محبت میں اپنی گُما یا الٰہی/ ارادے گُدگُداتے ہیں/ یا علیَّ الْمرتضیٰ مولیٰ علی مشکلکُشا

محبت میں اپنی گُما یا الٰہی

محبت میں اپنی گُما یا الٰہی

نہ پاؤں میں اپنا پتا یا الٰہی

رہوں مست و بے خود میں تیری وِلا میں

پِلا جام ایسا پِلا یا الٰہی

میں بے کار باتوں سے بچ کر ہمیشہ

کروں تیری حمد و ثنا یا الٰہی

مِرے اشک بہتے رہیں کاش ہردَم

تِرے خوف سے یا خدا یا الٰہی

تُو اپنی ولایت کی خیرات دیدے

مِرے غوث کا واسِطہ یا الٰہی

مِرا ہر عمل بس ترے واسِطے ہو

کر اِخلاص ایسا عطا یا الٰہی

مسلماں ہے عطّاؔر تیری عطا سے

ہو ایمان پر خاتِمہ یا الٰہی

وسائلِ بخشش مُرَمَّم،ص105

از شیخِ طریقت امیرِ اہلِ سنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ

Share

محبت میں اپنی گُما یا الٰہی/ ارادے گُدگُداتے ہیں/ یا علیَّ الْمرتضیٰ مولیٰ علی مشکلکُشا

ارادے گُدگُداتے ہیں

اُمنگیں جوش پر آئیں اِرادے گُدگُداتے ہیں

جمیل قادری شاید حبیبِ حق بلاتے ہیں

جگادیتے ہیں قسمت چاہتے ہیں جسکی دَم بھر میں

وہ جس کو چاہتے ہیں اپنے روضے پر بلاتے ہیں

انہیں مل جاتا ہے گویا وہ سایہ عرشِ اعظم کا

تِری دیوار کے سایہ میں جو بسترجماتے ہیں

مقدّر اس کو کہتے ہیں فرشتے عرش سے آکر

غبارِ فرشِ طیبہ اپنی آنکھوںمیں لگاتے ہیں

خدا جانے کہ طیبہ کو ہمارا کب سفر ہوگا

مدینے کو ہزاروں قافلے ہر سال جاتے ہیں

تصدّق جانِ عالَم اس کریمی و رحیمی کے

گُنہ کرتے ہیں ہم وہ اپنی رحمت سے چھپاتے ہیں

جمیؔل قادری کو دیکھ کر حُوروں میں غُل ہوگا

یہی ہیں وہ کہ جو نعتِ حبیبِ حق سناتے ہیں

قبالۂ بخشش،ص111

از مدّاحُ الحبیب مولانا جمیل الرحمٰن قادری رضوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی

Share

محبت میں اپنی گُما یا الٰہی/ ارادے گُدگُداتے ہیں/ یا علیَّ الْمرتضیٰ مولیٰ علی مشکلکُشا

یا علیَّ الْمرتضٰی مولٰی علی مشکلکُشا

یا علیَّ الْمرتضٰی مولیٰ علی مشکلکُشا

آپ ہیں شیرِ خدا مولیٰ علی مشکلکُشا

”عِلْم کا میں شہر ہوں دروازہ اِس کا ہیں علی“

ہے یہ قولِ مصطفٰے مولیٰ علی مشکلکُشا

بعدِ خُلفائے ثلاثہ سب صَحابہ سے بڑا

آپ کو رُتبہ ملا مولیٰ علی مشکلکُشا

قَلْعۂ خبیر کا دروازہ اُکھاڑا آپ نے

مرحبا!صد مرحبا! مولیٰ علی مشکلکُشا

حیدرِ کرّار! لے کے آؤ تیغِ ذُوالْفِقار

زورِ دشمن بڑھ چلا مولیٰ علی مشکلکُشا

از پئے غوثُ الورا ہم کو نَجف بلوائیے

ہو کرم یا مُرتضیٰ مولیٰ علی مشکلکُشا

کیجئے حق سے دعا ایمان پر ہو خاتِمہ

خیر سے عطّاؔر کا مولیٰ علی مشکلکُشا

وسائلِ بخشش مُرَمَّم،ص521

از شیخِ طریقت امیرِ اہلِ سنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ

Share

Comments


Security Code