شادی اور خوشی میں انوکھے جذبات

شادی اور خوشی میں انوکھے جذبات

(بنتِ عطّاؔر کی رخصتی کے بعد کا ایک مکتوب)

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمط

سگِ مدینہ محمد الیاس عطّاؔر قادِری رضوی عُفِیَ عَنْہُ کی جانب سے محسنِ عطّاؔر، میرے میٹھے میٹھے مدنی بیٹے ۔۔۔ کی خدمت میں سلام:

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن عَلٰی کُلِّ حَال

معروف یہی ہے کہ اولاد کی ”شادی“ میں ”خوشی“ کا اظہار کیا جاتا ہے، سو میں نے بھی بجھے بجھے دل سے کیا، ورنہ سچ پوچھو تو میرے گھر میں ”اندھیرا“ ہوگیا! اِس ”صدمے“ کو وُہی سمجھ سکتا ہے جس کی ایک ہی بیٹی ہو اور وہ اُس کو ”رُخصت“ کر دے۔ بہرحال میری خوشیوں کا مرکز صرف و صرف مدینہ ہے۔  ؎

آہ!          کیا خوشی ہو دل کو چندے زیست سے

غمزدہ ہے جاں آخر موت ہے

وِلادت کی کھسیانی خوشی..... اپنی شادی کی جذباتی خوشی ..... اولاد کی شادی کی بجھی بجھی خوشی..... آہ! موت..... جس کسی نے دنیا میں خوشیوں کا گنج پایا بالآخر اُسے موت کا رنج مل کر رہا ”خوشی“ اس کی ہے، ”شادی“ اُس کی ہے، خوشی کرنے کا (حقیقی معنوں میں) حق دار وہی ہے جو ایمان سلامت لیکر دنیا سے رُخصت ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ وہی خوش و خرم ہے جو نزع کے وقت جلوۂ محبوب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں گم رہا، قبر بقیع میں ہو، سرکار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے قدموں میں لیٹنے میں کامیاب رہا۔ محشر میں شاہِ کوثر صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دستِ انور سے کوثر کا چھلکتا جام پینے کی سعادت حاصل کرے اور... اور... بلاحساب و کتاب جنّتُ الْفِرْدَوس میں پیارے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پڑوس میں جگہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے۔  

ہر وقت جہاں سے کہ انہیں دیکھ سکوں میں

جنّت میں مجھے ایسی جگہ پیارے  خدا دے

 میری آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا چین، میری جانِ مضطر کا قرار بنتِ عطّاؔر کی ”عارضی خوشی“ کے سلسلے میں آپ کی قربانیوں ،مہربانیوں،کرم نوازیوں نے دل باغ باغ بلکہ باغِ مدینہ بنا دیا۔ میں اس احسان کا بدلہ کبھی بھی چکا نہیں سکتا گزشتہ سطور میں ”خوشی و شادی“ کی جو وضاحت میں نے بیان کی ہے، دعا گو ہوں کہ وہ معاملات یعنی نزع میں جلوۂ محبوب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم، ایمان و عافیت کے ساتھ قبر بقیع میں، محشر میں جامِ کوثر اور جنّت میں سرکار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا جوار (یعنی پڑوس) یہ سب کچھ آپ کو نصیب ہو اور آپ کے صدقے مجھ بدکار کو بھی۔

وَالسَّلَام مَعَ الْکِرَام 

bapa-sign-1
Share

Articles

Comments


Security Code