجد میں (جمع ہو کر) عبادت کیا کرتے تھے۔(ماذا فی شعبان، ص75) امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃ اللہ العزیز بھی شبِ براءت میں عبادت میں مصروف رہا کرتے تھے۔(تفسیرروح البیان، پ25، الدخان،تحت الآیۃ:3،ج8،402)

اہلِ مکّہ کے معمولات تیسری صدی ہجری کے بزرگ ابو عبدالله محمد بن اسحاق فاکِہی علیہ رحمۃ اللہ القَوی فرماتے ہیں: جب  شبِ براءت آتی تو اہلِ مکّہ کا آج تک یہ طریقۂ  کار چلا آرہا ہےکہ مسجد ِحرام شریف میں آجاتےاور نَماز ادا کرتے ہیں، طواف کرتے اور ساری رات عبادت اور تلاوتِ قراٰن میں مشغول رہتےہیں، ان میں بعض  لوگ 100 رکعت (نفل نماز) اس طرح ادا کرتے کہ ہر  رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد دس مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھتے۔ زم زم شریف پیتے، اس سے غسل کرتے  اور اسے اپنے مریضوں کے لئے محفوظ کر لیتے اور اس  رات میں ان اعمال کے ذریعے خوب برکتیں سمیٹتے ہیں۔(اخبار مکہ، جز: 3،ج2،84 ملخصاً)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭  شعبہ فیضان صحابہ و اہل بیت،المدینۃ العلمیہ، باب المدینہ کراچی

درودِ پاک پڑھنے کا مہینا

درودِ پاک پڑھنا افضل ترین اعمال میں سے ہے اور ماہِ شعبان المعظم کو درودِ پاک پڑھنے کا مہیناکہا گیا ہے،چنانچہ امام قَسْطَلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نقل فرماتے ہیں: بیشک شعبان کا مہینا نبیِّ پاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر درود شریف پڑھنے کا مہینا ہے کہ آیت: (اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ     ) (پ22،  الاحزاب:  56)اسی مہینے میں نازل ہوئی۔(مواھبِ لدنیہ،ج2،ص506)

Share