لباس کی سنّتیں اور آداب

لباس: اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے جو انسانی جسم  کو سردی، گرمی اورماحول کی آلودگی سے بچاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ارشادفرماتا ہے: وَّ جَعَلَ لَكُمْ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمُ الْحَرَّ (پ14،النحل :81)

ترجمۂ کنزالایمان: اور تمہارےلئے کچھ پہناوے بنائے کہ تمہیں گرمی سے بچائیں۔

اتنا لباس جس سے سترِ عورت ہوجائے اور گرمی سردی کی تکلیف سےبچے،فرض ہےاوراس سے زائدجس سے زینت مقصود ہواور یہ کہ جبکہ اﷲ نے دیا ہے تو اُس کی نعمت کا اظہار کیا جائے یہ مستحب ہے۔ خاص موقع پر مثلاً جمعہ یا عید کے دن عمدہ کپڑے پہننا مباح(جائز)ہے۔ اِس قسم کے کپڑے روز نہ پہنےکیونکہ ہوسکتا ہے کہ اِترانے لگے اورغریبوں کو جن کےپاس ایسے کپڑے نہیں ہیں نظرِحقارت سے دیکھے،لہٰذااس سے بچناہی چاہیے۔(بہار شریعت،ج3،ص409)

مرد کا لباس: مرد کے لیے ناف کے نیچے سے گھٹنوں کے نیچے تک’’ عورَت ‘‘ہے، یعنی اس کا چھپانا فرض ہے۔ناف اس میں داخِل نہیں اور گھٹنے داخِل ہیں۔(  رَدُّالْمُحتار،ج2،ص93)

عورت کا لباس:عورت کا جسم سر سے پاؤں تک ستر ہے جس کا چھپانا ضروری ہے سِوائے چہرے اور کلائیوں تک ہاتھوں اور ٹخنے سے نیچے تک پاؤں کے ، کہ ان کا چھپانا نماز میں فرض نہیں، باقی حصّہ اگر کُھلا ہوگا تو نماز نہ ہوگی۔ لہٰذا اُسکا لباس ایسا ہونا چاہئے جو سرسے پاؤں تک اس کو ڈھکا رکھےاور اس قدر باریک کپڑا نہ پہنے جس سے سرکے بال یا پاؤں کی پنڈلیاں یا پیٹ اُوپر سے ننگا ہو۔ گھر میں اگر اکیلی یا شوہر یا ماں باپ کے سامنے ہو تو دوپٹہ اُتار سکتی ہے لیکن اگر داماد یا دوسرا قرابت دار ہو تو سر باقاعدہ ڈھکا ہوا ہونا ضروری ہے اور شوہر کے سوا جو بھی گھر میں آئے وہ آواز سے خبر کرکے آئے۔(اسلامی زندگی،ص 108)

بھڑک دار برقعہ:عورت کو لازم ہے کہ لباسِ فاخِرہ،عمدہ برقعہ اوڑھ کر نہ باہر جائے کہ بھڑک دار برقعہ پردہ نہیں بلکہ زینت ہے۔(مراٰۃ المناجیح ،ج5،ص15)

لباس اپنا اپنا:مرد عورتوں کا اور عورتیں مردوں کا لباس نہیں پہن سکتیں کیونکہ ایسے مردوں اور عورتوں پر حدیثِ پاک میں لعنت بھیجی گئی ہے چنانچہ حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسولِ کریم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَنے عورت کا لباس پہننے والے مرد اورمرد کا لباس پہننے والی عورت پرلعنت فرمائی ہے۔(ابوداؤد،ج4،ص83، حدیث: 4098)

سفید لباس بہتر ہے:نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَاکثر سفید لباس زیبِ تن فرماتے۔(کشف الالتباس ،ص36)

ایک تحقیق کے مطابق سفیدلباس ہر قسم کے سخت موسمی تغیُّرات، کینسر، جلدی گلینڈز کے ورم، پسینے کے مسامات کی بندش اور پھپھوند کے امراض جیسی خطرناک اور تکلیف دہ بیماریوں سے حفاظت کرتا ہے ۔(سنتِ مبارکہ ، ص603 ملخصاً)

دامن اور آستین کی لمبائی:سنت یہ ہے کہ دامن کی لمبائی آدھی پنڈلی تک ہو اور آستین کی لمبائی زیادہ سے زیادہ انگلیوں کے پوروں تک اور چوڑائی ایک بالشت ہو ۔(بہارِ شریعت ،ج 3،ص409)

کپڑا پہننے کی دُعا:جو شخص کپڑا پہنے اور یہ پڑھے :اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ کَسَانِیْ ھٰذَا وَرَزَقَنِیْہِ مِنْ غَیْرِ حَوْلٍ مِّنِّیْ وَلاَ قُوَّۃٍ،تو اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف ہو جائیں گے۔(شعب الایمان،ج5،ص181،حدیث:6285)

مدنی حلیہ: داڑھی ، زُلفیں ، سر پر سبزعمامہ شریف( سبز رنگ گہرا یعنی ڈارک نہ ہو ) کلی والا  سفیدکُرتا،سنَّت کے مطابِق آدھی پنڈلی تک لمبا، آستینیں ایک بالِشت چوڑی ، سینے پر دل کی جانب والی جیب میں نُمایاں مسواک، پاجامہ یا شلوار ٹخنوں سے اُوپر۔

(سر پر سفید چادر اور پردے میں پردہ کرنے کیلئے مدنی انعامات پر عمل کرتے ہوئے کتھیٔ چادر بھی ساتھ رہے تو مدینہ مدینہ )

دعائے عطّار: یا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ !مجھے اورمدنی حُلیے میں رہنے والے تمام اسلامی بھائیوں کو سبز سبز گنبد کے سائے میں شہادت، جنت البقیع میں مدفن اور جنت الفردوس میں اپنے پیارے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کاپڑوس نصیب فرما۔ یا اللہ!ساری اُمّت کی مغفِرت فرما۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ

Share

لباس کی سنّتیں اور آداب

اَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّ  وَجَلَّ  شیخِ طریقت امیرِ اہلِ سنت حضرت علامہ مولانا محمدالیاس عطارقادری رضویدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی ترغیب پر مسواک کی سنت کو مزید عام کرنے کے لئے ابتداءً 26صفر المظفر سے’’ہفتۂ مسواک‘‘ منایا گیا اور بعد میں 11ربیع الآخر 1438ھ  تک’’ ماہِ مسواک ‘‘منانے کی ترکیب ہوئی۔اس دوران ”مسواک شریف کے فضائل“کے عنوان سے 20صفحات پرمشتمل امیرِ اہلِ سنتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا رسالہ بھی منظرِ عام پر آیا۔تادمِ تحریریہ رسالہ اردو،ہندی، گجراتی، بنگلہ اورانگلش زبانوں میں لاکھوں کی تعداد میں چھپ کر عا م ہوچکا ہے۔اس دوران مدنی مذاکروں اور سنتوں بھرے بیانات وغیرہ کے ذریعے خوب خوب ’’مسواک کی سنت‘‘ پر عمل کی ترغیب دلائی گئی۔مسواک فروشوں کے مطابق مسواک خریدنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ نظر آیا۔فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ ہے:مسواک کا استعمال اپنے لئے لازم کرلو کیونکہ اس میں منہ کی صفائی ہے اور یہ رب تعالیٰ کی رضا کا سبب ہے۔(مسنداحمد،ج 2 ،ص438، حدیث:5869)

یہ اکثر ساتھ اُن کے شانہ و مسواک کا رہنا

بتاتا ہے کہ دل ریشوں پہ زائد مہربانی ہے

(حدائقِ بخشش،ص۱۹۱)

Share

Articles

Gallery

Comments


Security Code