شک کی بنا پر دوسرے کی کتاب لوٹانے کا انداز/عاشق کی عید کی منظر کشی

شک کی بِنا پر دوسرے کی کتاب لوٹانے کا انداز

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

سگِ مدینہ ابو بلال محمد الیاس عطّاؔر قادِرِی رَضَوِی عُفِیَ عَنْہُ کی جانب سے میرے مُحسن، پیارے پیارے بھائی ۔۔۔ کی خدمت میں:

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَ بَرَکَاتُہ!

اللہ تعالٰی آپ کو دونوں جہانوں کی بھلائیوں سے مالا مال فرمائے، بے حساب بخشے اور مجھ گنہگار کے حق میں بھی یہ دعائیں قبول فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّم

میری کتابوں میں سے(ایک کتاب بنام)”تاریخِ مدینۂ منورہ“ دستیاب ہوئی جس پر آپ جناب (کے نام) کی مُہر لگی ہوئی ہے، اب یہ یاد نہیں کہ آپ نے (مجھے) تحفۃً نوازا تھا یا عارِیتاً (یعنی بطورِ قرض) دی تھی، لہٰذا آپ کی خدمت میں پیش ہے، میرے اس میں تصرُّف کرنے کی علامات بھی موجود ہیں، براہِ کرم! یہ بھی اور اس کے علاوہ جو بھی چھوٹے بڑے حُقوق آپ کے مجھ سے تلف ہوئے ہوں سب مُعاف فرما دیجئے اور گواہ رہئے میں اپنے تمام تر گناہوں سے توبہ کرتا ہوں، مسلمان ہوں، غلامِ مصطَفٰے و صَحابہ و اَولیا ہوں، میری بے حساب مغفرت کی دعا فرماتے رہئے۔

وَالسَّلَامُ مَعَ الْاِکْرَام

16 ربیع الآخر 1434ھ   دستخط

عاشِق کی عید کی منظر کشی

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

سگِ مدینہ ابو بلال محمد الیاس عطّاؔر قادِرِی رَضَوِی عُفِیَ عَنْہُ کی جانب سےبُلبُلِ دعوتِ اسلامی، مُبَلِّغِِ سنّت ۔۔۔ کی خدمت میں:

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَ بَرَکَاتُہ!

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن عَلٰی کُلِّ حَال!

میٹھے میٹھے مدینے کی مہکی مہکی یادیں اپنے جِلَو میں لئے ہوئے جناب کا عید مبارک نامہ بڑی شان سے وارد ہوا۔ بہت بہت شکریہ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو مدینے کی دید والی عید نصیب فرمائے!   ؎

صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

اگر حضور کے روضے کی دِید ہو جائے

عَزَّوَجَلَّ

قسم خُدا کی غریبوں کی عید ہو جائے

پیارے (اسلامی) بھائی! اصل عید اُسی وقت ہے، جب سنہری جالیوں کے رُو بَرو حاضِری ہوگی، سنہری جالیوں کی رُکاوَٹ بھی دُور ہوچکی ہوگی، اے کاش!   ؎

سنہری جالیاں ہوں، آپ ہوں اور مجھ سا عاصی ہو

صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

وہیں یہ جاں جدا ہو، جانِ جاناں، یَارسولَ اللہ

اور اُن کے جلووں میں رُوح اُن کے قدموں پر قربان ہوجائے، بس ایک عاشق کی حقیقی عید تو یہی ہے۔ کاش! ایسی عید مبارک ہو۔

آپ کی دعاؤں کا ہر وقت محتاج۔                   دستخط

Share

Comments


Security Code