وہ بزرگانِ دین جن کا یومِ وصال /عرس رمضان المبارک میں ہے

رَمَضان المُبارک اسلامی سال کا نواں مہینا ہے۔ اس میں جن صحابۂ کرام، اَولیائے عظام اور علمائے اسلام کا وصال یا عرس ہے، ان میں سے14  کا مختصر ذکر ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ رَمَضان المبارک 1438ھ کے شمارے میں کیا گیا تھا([1]) مزید کا تعارف ملاحظہ فرمائیے:صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان (1)امیر المؤمنین حضرتِ سیّدنا علی المرتضیٰ شیرِ خدا  کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وجہَہُ الکریم، کی ولادت واقعۂ فیل کے تیسویں یا اٹھائیسویں سال مکۂ مکرمہ میں ہوئی۔ آپ جلیل القدر صحابیِ رسول، دامادِ مصطفےٰ، امام مشارق و مغارب، اسد اللہ،بابِِ  علم اور حیدرِ کرار ہیں۔ آپ نے 21 رمضان 40ھ کو شربتِ شہادت نوش فرمایا، آپ کا مزار نجفِ اشرف (عراق) میں ہے۔ (تاریخ الخلفاء، ص132، مراٰۃ الاسرار، ص18تا 192) (2)خاتونِ جنّت حضرت سیّدتنا فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالٰی عنہا اعلانِ نبوت سے پانچ سال قبل مکۂ مکرمہ میں پیدا ہوئیں۔ وصال 3رَمَضان11ھ کو مدینۂ منورہ میں ہوا اور جنّت البقیع میں دفن کی گئیں۔ آپ نبی علیہ السَّلام کی بیٹی، حضرت علی رضی اللہ عنہکی زوجۂ محترمہ، امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہماکی والدۂ مُشْفِقہ اور جنّت میں تمام عورَتوں کی سردار ہیں۔(زرقانی على المواهب،ج 4ص337،331،مدارج النبوت،ج2ص459تا 461) اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام (3)امیرالمؤمنین فی الحدیث حضرت سیّدنا عبداللہ بن مبارک مَروَزِی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 118ھ کو مَرْو (تُرکمانستان)  میں ہوئی اور وِصال 13 رمضان 181ھ کو فرمایا۔ مزارمبارک ہِیت (صوبہ انبار) مغربی عراق میں ہے، آپ تبعِ تابعی، شاگردِ امام اعظم، عالمِ کبیر، مُحَدِّثِ جلیل اور اکابر اولیائے کرام سے ہیں۔ ” کتابُ الزُّہْدِ وَ الرَّقائِق“ آپ کی مشہور تصنیف ہے۔(طبقاتِ امام شعرانی، جز1، ص 84تا86، محدثینِ عظام وحیات و خدمات، ص146تا153) (4)مشہور مجذوب ولی حضرت سیّدنا شَرَفُ الدِّین بُوعلی قلندر چشتی قُدِّسَ سِرُّہُ القویکی ولادت 652ھ پانی پت (صوبہ ہریانہ) ہند میں ہوئی اور وصال 13رَمَضان 724ھ کو یہیں فرمایا، مزار مبارک مرکزِ روحانیّت اور مرجعِ خَلائِق ہے۔ آپ کا شعری مجموعہ ”دیوانِ بوعلی  قلندر“کے نام سے ہے۔(اخبار الاخیار، ص129، شانِ اولیاء، ص428،426) (5)قطبِ عَصْر حضرت خواجہ سیّد نصیر الدّین محمود چراغِ دہلوی چشتی نِظامی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت فیض آباد (اُودھ،یوپی) ہند میں ہوئی۔ آپ عالمِ دین، ولیِ کامل اور خلیفۂ خواجہ نظام الدّین اولیا ہیں، وصال 18 رَمَضان 757ھ کو ہوا، مزار بستی چراغ دہلی (دہلی ہند) میں ہے۔ (خزینۃ الاصفیا،ج 2ص219تا225، المصطفیٰ و المرتضیٰ، ص 368،359، مرآۃ الاسرار، ص866،858)

 

 (6)قطبِ وقت حضرت سیّدنا میر عبدالواحد بِلگرامی چشتی نِظامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی کی ولادتِ باسعادت بلگرام (ضلع ہردوئی،یوپی) ہند میں ہوئی۔ آپ مشہور ولیِ کامل ہیں۔ آپ کی عمدہ تصانیف میں سے ”سبعِ سنابل“ مقبولِ بارگاہِ رسالت ہے۔ وصال 3رَمَضان 1017ھ کو فرمایا، مزارمقامِ ولادت میں مرجعِ اَنام ہے۔ (مآثر الکرام، ص30،33، تذکرہ علمائے ہند، ص329) (7)استاذ الاصفیاء حضرت سیّدنا خواجہ محمد علی مَکَھڈوی چشتی نِظامی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1164ھ میں بٹالہ (ضلع گورداسپورمشرقی پنجاب) ہند میں ہوئی۔ آپ جامعِ منقولات و معقولات، صوفیِ کامل اور بانیِ خانقاہ مکھڈ شریف ہیں۔ 29رَمَضان1253ھ کو وصال فرمایا، آپ کا مزار مکھڈ شریف (ضلع اٹک) پاکستان میں ہے۔(تذکرہ اولیائے پاکستان،ج2ص177،174)علمائے اسلام رحمہمُ اللہُ السَّلام (8)سلطان الفقہاء امام ابنِ ہُمام کمال الدین محمدحنفی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 790ھ کو اِسکندریہ جنوبی مصر میں ہوئی۔ آپ قراٰن و حدیث، تفسیر و فقہ، علمِ کلام وغیرہ کے ماہر اور صوفیِ کامل بھی تھے۔ آپ کا شمار اہلِ ترجیح اور اکابرین علمائے احناف میں ہوتا ہے۔ ہِدایہ شریف کی شرح ”فتح القدیر“ آپ کی عالمگیر شہرت کا سبب ہے۔ 7رَمَضان 861ھ کو وصال فرمایا، مزار مبارک قَرافہ قاہرہ مصر میں ہے۔ (الاعلام للزرکلی،ج 6ص255، الفوائد البہیہ، ص237،235، البدر الطالع،ج1ص202، 201) (9)شیخُ الحَنَفِیّہ حضرتِ سیّدنا علامہ مفتی خیر الدین بن احمد ایوبی رَمْلی حنفی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادتِ باسعادت رَمَضان 993ھ رملہ فلسطین میں ہوئی۔ آپ فاضلِ جامعۃ الازہر، خاتمۃ الفقہاء اور صاحبِ فتاویٰ خیریہ ہیں۔ 27رَمَضان 1081ھ کو وصال فرمایا، مزار مبارک محلہ باشقردی رملہ فلسطین ہے۔(خلاصۃ الاثر،ج 2ص139،134) (10)پایۂ حرمین حضرت مولانا رَحْمت اللہ کیرانوی مہاجر مکی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت جمادی الاولیٰ 1233ھ محلہ دربارِ کلاں کیرانہ ( ضلع مظفر نگر،یوپی)  ہند میں ہوئی۔ آپ فخرالعلماء، شیخ الاصفیاء، مبلغِ اسلام، بانی مدرسہ صولتیہ مکۂ مکرمہ اور مصنف اِظہارُ الحق ہیں۔ وصال 22رَمَضان 1308ھ کو فرمایا، جنّت المعلٰی میں تدفین ہوئی۔(امام احمد رضا محدث بریلوی اور علمائے مکۂ مکرمہ، ص27، تجلیاتِ مہرِ انور، ص319، 318،  مبلغِ اسلام مولانا رحمت اللہ کیرانوی، ص20) (11)علامۂ زمانہ ظہیرُ الاسلام حضرتِ علّامہ حکیم محمد ظہیر احسن صدیقی نیموی نقشبندی حنفی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1278ھ کو موضع صالح پور (نزد بہار شریف ضلع پٹنہ، صوبہ بہار) ہند میں ہوئی۔ وصال 17رَمَضان 1322ھ کو پٹنہ شہر میں فرمایا اور موضع نیمی (ضلع پٹنہ، صوبہ بہار) میں دفن کئے گئے۔ آپ بہترین شاعر و ادیب، حکیم و طبیب، عالمِ کبیر، محدثِ جلیل، ماہر علوم عقلیہ و نقلیہ اور کئی کتب کے مصنف ہیں، آپ کی حدیث شریف کی کتاب ”آثارُ السُّنَن کو عالمگیر شہرت حاصل ہے۔(آثار السنن، ص281) (12)حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القَوی 1324ھ کو محلہ اوجھیانی بدایوں (اترپردیش ہند) میں پیدا ہوئے۔ وصال 3رَمَضان1391ھ کو فرمایا، مزار گجرات (پنجاب، پاکستان) میں ہے۔ آپ مفسر قراٰن، شارحِ مشکوۃ، استاذالعلماء، مصنف کُتُبِ کثیرہ اور اکابرینِ اہلِ سنت سے ہیں۔(تذکرہ اکابرِ اہلِ سنت،ص55تا58) (13)خلیفۂ مفتیِ اعظم ہند حضرت مولانا بدر الد ین احمد رضوی مصباحی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت ضلع گورکھ پور (یوپی ہند) میں تقریباً 1348ھ کو ہوئی۔ آپ فاضل الجامعۃ الاشرفیہ، مفتیِ اسلام، استاذالعلماء اور ڈیڑھ درجن کتابوں کے مصنف ہیں۔ 7 رَمَضان کو بڑھیا ضلع بستی میں وصال فرمایا۔(مفتی اعظم ہند اور ان کے خلفا، ص 235 تا 240، فیض الادب مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، ص3) (14)استاذالفقہاء حضرت علامہ مفتی قاضی عبدالرحیم بَستویعلیہ رحمۃ اللہ القَوی 1354ھ کو ضلع بستی  یو پی (ہند) میں پیدا ہوئے اور وصال 4 رَمَضان 1431ھ کو بریلی شریف میں ہوا۔ آپ خلیفۂ مفتیِ اعظم ہند، مفتی مرکزی دارالافتا بریلی شریف، استاذالعلماء، اچھے کاتب اور اکابرینِ اہلِ سنت سے تھے، 52سال فتویٰ نویسی فرمائی، فتاویٰ بریلی شریف میں آپ کے کئی فتاویٰ شائع ہوئے ہیں۔(ماہنامہ معارفِ رضا کراچی، اکتوبر2010، ص6،51تا54)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…رکن شوریٰ ونگران مجلس المدینۃ العلمیہ ،باب المدینہ کراچی



[1] ۔۔(1) حضرت سیّدنا سَرِی سَقَطی (2)حضرت سیِّدنا شاہ آلِ محمد مارہروی (3)حضرت سیّدنا امام علی رضا (4) حضرت امام یوسف بن اسماعیل نَبہانی (5) حضرت عبد الرحمٰن بن علی    جَوْزِی (6) حضرت علّامہ فیض احمد اُوَیسی (7) شمسُ الاَئِمَّہ  قاضی خان حسن اُوْزْجَنْدی (8)مُحَدِّثِ کبیر ابنِ ماجہ قَزْوِینی (9)مفتی محمد خلیل خان بَرَکاتی (10) مولانا حسن رضا خان (11)مولانا   ریحان رضا خان (12) مفتی محمد شفیع احمدبیسل پوری (13) مولانا سیّد  ہدایت رسول لکھنوی (14) حضرت مولانا سیّد ایوب علی رَضَویرحمۃ اللہ تعالٰی علیہم اَجْمعین

 

Share

Gallery

Comments


Security Code