تیمم کا طریقہ

امّتِ محمدیہ کی فضیلت:فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے کہ  ہمیں تین چیزوں کے ذریعے دوسری امّتوں پر فضیلت دی گئی: (1)ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کے مِثل کی گئیں (2)ہمارے لئے تمام زمین مسجد کر دی گئی اور (3)جب ہمیں  پانی نہ ملے تو زمین کی  خاک ہمارے لئے پاک کرنے والی بنائی گئی۔ (مسلم، ص 210، حدیث: 1165) تیمّم میں تین فرض ہیں: (1)نیّت (2) پورے چہرے پرہاتھ پھیرنا (3) دونوں ہاتھوں کا کُہنیوں سمیت مسح کرنا۔ تیمّم کا طریقہ: تیمّم کی نِیّت کیجئے (نىت دل کے ارادے کا نام ہے ،زبان سے بھی کہہ لىں تو بہتر ہے ۔ مَثَلاً ىوں کہہ لیں:بے وُضوئی ىا بے غسلی ىا دونوں سے پاکی حاصل کرنے اور نماز جائز ہونے کے لئےتیمّم کرتا ہوں) پھر بِسْمِ اللہ پڑھ کر دونوں ہاتھوں کی اُنگلیاں کُشادہ کر کے کسی ایسی پاک چیزپر جوزمین کی قسم (مَثَلا ً پَتّھر، چُونا، اینٹ، دیوار اور مٹّی وغیرہ) سے ہو،مارکر لَوٹا لیجئے (ىعنی آگے بڑھائیے اور پىچھے لائیے)۔ اگرزِیادہ گَرد لگ جائے تو جھاڑ لیجئے اوراُس سے سارے مُنہ کا اِس طرح مَسح کیجئے کہ کوئی حِصّہ رہ نہ جائے اگر بال برابربھی کوئی جگہ رَہ گئی تو تیمّم نہ ہوگا۔پھردوسری بار اسی طرح ہاتھ زمین پرمارکردونوں ہاتھوں کاناخُنوں سے لےکر کُہنیوں سَمیت مَسح کیجئے۔ (بہارِ شرىعت،ج1،ص353، 354، 356، ملخصاً)

تیمّم کن صورتو ں میں جائز ہے؟ اور تیمّم کے مزید  ضروری احکام جاننے کیلئے بہارِشریعت جلد1،صفحہ344تا 360 اور نماز کے احکام، صفحہ 126پڑھئے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭ ناظم المدینۃ العلمیہ ، باب المدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code