ناخن کاٹنے کی سُنّتیں اور آداب

اسلام نے انسان کوظاہری  وباطنی نفاست اورپاکیزگی کا تصور دیا ہےاور اس پر کاربند رہنے کی تلقین کی ہے۔خلیفۂ مفتی اعظم ہند، علامہ عبدالمصطفی اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ لکھتے ہیں:صفائی ستھرائی کی مبارک عادت بھی مردوں اور عورتوں کے لیے نہایت ہی بہترین خصلت ہے جو انسانیت کے سر کا ایک بہت ہی قیمتی تاج ہے۔ امیری ہو یا فقیری ہر حال میں صفائی و ستھرائی انسان کے وقار و شرف کا آئینہ دار اور محبوبِِ پروردگار ہے۔(جنتی زیور،ص139)

ظاہر ی صفائی میں ایک چیز انسان کے ناخن بھی ہیں۔ اسلام میں 40 دن کے اندر اندر ناخن تراشنے کا حکم ہے اور بلاعذرِ شرعی 40 دن سے زائد کردینا ناجائز وگناہ ہے۔رسول  کریم، رؤف و رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:جو مُوئے زیر ِناف اور ناخن نہ تراشے اور مُونچھ نہ کاٹے،وہ ہم میں سے نہیں۔(مسنداحمد،ج9،ص125،حدیث:23539) جمعے کے دن ناخن تراشنے والادس (10)دن تک اس کی برکتیں پاتا ہے۔ حدیث پاک میں ہے :جو جمعہ کے دن ناخن ترشوائے ،اللہ تعالیٰ اس کو دوسرے جمعہ تک بلاؤں سے محفوظ رکھے گااور 3 دن زائدیعنی 10 دن تک۔(مرقاۃ المفاتیح،ج8،ص212)

طِبّی لحاظ سے بھی بڑے ناخن مضرِصحت(یعنی صحت کے لیے نقصان دہ ) ہیں ۔حکیم الامّت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :ناخن میں ایک زہریلا مادہ ہوتا ہے اگر ناخن کھانے یا پانی میں ڈبوئے جائیں تو وہ کھانا بیماری پیدا کرتا ہے اسی لئے انگریز وغیرہ چھری کانٹے سے کھانا کھاتے ہیں کیونکہ عیسائیوں کے یہاں ناخن بہت کم کٹواتے ہیں ۔(اسلامی زندگی ،ص91)ناخن جراثیم کی پناہ گاہ ہیں اور کئی پھیلنے والی بیماریوں مثلا ً ٹائیفائیڈ ،اسہال، آنتوں میں کِیڑے اور ورم کا سبب بنتے ہیں۔(سنت مصطفی اور جدید سائنس ،ص53) بعض لوگ دانتوں سے ناخن کاٹنے کے عادی ہوتے ہیں،اس ناپسندیدہ عادت کو ختم کرنا چاہئےاس سے برص پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔(فتاوی ہندیہ،ج5 ،ص358)

پھریہ کہ ناخن تراشنا جہاں ایک طرف صحت کا باعث ہے تو دوسری جانب سنت ومستحب  عمل ہے اور بندہ سُنّت کے مطابق انہیں تراش کر ثواب کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ جمعہ کے دن ناخن ترشوانا مستحب ہے ،ہاں اگر زیادہ بڑھ گئے ہوں تو جمعہ کا انتظار نہ کریں کیونکہ ناخنوں کا بڑا ہونا تنگیِ رِزق کا سبب ہے۔ (بہار ِشریعت،ج3،ص582)

ہاتھوں کے ناخن تر اشنے کے 2سنّت طریقوں میں سے ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ سیدھے ہاتھ کی شہادت کی اُنگلی سے شرو ع کر کے ترتیب وار چھنگلیا سمیت ناخن تراشیں مگر انگوٹھا چھوڑدیں ۔اب اُلٹے ہاتھ کی چھُنگلیا سے شروع کرکے ترتیب وار انگوٹھے سمیت ناخن تر اش لیں۔اب آخرمیں سیدھے ہاتھ کا انگو ٹھا جو باقی تھا اس کا ناخن بھی کاٹ لیں اور   پاؤں کے ناخن تراشنے کی کوئی ترتیب منقول نہیں ۔ بہتر یہ ہے کہ وضو میں پاؤں کی انگلیوں میں خلال کرنے کی جو تر تیب ہے اُسی ترتیب کے مطابق پاؤں کے ناخن کاٹ لیں۔ یعنی سیدھے پاؤں کی چھنگلیاسے شروع کر کے ترتیب وار انگوٹھے سمیت ناخن ترا ش لیں پھر اُلٹے پاؤں کے انگو ٹھے سے شرو ع کر کے چھنگلیا سمیت ناخن کاٹ لیں۔(ماخوذ از بہارِ شریعت،ج3،ص583)

Share

Articles