بیٹھنے کی سنّتیں اور حکمتیں

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگرہم اللہ کے پیارے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنّتوں پر عمل کریں تو اچھی نیت کے صدقے ثواب کے حق دار بھی قرار پائیں گے اور کام میں بھی برکت ہوگی۔اس لئےہماراہرکام حتّٰی کہ   بیٹھنا بھی سنّت کے مطابق ہونا چاہئے۔

بیٹھنے کی نیّتیں

(موقع ملا تو) بہ نیّت ادائے سنّت قبلہ رُخ بیٹھوں گا ۔غیر محتاط انداز میں بیٹھ کر دوسروں کیلئے  بدنگاہی کا سامان نہیں کروں گا بلکہ پردے میں پردہ کرکے بیٹھوں گا۔علمِ دین کی مجلس،اجتماعِ ذِکر ونعت اور عُلَمائے دین کی بارگاہوں میں بَن پڑا توادباً دوزانو بیٹھوں گا۔(ثواب بڑھانے کے نسخے، ص17)

حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بیٹھنے کے انداز

(1)پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ اکثر قبلہ رُو اور (2)دوزانوبیٹھا کرتے تھے۔(مراٰۃ المناجیح،ج8، ص90) (3)آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے چارزانو (یعنی پالتی مار کر) بیٹھنا بھی ثابت ہے۔ (ابوداؤد،ج4، ص345،حدیث:485) (4)آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ وَسَلَّمَ کوکعبہ شریف کے صِحْن میں اِحتِبا کی صورت میں بھی تشریف فرما دیکھا گیا۔(بُخاری،ج4، ص180، حدیث: 6272) اِحتِباکا مطلب یہ ہے کہ آدمی سُرِیْن کے بل بیٹھےاور اپنی دونوں پنڈلیوں کو دونوں ہاتھوں کے حلقے میں لے لے۔ اِس قسم کا بیٹھنا عاجِزی و انکساری میں شمار ہوتا ہے۔ (مُلَخَّص از بہارِشریعت،ج3، ص432)

بیٹھنے کی سنتیں اور آداب

٭ایسی جگہ نہ بیٹھئے  کہ جسم کا کچھ حصہ دھوپ میں اور کچھ چھاؤں میں ہو۔

 حکمت کیونکہ سایہ ٹھنڈا ہے اور دھوپ گرم اور بیک وَقت ایک جسم پر ٹھنڈک و گرمی لینا صحّت کیلئے نقصان دِہ ہے اس لئے ایسا نہ کریں نیز یہ شیطانی نِشَسْت ہے جس سے شیطان خوش ہوتا ہے۔ ( مراٰۃ المناجیح ،ج6، ص387ملخصاً) ٭جب کبھی اجتماع یا مجلس میں آئیں تو لوگو ں کو پھلانگنے کی بجائے جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھ جائیے۔ ٭راستےمیں بیٹھنےسےبچئے۔ ٭قبرپرنہ بیٹھئے۔ ٭پیر، اُستاد اور بُزُرگوں کی نشست پر بیٹھنا ادب کے خلاف ہے۔ ٭بُزُرگوں کے سامنے اَدَباًدوزانوبیٹھئے۔ ٭جب بیٹھیں تو جوتے اتارلیں، آپ کے قدم آرام پائیں گے۔ (جامع صغیر، ص40، حدیث:554) ٭مُطالَعہ، ذِکرو دُرود وغیرہ کےمَواقِع پراپنا چہرہ قبلہ رُخ کرنے کی عادت بنائیے۔ ٭مُبلِّغ اور مُدرِّس کیلئے دورانِ بیان و تَدریس سُنّت یہ ہے کہ پیٹھ  قِبلے کی طرف ہو تاکہ ان سے عِلم کی باتیں سننے والوں کا رُخ جانبِ قبلہ ہوسکے۔ ٭کھاناکھاتے وَقْت اُلٹا پاؤں بچھا دیجئے اور سیدھا گُھٹنا کھڑا رکھئے۔ حکمت اس سے  تِلّی کی بیماریوں سے بچاؤ ہوتا ہے اور رانوں کے پٹّھے مضبوط ہوتے ہیں۔ ٭یا سُرین پربیٹھ جایئے اوردونوں گھٹنے کھڑے رکھئے۔ حکمت اس طرح بقدرِ ضَرورت ہی کھانا مِعدے میں جاتا ہے جس کے سَبَب اَمراض سے حِفاظت ہوتی ہے۔ ٭یا دونوں قدموں کی پشت پر دوزانو بیٹھئے۔(اِحیاءالعلوم ،ج2، ص5) ٭کھاتے ہوئے چار زانو بیٹھنے سے بچئے۔ حکمت کہتے ہیں چوکڑی مارکر کھانے کے عادی کا موٹاپا بڑھتا اورتَوند نِکل آتی ہے۔نیز دردِ قُولَنج (بڑی آنت کا درد) ہو جانے  کا بھی خطرہ رہتا ہے ۔ ایک آدَمی کا کہنا ہے:میں نے ایک انگریز کو دیکھا کہ دونوں گُھٹنے کھڑے کرکے زَمین پر سُرین لگا کر کھارہا تھا، میں نے حیرت سے اس کا سَبَب پوچھا،توفوراً اپنے نِکلے ہوئے پیٹ پر ہاتھ مارکر کہنےلگا:”اِس کو اندرکرنے کیلئے۔“(فیضانِ سنت،ص220)

جانوروں کی کھال پر بیٹھنے کی حکمتیں

٭بکری(بکرا)اور مَینڈھے کی کھال پر بیٹھنے سے مِزاج میں نرمی اور عاجِزی پیدا ہوتی ہے۔ ٭درندے کی کھال پر نہ بیٹھئے کہ مزاج میں سختی اورتکبُّر پیدا ہوتا ہے۔(مُلَخَّص از بہارِ شریعت،ج1، ص402)

Share