ماتحتوں کے ساتھ کیسا رویّہ ہونا چاہئے؟

ماتحتوں  کے ساتھ کیسا رویّہ ہونا چاہئے؟

شیخِ طریقت ،امیرِ اَہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے 20جمادَی الاُخریٰ 1430ھ کو دعوتِ اسلامی کی مجلس، المدینۃ العلمیۃ کے ایک مدنی اسلامی بھائی کو ای میل کے ذریعے مکتوب بھیجا: ”شرح الصدور([1])سے استفادہ بہت دشوار ہوتا ہے، اگر تفصیلی فِہرس والی ہو تو اطلاع فرمایئے، ورنہ کسی سے اِجارہ کر کے المدینۃ  العلمیۃ کے اوقات کے علاوہ اپنے گھر وغیرہ میں شرحُ الصُّدور کی فہرس (Index) بنوا دیجئے۔ فہرس میں بالخصوص ہر حکایت کا نام یا اشارہ موجود ہو، مجھے خرچ اور وقت کا ہدف میل کر دیجئے۔ المدینۃ العلمیۃ کے اجیر (Employee)سے دورانِ اجارہ المدینۃ العلمیہ کے مکتب میں اس کام پر دل مطمئن نہیں ہو رہا کیونکہ کتاب نجی (Private) ہوگی۔‘‘

اُس اسلامی بھائی نے لَبَّیْک کہتے ہوئے بغیر اِجارے کے یہ کام اپنے ذمّے لے لیا مگر 6ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود فہرس (Index) بنا کر پیش نہ کرسکے۔ پھر غالباً 19محرم الحرام 1431ہجری کو امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ایک اور مکتوب بھیجا جس میں درج تھا: ”شرح الصدور کی فہرس۔۔۔۔ براہِ کرم! نگاہ! بسوئے عاجِزم! اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کی خوشیاں طویل کرے، بے حساب بخشے، میں بھی ان دعاؤں کا ثمر پاؤں۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(1)بعد میں1437ھ کو اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ المدینۃ العلمیۃ نے شرح الصدور کا ترجمہ کرکے مکتبۃ المدینہ سے شائع کروا دیا تھا جس میں تفصیلی فہرس بھی موجود ہے۔

اس کے جواب میں اس مدنی اسلامی بھائی نے لکھا

پیارے باپا جان! بہت زیادہ تاخیر پر اپنے سُست بیٹے کو معافکردیجئے، تقریباً نصف(یعنی آدھا) کام ہوچکا ہے، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ 23 محرم الحرام 1431ھ بروز اتوار شام تک مکمل فہرست میل کردوں گا۔ سُستی اور غَفْلت کے شاہکار کو آپ نے ڈانٹ پلانے یا شرمندہ کرنے کے بجائے جس طرح دعاؤں سے نوازا، اس پر دل بہت خوش ہوا، اللہ کرے پوچھ گچھ کا دل مَوہ لینے والا یہ دُعائیہ انداز میں بھی اپنے مُعاوِنین کے حوالے سے اپنانے میں کامیاب ہوجاؤں، ہمارے ذِمّہ داران میں بھی یہی انداز رائج ہوجائے تو مرحبا صد مرحبا! کیونکہ ضَروری نہیں کہ ہر مقام پر پوچھ گچھ کے لئے دوٹوک انداز اپنایا جائے اور اس طرح کے جملے بولے جائیں:’’میں نے آپ کو کام سونپا تھا، اب تک کیوں نہیں ہوا؟ یا آپ ابھی تک یہ چھوٹا سا کام بھی نہ کرسکے! آگے گاڑی کیسے چلے گی؟ یا اتنا عرصہ ہوگیا آپ نے کچھ کرکے نہیں دکھایا، دن بدن آپ کی کارکردگی کمزور ہوتی جارہی ہے،اتنا عرصہ آپ کیا کرتے رہے ہیں مجھے اس کی تفصیل بتائیے۔‘‘ اور مُخاطَب کے دل میں وَحْشَت و پریشانی داخل کی جائے، ہوسکتا ہے کہ اس طرح کی چوٹیں برابر لگنے کی صورت میں اس کا دل ٹوٹ جائے اور وہ فَعَّال (Active) ہونے کے بجائے اس ذمہ داری سے ہی دُور ہوجائے۔ اگر حسبِِ موقع، حسبِِ منصب یہ انداز اپنایا  جائے کہ ”اللہ تعالیٰ آپ کو دونوں جہاں کی بھلائیاں عطا فرمائے، سردارآباد میں ہونے والے مَدَنی مشورے کے مَدَنی پھولوں کی خوشبوؤں سے ابھی تک محروم ہوں، کاش کہ جلد کرم ہوجائے۔  آپ کی عطاؤں کا منتظر۔۔۔۔ فُلاں۔۔۔۔“ تو مقصد بھی حاصل ہوجائے گا اور مُخاطَب اس انداز سے غالباً خوش بھی ہوگا اور اپنی کوتاہی کا (اگر ہوئی تو) اِزالہ کرنے کی بھی کوشش کرے گا۔ آپ کے اس انداز پر مجھے ایک حدیث یاد آگئی، چُنانچہ حضرتِ سیِّدُنا اَنس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! میں نے 9سال تاجدارِ رسالت، سراپا رَحمت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت کی سعادت حاصل کی اور مجھے معلوم نہیں کہ کبھی میں نے کوئی کام کیا ہو اور آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا ہو:لِمَ فَعَلْتَ کَذَا وَکَذَا یعنی تم نے اس طرح اس طرح کیوں کیا؟ یا میں نے کوئی کام چھوڑ دیا ہو تو آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا ہو: ہَلَّا فَعَلْتَ کَذَا وَکَذَا یعنی تم نے اس طرح اس طرح کیوں نہیں کیا۔

 (مسلم، ص 973 ، حدیث: 6016)



[1] بعد میں 1437ھ کو اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ المدینۃ العلمیہ نے شرح الصدور کا ترجمہ کر کے مکتبۃ المدینہ سے شائع کروادیا تھا جس میں تفصیلی فہرست بھی موجود ہے۔

Share

Comments


Security Code