عید کی نماز میں شامل ہونے کا طریقہ

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!نمازِ عید میں اگر  کوئی شخص تاخیر سے شامل ہوتو  بقِیَّہ نماز کی ادائیگی کی  چند صورتیں ہیں: (1)اگرپہلی رَکعَت میں امام کے تکبیریں کہنے کے بعد شامِل ہوا تو اُسی وَقت (تکبیرِ تَحریمہ کے علاوہ مزید) تین تکبیریں کہہ لے اگر چِہ امام نے قراءَت شروع کر دی ہو۔( تینوں تکبیروں پر کانوں تک ہاتھ بھی اُٹھائے) (2)اگر اس نے (ابھی)تکبیریں نہ کہی تھیں کہ امام رُکوع میں چلا گیا تو اب یہ تکبیریں  کھڑے کھڑے نہ کہے بلکہ امام کے ساتھ رُکوع میں جائے اور رُک وع میں تکبیر یں کہہ لے۔ (3) اگر امام کو رُکوع میں پایا اور غالِب گمان ہے کہ (کھڑے کھڑے) تکبیریں کہہ کر امام کے ساتھ رُکوع میں  مل جائے گا تو  کھڑے کھڑے تکبیریں کہے پھر رُکوع میں جائے ورنہ اَللہُ اَکْبَر کہہ کر رُکوع میں جائے اور رُکوع میں (تین) تکبیریں کہے پھر اگر اس نے رُکوع میں تکبیریں پوری نہ کی تھیں کہ امام نے سَر اُٹھالیا تو باقی(تکبیریں)ساقِط ہو گئیں (یعنی بَقِیَّہ تکبیریں اب نہ کہے) (4)اگر امام کے رُکوع سے اُٹھنے کے بعد شامِل ہوا تو اب تکبیریں نہ کہے بلکہ (امام کے سلام پھیرنے کے بعد) جب اپنی (بَقِیَّہ) پڑھے اُس وَقت کہے۔ (5)اگر دوسری رَکعَت میں شامِل ہوا تو پہلی رَکْعَت کی تکبیریں اب نہ کہے بلکہ جب اپنی فوت شدہ پڑھنے کھڑا ہو اُس وَقت کہے اور دوسری رَکعَت کی تکبیریں اگر امام کے ساتھ مل جائیں تو بہتر ورنہ اس میں بھی وُہی تفصیل ہے جو پہلی رَکْعَت کے بارے میں بیان  کی گئی۔ نوٹ:رُکوع میں جہاں تکبیرکہنا بتایا گیا اُس میں ہاتھ نہ اُٹھائے۔ (درمختار مع ردمحتار،ج3ص64-65، فتاوی ہندیہ،ج1ص151 ملخصاً)

نمازِ عید کا مکمل طریقہ اور اس کے  مسائل جاننے کے لئے شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا رسالہ ”نمازِ عید کا طریقہ“پڑھئے۔

تراویح  کا حکم

تراویح کی بیس رَکْعت ہیں جو مرد و عورت سب کے لئے بالاجماع سنتِ مُؤکدہ ہے اس کا ترک جائز نہیں(بہارِ شریعت،ج1ص688ماخوذاً) نیز پورا مہینا تراویح پڑھنا سنتِ مؤکدہ ہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج7ص458 ماخوذاً) لیکن آج کل ایک تعداد ہے جو اس سُنّت کو بلا عذرِشرعی ترک کردیتی ہے اور بعض لوگ تو چند رکعت یا چند روزہ تراویح پڑھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے تراویح پڑھنے کا حق ادا کردیا، یہ خیال درست نہیں۔ اللہ پاک ہمیں رمضان کی ہر رات مکمل20 رکعت نمازِ تراویح ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَدَقۂ فِطر

              رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:جب تک صَدَقۂ فطر ادا نہیں کیا جاتا،بندے کا روزہ زمین و آسمان کے درمیان مُعَلَّق (یعنی لٹکا ہوا) رہتا ہے۔(کنزالعمال،جز8،ج 4ص253، حدیث: 24124) صدقۂ فطر ہر آزاد، مالکِ نصاب مسلمان پر واجب ہے۔ تمام عُمْر اس کا وقت ہے تو اگر پہلے ادا نہ کیا ہو تو اب ادا کر دے۔ عید کی نماز سے پہلے ادا کرنا سنت ہے۔ صدقۂ فطر واجب ہونے کیلئے روزہ رکھنا شرط نہیں، اگر کسی عُذر کی وجہ سے یا مَعَاذَ اﷲ بلاعُذر روزہ نہ رکھا جب بھی واجب ہے۔ نابالغ یا مَجْنون اگر مالکِ نصاب ہیں تو ان پر بھی صدقۂ فطر واجب ہے، اُن کا ولی اُن کے مال سے ادا کرے۔(ماخوذ از  بہار شریعت،ج1ص935تا 936)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭ناظم المدینہ العلمیہ باب المدینہ کراچی

Share