پیامِ امامِ اہلِ سنّت رحمۃ اللہ علیہ  / احمد رضا کا تازہ گلستاں ہے آج بھی / بچوں سے زیادہ مذاق نہ کریں/چغل خوری سے بچنا/گناہوں کو بھول جانا بہت بڑا دھوکا / علم و حکمت کے 12مدنی پھول

احمد رضا کا تازہ گلستاں ہے آج بھی

ماہنامہ شعبان المعظم 1438

(1)آدمی ماں باپ کو  راضی کرے تو وہ اس کے جنت ہیں اور ناراض کرے تو وہی اس کے دوزخ ہیں۔ جب تک باپ کو راضی نہ کرے گا اُس کاکوئی فرض ، کوئی نفل ، کوئی عملِ نیک اَصْلاً قبول نہ ہوگا ، عذابِ آخرت کے علاوہ دنیا میں ہی جیتے جی سَخْت بَلا نازِل ہوگی ، مرتے وقت مَعَاذَاﷲ کلِمَہ نصیب نہ ہونے کاخوف ہے۔

(فتاویٰ رضویہ ، 24 / 384)

(2)جسم کے حق میں کبھی کبھی ہلکا بخار ، زکام ، دردِ سر اور ان کے مِثْل ہلکے امراض بَلا نہیں نعمت ہیں بلکہ ان کا نہ ہونا بَلا ہے مردانِ خدا پر اگر چالیس دن گزریں کہ کوئی عِلّت وقِلّت نہ پہنچے (یعنی بیماری وپریشانی نہ آئے )تو اِستغفارواِنابت فرماتے ہیں (یعنی توبہ کرتے اوررجوع لاتے ہیں)کہ مَبادا باگ ڈھیلی نہ کردی گئی  ہو(یعنی جس طرح نافرمانوں کو گناہوں کی وجہ سے ڈھیل دیدی جاتی ہے ، کہیں ایسا ہی معاملہ ہمارے ساتھ  نہ ہو)۔

(فضائل دعا ، ص173)

(3) “ شریعت “ تمام اَحکامِ جِسْم وجان و روح وقَلْب وجملہ علومِ الٰہیہ ومعارفِ نامتناہیہ کو جامع ہے جن میں سے ایک ایک ٹکڑے کا نام طریقت ومعرفت ہے۔  (فتاویٰ رضویہ ، 21 / 523)

(4) طریقت میں جو کچھ مُنْکَشِف ہوتا ہے شریعت ہی کے اِتباع کا صدقہ ہے ورنہ بے اِتباعِ شَرَع بڑے بڑے کَشْف راہبوں ، جوگیوں ، سنیاسیوں کو ہوتے ہیں ، پھر وہ کہاں تک لے جاتے ہیں اسینَارِ جَحِیْم وعَذَابِ اَلِیْم تک پہنچاتے ہیں۔    (فتاویٰ رضویہ ، 21 / 524)

(5)عبادت محض لِوَجْہِاللہ(یعنی صرف اللہ کی رضا کے لئے) ہونا چاہیے ، کبھی اپنے اَعمال پر نازاں نہ ہو کہ کسی کے عمر بھر کے اعمالِ حَسَنہ اُس (اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ )کی کسی ایک(بھی) نعمت کا جواُس نے اپنی رحمت سے عطا فرمائی ہے ،  بدلہ نہیں ہوسکتے۔    (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ، ص281)

(6)مالِ حرام قابلِ قبول نہیں ، نہ اُسے راہِ خدا میں صَرف (خرچ) کرنا رَوَا(جائز) ، نہ اُس پر ثواب ہے بلکہ نِرا وَبال ہے۔    (فتاویٰ رضویہ ، 21 / 105)

(7)سُنّی مسلمان کو دین پر اِعتِقَاد ایسا چاہئے کہلَاتُشْرِکْ بِاﷲِ وَاِنْ حُرِقْتَ اگر کوئی جلا کر خاک کردے تو دین سے نہ پھرے۔   (فتاویٰ رضویہ ، 21 / 154ملخصاً)

(8)سَاتِرِ عورت(ستر کو چھپانے والے کپڑوں ) کا ایسا چُسْت ہونا کہ عُضْو کا پورا انداز بتائے۔ یہ بھی ایک طرح کی بے سَتْری (بے پردگی ) ہے۔   (فتاویٰ رضویہ ، 22 / 163ملخصاً)

(9)کھانا کھاتے وقت نہ بولنے کا اِلْتِزام(لازم)کرلینا مَجُوس (یعنی آتش پرستوں)کی عادت ہے اور مکروہ ہے۔ اورلغو باتیں کرنا یہ ہر وقت مکروہ ، اور ذکرِ خیر کرنا یہ جائز ہے۔   (ملفوظات اعلیٰ حضرت ، ص448 ملخصاً)

(10)جاہل بوجہ جہل اپنی عبادت میں سو(100)گناہ کرلیتا ہے اور مصیبت یہ کہ انہیں گناہ بھی نہیں جانتا اورعالمِ دین اپنے گناہ میں وہ حصہ خوف ونَدامَت کا رکھتاہے کہ اسے جلد نجات بخشتا ہے۔   (فتاویٰ رضویہ ، 23 / 687)

(11)نعت شریف ذِکراَقْدَس ہے اور اِس کا خوش اِلحانی سے ہونا مُورِثِ زیادتِ شوق ومحبت۔

(فتاویٰ رضویہ ، 23 / 754)

(12)اَشرار ( بُرے لوگوں)کے پاس بیٹھنے سے آدمی نقصان  اُٹھاتاہے۔   (فتاویٰ رضویہ ، 24 / 314)

Share

پیامِ امامِ اہلِ سنّت رحمۃ اللہ علیہ  / احمد رضا کا تازہ گلستاں ہے آج بھی / بچوں سے زیادہ مذاق نہ کریں/چغل خوری سے بچنا/گناہوں کو بھول جانا بہت بڑا دھوکا / علم و حکمت کے 12مدنی پھول

بزرگانِ دین کے مبارک فرامین

پیامِ امامِ اہلِ سنّت رحمۃ اللہ علیہ

ماہنامہ شعبان المعظم 1438

اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہْلِ سُنّت ، مولانا شاہ امام اَحمد رَضا خان  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن  کے ایک مکتوب میں ہے :

اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہْلِ سُنّت ، مولانا شاہ امام اَحمد رَضا خان  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن  کے ایک مکتوب میں ہے : شبِ بَرَاءَت قریب ہے ، اِس رات تمام بندوں کے اَعمال حضرتِ عزَّت میں پیش ہوتے ہیں۔ مولا  عَزَّ  وَجَلَّ  بَطُفیلِ حضورِ پُر نُور ، شافِعِ یومُ النُّشُور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  مسلمانوں کے ذُنُوب (یعنی گناہ) معاف فرماتا ہے مگر چند ، ان میں وہ دو مسلمان جو باہَم دُنیوی وجہ سے رَنْجِش رکھتے ہیں ، فرماتا ہے : “ اِن کو رہنے دو ، جب تک آپَس میں صُلْح نہ کرلیں۔ “ لہٰذا اَہلِ سنّت کو چاہئے کہ حتَّی الْوَسْع قبلِ غُرُوبِ آفتاب 14 شَعْبان باہم ایک دوسرے سے صفائی کر لیں ، ایک دوسرے کے حُقُوق ادا کردیں یا مُعاف کرا لیں کہ بِاِذْنِہٖ تَعَالٰی حُقُوقُ الْعِباد سے صحائفِ اَعمال (یعنی اعمالنامے) خالی ہو کر بارگاہِ عزَّت میں پیش ہوں۔ حُقُوقِ مولیٰ تعالیٰ کے لئے توبۂ صادِقہ(یعنی سچی توبہ) کافی ہے۔ (حدیثِ پاک میں ہے : ) اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَہٗ (یعنی گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اُس نے گناہ کیا ہی نہیں (ابن ماجہ ، 4 / 491 ، حدیث : 4250)) ایسی حالت میں بِاِذْنِہٖ تَعَالٰی ضرور اِس شب میں اُمّیدِ مغفرتِ تامّہ (یعنی مغفِرت کی پکّی اُمّید) ہے بَشَرْطِ صِحّتِ عقیدہ۔ (یعنی عقیدہ درست ہونا شرط ہے) وَہُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْم۔ (اور وہ گناہ مٹانے والا رحمت فرمانے والا ہے)(آقا کا مہینا ، ص12تا13 ، بحوالہ کُلِّیاتِ مکاتیبِ رضا ، 1 / 356تا357)

Share

پیامِ امامِ اہلِ سنّت رحمۃ اللہ علیہ  / احمد رضا کا تازہ گلستاں ہے آج بھی / بچوں سے زیادہ مذاق نہ کریں/چغل خوری سے بچنا/گناہوں کو بھول جانا بہت بڑا دھوکا / علم و حکمت کے 12مدنی پھول

(1)ارشادِ سَیِّدُنا سلیمان بن داؤدعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِما الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام: جھگڑے سے بچنا! کیونکہ اس میں کوئی فائدہ نہیں بلکہ یہ بھائیوں کے درمیان دشمنی کو بھڑکاتا ہے۔)تاریخ دمشق، ج22، ص286)

(2)ارشادِ سَیِّدُنا سلیمان بن داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِما الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام: اے بیٹے!چُغلخوری سے بچنا!کیونکہ یہ تلوار سے بھی زیادہ تیز ہے۔(الزھد لاحمد بن حنبل، ص 124، رقم: 467)

(3)ارشادِ سَیِّدُنا ابو دَرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ: اِس بات سے ڈرو کہ مؤمنین کے دل تم سے نفرت کرنے لگیں اور تمہیں اس کا شُعُور (پتا) بھی نہ ہو۔(الزھد لابی داؤد، ص205، رقم:229)

(4)ارشادِ سَیِّدُنا امام زین العابدینرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ: (عبادت میں لوگوں کی تین قسمیں ہیں:) کچھ  لوگ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت (جہنّم کے) خوف کی وجہ سے کرتے ہیں، یہ غلاموں کی سی عبادت ہے۔ کچھ لوگ حصولِ جنّت کے لئے کرتے ہیں، یہ تاجروں کی سی عبادت ہے اور کچھ لوگ بطورِشکر عبادت کرتے ہیں، یہ آزاد لوگوں کی عبادت ہے۔(حلیۃ الاولیاء،ج3، ص158، رقم: 3540)

(5)ارشادِ سَیِّدُنا محمد بن علی باقِر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَادِر: جس قدر تَکبُّر انسان کے دل میں داخل ہوتا ہے اسی قدر اس کی عقل کم ہو جاتی ہے خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ۔(موسوعہ ابن ابی الدنیا،التواضح و الخمول،ج3، ص579، رقم:226)

(6)ارشادِ سَیِّدُنا محمد بن المُنْکَدِر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ:  بچوں سے زیادہ مذاق نہ کیا کرو! ورنہ ان کے نزدیک تمہاری قدر و منزلت کم ہوجائے گی۔(موسوعہ ابن ابی الدنیا، الصمت،ج7، ص238، رقم:393)

(7)ارشادِ سَیِّدُنا یحیٰ بن ابو کثیر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَدِیْر :نیکیاں یاد رکھنا اور گناہوں کو بھول جانا بہت بڑا دھوکا ہے۔(حلیۃ الاولیاء،ج3، ص80، رقم:3244)

(8)ارشادِ سَیِّدُنا حِبان بن اَبو جَبَلَہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ: دنیا کی وہ عورَتیں جو جنّت میں جائیں گی اپنے نیک کاموں کی وجہ سے جنّت کی حوروں سے افضل ہوں گی۔(تفسیر قرطبی،الدخان:تحت الآیۃ 54،ج8، ص113)

(9)ارشادِ سَیِّدُنا فُضَیْل بن زید رَقّاشی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ: اے بھائی! لوگوں کا ہجوم ہرگز تمہیں تمہارے نفس کی اصلاح سے غافل نہ کرے کیونکہ پوچھ گچھ تم سے ہوگی نہ کہ لوگوں سے۔(موسوعہ ابن ابی الدنیا،الورع،ج1، ص220،رقم:134)

 (10)ارشادِ بُدَیْل بن میسرہ عُقَیْلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی: جو اپنے عِلم سے صرف اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خوشنودی چاہتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے اپنی رضا سے نوازتا اور بندوں کے دلوں کو اس کی طرف پھیر دیتا ہے۔(حلیۃ الاولیاء، ج3، ص73، رقم:3213)

(11)ارشادِ سَیِّدُنا منصور بن زَاذَان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان: رنج وغم نیکیوں میں اضافے کا باعث جبکہ تکبُّر وبڑائی بُرائیوں میں زیادتی کا سبب بنتے ہیں۔(موسوعہ ابن ابی الدنیا،الھم والحزن،ج3، ص266، رقم:23)

(12)ارشادِ سَیِّدُنا شُمَیْط بن عَجْلَان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن: جو شخص موت کو ہر وقت پیشِ نظر رکھتا ہے اسے دنیا کی تنگی و کشادگی کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔(حلیۃ الاولیاء،ج3، ص153، رقم: 3517)

(13)ارشادِ سَیِّدُنا ابو یعقوب فَرْقَد سَبَخی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی: پیٹ والے کے لئے پیٹ کی وجہ سے ہلاکت ہے کہ اگر اسے سیر نہ کرے تو کمزور پڑ جاتا ہے اور اگر خوب سیر کرے تو بوجھل ہوجاتا ہے۔(موسوعہ ابن ابی الدنیا،الجوع،ج4، ص117، رقم:224)

Share

پیامِ امامِ اہلِ سنّت رحمۃ اللہ علیہ  / احمد رضا کا تازہ گلستاں ہے آج بھی / بچوں سے زیادہ مذاق نہ کریں/چغل خوری سے بچنا/گناہوں کو بھول جانا بہت بڑا دھوکا / علم و حکمت کے 12مدنی پھول

علم و حکمت کے 12مدنی پھول

ماہنامہ شعبان المعظم 1438

شیخِ طریقت امیرِ اَہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں :

(1)اگر ہر اسلامی بھائی روزانہ کسی نہ کسی ایک بے نمازی پر انفرادی کوشش کر کے اُسے نمازی بنانے میں کامیاب ہوجائے تو اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّوَجَلَّ  ہماری مساجد بھر جائیں۔    (18 ذوالحجۃ الحرام 1436 کی تحریر سے لیا گیا)

(2)ظاہِری و باطِنی آداب کے ساتھ نماز ادا کرنا بہت بڑی سعادَت کی بات ہے۔ (مَدَنی مذاکرہ ، 20 شوال المکرم 1435)

(3) “ دعوتِ اسلامی “ ایک پُر اَمْن تحریک ہے ، اس کی جنگ شیطان سے ہے اور شیطان کے خلاف جنگ! جاری رہے گی۔ اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّوَجَلَّ (مَدَنی مذاکرہ ، 30 ذوالقعدۃ الحرام 1435)

(4)آپ کا کام منوانا نہیں پہنچانا ہے نیکی کی دعوت پہنچا کر اپنا ثواب کھرا کرتے رہیں۔ (18 ذوالحجۃ الحرام 1436 کی تحریر سے لیا گیا)

(5)والِدین اپنی اولاد پر یہ ظاہر نہ کریں کہ ہم اپنے فُلاں بیٹے یا بیٹی سے زیادہ مَحَبَّت کرتے ہیں ، ورنہ دیگر بچّے احساسِ کمتری کا شکار ہوں گے اور یہ اُن کیلئے باعثِ ہلاکت ہوسکتا ہے۔      مَدَنی مذاکرہ ، 18 ذوالقعدۃ الحرام 1435 بتغیرِِ)

(6)صَبْر کا ذِہن بنانے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اپنے سے بڑھ کر مصیبت زدہ کے بارے میں غور کیا جائے اس طرح اپنی مصیبت ہلکی محسوس ہوگی اور (اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّوَجَلَّ ) صَبْر کرنا آسان ہوگا۔ (خود کُشی کا علاج ، ص 34)

(7)جس طرح پھل دار درخت کے نیچے کھڑے ہو کر صِرف پھل کھانے کا ارادہ کرنا کافی نہیں بلکہ درخت سے پھل توڑنا اور بھوک مٹانے یا لذّت پانے کیلئے منہ میں ڈالنا اور حسبِ ضرورت کھانا بھی ضروری ہے ، اسی طرح مدنی کام فقط چاہنے سے ہی نہیں بلکہ کرنے سے ہوں گے۔   (مَدَنی مذاکرہ ، 4 ذوالحجۃ الحرام 1435 بتغیرِِ)

(8)عِلْمی شخصیت (اور) داڑھی و عمامے والے (افراد) کو زیادہ محتاط ہونا چاہیے کہ یہ “ سفید چادر “ کی مانند ہیں اور سفید چادر پر “ کالا داغ “ زیادہ واضح نظر آتا ہے۔ (مَدَنی مذاکرہ ، 8 ذوالحجۃ الحرام 1435)

(9)کاش! بولنے سے پہلے اِس طرح تولنے کی عادت پَڑجائے کہ یہ بات جو میں کرنا چاہتا ہوں اس میں کوئی دینی یا دُنْیَوِی فائدہ بھی ہے یا نہیں؟(انمول ہیرے ، ص 12)

(10)جیسے والدین کو اپنا “ کماؤ پُتَّر “ اچھا لگتا ہے ایسے ہی جو مُرید دین کا زیادہ کام کرتا ہو اور دین پر عمل (بھی) کرتا ہو وہ پیر کو زیادہ اچّھا لگے گا۔ (مَدَنی مذاکرہ ، 18 ذوالقعدۃ الحرام 1435)

(11)سب سے پہلا جھوٹ شیطان نے بولا ، اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّوَجَلَّ  ہم اس شیطانی کام سے بچیں گے اور جھوٹ کے خلاف جنگ! جاری رکھیں گے۔ (مَدَنی مذاکرہ ، 4ذوالحجۃ الحرام 1435)

(12)ہمیں موت کو یاد کر کے بے چینی نہیں ہوتی یہ ہماری غَفْلت کا نتیجہ ہے ، غَفْلت میں ڈالنے والے کاموں سے بچنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔ (مَدَنی مذاکرہ ، 10 ذوالحجۃ الحرام 1435)

Share

Articles

Comments


Security Code