علمائے کرام، شخصیات ،اِسلامی بھائیوں اور اِسلامی بہنوں کے تأثرات

علمائےکرام اور دیگر شخصیات کے تاثرات(اقتباسات)

(1)مولانامحمد فیاض احمد سعیدی رضوی (دار الافتاء الجامعۃ السعید گلزار مدینہ، علی پور، مظفر گڑھ): ماہنامہ فیضان مدینہ موصول ہوا جس کے مضامین کا مطالعہ باعث تسکین خاطر ہوا۔(2)استاذالعلماء مولانا محمد رمضان ضیاء الباروی (ناظم تعلیمات، جامعۃ الاسلامیہ خیر المعاد،مدینۃ الاولیاءملتان،پنجاب):”ماہنامہ فیضان مدینہ“  کی اشاعت پر آپ اور جملہ اراکین (اسلامی بھائیوں) کو مبارک ہو۔ (3)مولاناابو بلال محمد سیف علی سیالوی (ناظم اعلیٰ جامعہ کنزالایمان ہرسہ شیخ، چمنِ عطار،(چنیوٹ،پنجاب)): ”ماہنامہ فیضان مدینہ“  کا شمارہ باصرہ نواز ہوا،بہت اچھا اِقدام ہے، مَاشَآءَ اللہ رسالہ ظاہری خوبصورتی کے ساتھ ساتھ علمی طور پر بڑا مفید ہے، مضامین کے عنوانات بڑے اَچھوتے، حوالہ جات بڑے مفصل۔ تعزیت و عیادت والا کالم بھی بہت خوب ہے روشن مستقبل بڑا ضروری کالم ہے یہ ضرور جاری رکھا جائے۔ ماحولیات پر بھی دو تین مقالے شاملِ اشاعت ہیں جن کی قدم بَقَدم لمحہ بہ لمحہ ضرورت ہے۔(4)مفتی  محمد حیات باروی (جامعہ عثمانیہ غوثیہ رضویہ، شور کوٹ ضلع جھنگ)”ماہنامہ فیضان مدینہ“ مکمل پڑھا ، اس سے قبل کئی رسالے اور ماہنامے پڑھے اور دیکھے لیکن اس جیسا کسی کو نہیں پایا۔ (5)قاری الطاف حسین  سلطانی ( مہتمم جامعہ سراج و جامعہ صدیقیہ للبنات کرم پور، وہاڑی) ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ موصول ہو ا، پڑھ کر بے حد خوشی ہوئی ۔ تمام مضامین ایک سے بڑھ کرایک سبق آموز اور زندگی بدل دینے والے ہیں۔(6)خواجہ محمد اعجاز اشرف(پنڈ دادنخان، ضلع جہلم): ”ماہنامہ فیضان مدینہ“میں شامل مضامین نہایت عمدہ، پُر مغز اور فکر انگیز ہیں، جبکہ ڈیزائننگ، طباعت اور اُسلوبِ ترتیب شاندار اور مَعیاری ہے”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ کے اِس شمارہ کو عالَم اسلام سے شائع ہونے والے جرائد کے مقابلے میں فخر سے رکھا جا سکتا ہے۔  (7)نیاز احمد مالیگ (U.K): آپ کے مؤقر جریدے کے شمارہ نمبر 2 کی زیارت سے مشرف ہوا۔ واہ! خوب، سُبْحَانَ اللہ ، مَاشَآءَ اللہ ، برادر زادہ محمد اجمل مالیگ کی وساطت اس کے دیدار سے دل مسرور ہوا۔ واقعی بہت زبر دست کام ہورہا ہے۔(8)مرزا محمد اطہر بیگ (جنرل سیکٹری ڈسٹری بیوٹر سانگھڑ سندھ):”ماہنامہ فیضان مدینہ“ پڑھنے کی سعادت حاصل ہورہی ہے اور اس کے ذریعے معلومات میں اضافہ ہورہا ہے۔

اسلامی بھائیوں کے تاثرات

(9)مبارک کے مستحق  دعوت اسلامی کے امیر  اور نگران شوری  اور ”ماہنامہ فیضان مدینہ“ کی مجلس  جس نے ایسا شمارا شائع کیا۔(حبیب احمد عطاری ، مسلم آباد ، باب المدینہ کراچی )

(10)”ماہنامہ  فیضان مدینہ“ بہت زبردست اور معلومات سے بھر پور ہے۔اس کے سلسلے ”نوجوانوں کے مسائل“ ”اسلامی بہنوں کے شرعی مسائل“  اور ”امیر اہل سنت کی بعض مصروفیات“ بہت پسند آئے۔(حافظ توقیر الحسن عطاری، شیخو پورہ،پنجاب)

اسلامی بہنوں کے تاثرات (اقتباسات)

(11)”ماہنامہ فیضان مدینہ“میں موجود مختلف موضوعات ہر طبقے کے افرادکیلئے دلچسپی کاباعث ہیں۔ پہلی ہی نشست میں مکمل پڑھ لیا اَلۡحَمۡدُللہ عَزَّوَجَلَّ ۔ (اُمِّ رضا عطاریہ مرکزالاولیا،  لاہور) (12)”ماہنامہ فیضان مدینہ“ علم دین حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ایسے جیسے کوزے میں سمندر۔ لوگوں کو دعوت اسلامی سے وابستہ کرنے کا بہترین ذریعہ ہے (اُمِّ ربیع عطاریہ باب المدینہ کراچی) (13)”ماہنامہ فیضان مدینہ“ دعوت اسلامی کی بہت اچھی کاوش ہے مدنی مذاکرہ کی جھلک بھی بہت زبردست ہے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ دعوت اسلامی کو مزید برکتیں اور عروج عطا فرمائے۔آمین(اُمِّ عمر رضا عطاریہ)(14)دعوتِ اسلامی  نے ایک اور قدم اٹھایا ہے ۔ پیپر میڈیا میں  یہ بھی اُمت کا بہترین مصلح ثابت ہو گا ۔ بالخصوص جو پبلک  پرنٹ میڈیا سے وابستہ ہے ان کے لئے بہت معلوماتی ہوگا۔(بنت نور محمد  عطاریہ ، کندی ضلع عمر کوٹ  باب ال؛اسلام ، سندھ)

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات

مفتی ابوالحسن فُضَیل رضا عطاری

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ رمضان المبارک موسم گرما میں آرہا ہے، کیا سالانہ امتحانات کی وجہ سے طلبا کا رمضان کے فرض روزے قضا کرنا جائز ہے؟ نیز جو والدین بچوں کے اس فعل سے راضی ہوں یا خود روزے چھڑوائیں ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟سائلہ:بنتِ اکبر عطاریہ (پشاور)

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

ہر عاقل و بالغ مسلمان پر رمضان کا روزہ فرض ہے، بلا عذرِ شرعی اس کا چھوڑنا گناہ ہے اور سالانہ امتحانات یا گرمی شرعاً فرض روزہ چھوڑنے کا قابلِ قبول عذر نہیں ہیں لہٰذا بالغ طلبا تو بیان کردہ اعذار کی بنا پر فرض روزہ چھوڑنے پر گنہگار ہوں گے ہی ان کے والدین بھی اگر بلا عذرِ شرعی روزہ چھڑوائیں گے یا چھوڑنے پر باوجودِ قدرت پوچھ گچھ نہ کریں گے تو وہ بھی گناہگار  ہوں گے۔

طالبِ علم کے نابالغ ہونے کی صورت میں اگرچہ اس  پر روزہ فرض نہیں ہے اور بے عذر چھوڑے بھی تو گنہگار نہ ہوگا لیکن جب سات سال کے بچے کو روزہ رکھنے کی طاقت ہو تو والدین پر لازم ہے کہ اسے روزہ کا حکم دیں اور گیارہویں سال کے بعد والدین پر واجب ہے کہ روزہ چھوڑنے پر بچے کو سزا دیں لہٰذا سات سال یا اس سے بڑے نابالغ بچے کو والدین اسی وقت روزہ چھڑوا سکتے ہیں جب کہ روزہ کی وجہ سے اسے ضرر کا اندیشہ ہو ورنہ بلا عذرِ شرعی چھڑائیں گے یا اس کے چھوڑنے پر  خاموش رہیں گے تو واجب ترک کرنے کی بنا پر گنہگار ہوں گے۔وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہُ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ سنا ہے کہ ہاتھ جوڑ کر دعا مانگنی چاہیے کہ اس سے رحمت اور برکت بھر جاتی ہے اور اگر ہاتھ پھیلا دئیے تو رحمت اور برکت نہیں آتی، کیا یہ درست ہے نیز دعا کا صحیح طریقہ بتادیں؟ اگر دعا کے دوران ہاتھوں پر کپڑا ہو تو درست ہے؟سائل:بنتِ محمد منشا،(شیخوپورہ)

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

دُعاکرتے وقت دونوں ہاتھوں کے درمیان فاصلہ رکھناافضل ہے اگرچہ تھوڑاہی فاصلہ ہو،لیکن اگرکوئی دونوں ہاتھوں کو ملا کر دُعا کرے تواس بھی حرج نہیں۔البتہ دُعامیں دونوں ہاتھوں کو ملا کر یاپھیلاکررکھنے کے حوالہ سےآپ نے جوکچھ سُنااس کا ثبوت نہیں ایسا کہنا درست نہیں ہے اوردُعاکے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ ہاتھ کپڑے وغیرہ سے چُھپے ہوئے نہ ہوں۔امامِ اہلِ سنّت سے سوال ہواکہ ہاتھ ملا کر دُعا چاہئے یا علیحدہ علیحدہ کرے؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشادفرمایا:”دونوں ہاتھوں میں کچھ فاصلہ ہو۔“ (فتاویٰ رضویہ،ج6، ص328)فضائلِ دُعا میں رَئِیسُ الْمُتَکَلِّمِیْن مولانانقی علی خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن دُعاکے آداب ذکرکرتے ہوئے فرماتے ہیں:”ہاتھ کھلے رکھے،کپڑے وغیرہ سے پوشیدہ نہ ہوں۔“ (فضائلِ دعا،ص76 مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہُ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

Share

Comments


Security Code