شوگر (diabetes)

شوگر(Diabetes)

کاشف شہزاد عطاری مدنی

مبلغِ دعوتِ اسلامی مفتی محمد امین عطاریعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْبَارِی خدمتِ دین کا جذبہ رکھنے والے ایک متحرک (Active) عالمِ دین تھے۔درس و تدریس اور افتانویسی کے علاوہ سنتوں بھرے بیانات بھی فرماتے تھے۔دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران حضرت مولانا عمران عطاری مدظلہ العالی نےبھی آپ سے علمِ دین حاصل کیا۔آپ شوگرکے مریض تھے لیکن آپ کو اس کا علم نہ تھااوراسی مرض کے باعث 18ذوالقعدۃ الحرام 1426ھ بروزمنگل بمطابق20 دسمبر2005ء کو دنیائے فانی سے رخصت ہوگئے۔وفات سے 3دن پہلے گلا سوکھنے کی وجہ سے کافی مقدار میں گنے کا رس وغیرہ استعمال کیا لیکن افاقہ نہ ہوا۔ چیک اپ کروایاتومعلوم ہواکہ شوگر700سے تجاوز کرچکی تھی۔آپ کو انتہائی نگہداشت کے وارڈ (ICU)میں منتقل كرديا گیا ،آپ نےوہیں اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کردی۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ذیابیطس جسے عرفِ عام میں شوگر کہا جاتا ہے ایک حساس مرض ہے ۔بسا اوقات اس میں مبتلا شخص کو بھی علم نہیں ہوتا کہ مجھے شوگر ہو چکی ہے۔یہ لاعلمی یا علم ہونےکےباوجودبے احتیاطی بعض اوقات بڑے نقصان کا سبب بن جاتی ہے۔

ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد

عالمی ادارۂ صحت (WHO)کی رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیامیں ذیابیطس (Diabetes)کے رجسٹرڈمریضوں کی تعداد30 کروڑ سے زائد  جبکہ پاکستان میں 70 لاکھ سے زائد ہے۔دنیا میں ہر سال ذیابیطس اور اس کے متعلقہ امراض سے لگ بھگ 49لاکھ لوگ موت کا شکار ہوتے ہیں۔

ذیابیطس کیا ہے؟

خون میں شوگر کی مقدار کا معمول سے زیادہ یا کم ہوجانا ذیابیطس کہلاتا ہے البتہ زیادہ ترمریضوں کو شوگر کی مقدار بڑھ جانے کی بیماری لاحق ہوتی ہے۔خالی پیٹ(نہار منہ)چیک کروانے کی صورت میں شوگر کی مقدار 80 سے 120 تک جبکہ کھانےکےبعدچیک کروائیں تو 120 تا 180 نارمل ہے۔ خون میں شوگر کی مقدار مذکورہ اعداد (Figures) سے بڑھ جانا خطرے کا باعث بن سکتاہے۔اس معاملے میں مختلف لیبارٹریوں(Laboratories) کے نتائج میں کچھ نہ کچھ فرق بھی ہو سکتا ہے۔

ذیابیطس کا ظاہری سبب

 خون میں شوگر کی مقدار بڑھ جانا اور لبلبے(Pancreas) سے بننے والی انسولین کی مقدار کم یابالکل ختم ہوجاناذیابیطس کاظاہری سبب ہے۔

شوگر کی علامات

کثرت سے پیشاب آنا٭معمول سے زیادہ پیاس لگنا٭تیزی سے وزن کم ہونا٭ کمزوری اور بھوک کا احساس٭مزاج میں چڑچڑاپن ٭بینائی میں دھندلاہٹ ٭زخم یا خراش کا جلدی نہ بھرنا٭پاؤں میں سنسناہٹ(ایسا محسوس ہونا کہ جیسے پاؤں پر چیونٹیاں چل رہی ہوں) وغیرہ۔یاد رکھئے!ان علامات میں سے ایک یا بعض کے پائے جانے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ شوگر کے مریض ہیں البتہ فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرکے چیک اپ کروا لیناچاہیے۔

مدنی مشورہ

 یہ علامات آپ میں موجود ہوں یا نہ ہوں شوگر کا ٹیسٹ ضرور کروالیجئے۔

 کوئی مرض لاعلاج نہیں

 مدینے کے سلطانصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ صحت نشان ہے: لِكُلِّ دَاءٍدَوَاءٌیعنی ہربیماری کی دوا ہے۔(مُسلِم،ص1210، حدیث 2204)میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یقینا بڑھاپے اور موت کے سوا کوئی بیماری ایسی نہیں جس کی دوا نہ ہو، ہاں یہ بات ضرور ہے کہ کئی اَمراض کا علاج اَطِبّا (Doctors) اب تک دریافت نہیں کر پائے۔ شوگرکی بیماری بھی انہی امراض میں سے ہے جن کا مکمل علاج تادمِ تحریر دریافت نہیں ہو سکا۔ ڈاکٹرز کا تجربہ بتاتا ہے کہ  ایک باریہ مرض لاحق ہوجانے پر عمر بھر دوا کا استعمال خوراک کی طرح ضروری ہو جاتا ہے۔اگر شوگر کا مریض خوراک  میں مکمل احتیاط ، دوا کا باقاعدگی سے استعمال اور ورزش کا معمول بنالے تو شوگر کے نقصانات کم سے کم ہو سکتے ہیں۔

مدنی مشورہ

 شوگر یا کسی بھی مرض کی تَشۡخِیۡص کی صورت میںSecond Opinion ضرور لیں یعنی کسی دوسرے ڈاکٹر سے دوسری لیبارٹری کی رپورٹ کے ذریعےمرض کی تصدیق کروا لیں۔

پیدل چلنے کا معمول بنائیے

 شوگر کے مریض کو چاہیے کہ روزانہ تیس منٹ پیدل چلنے کا معمول بنائے۔ پہلے 10منٹ آہستہ، اس کے بعد10منٹ تیزاور آخری10منٹ پھر آہستہ چلیں نیز شوگر چیک کرنے کاآلہ(Gluco meter) اپنے گھر میں رکھ لیں اور وقتاً فوقتاً شوگر لیول چیک کرتے رہیں۔

 ان چیزوں سےپرہیز کیجئے

 بیکری کی بنی ہوئی اشیاء(Bakery Items)، مٹھاس والی اشیاء مثلاًشربت،بند ڈبوں والے پھل، گنا، کولڈ ڈرنک، پُڈِنگ،شکر(چینی) آئس کریم، شکرقندی، انجیر، گُڑ وغیرہ۔

 کم مقدار میں ضرورتاً استعمال کیجئے

 چاول، کینو، موسمبی، مالٹا، مرغی، انڈہ، آلو، بیسن، آم(چھوٹا)،تلی ہوئی اشیاء، مٹر، چقندر، شلجم، گاجر، امرود، روٹی، دالیں، فالسہ، جامن، چیکو، بغیر چربی کا گوشت، کھانے کا تیل اور گھی، پنیر، شریفہ،  بُھٹہ، مارجرین مکھن، کیلا، دلیہ، آڑو،آلو بخارا، پپیتا، خوبانی، تربوز، بغیر بالائی کے دودھ دہی، نوڈلز،مچھلی، سیب، خربوزہ وغیرہ۔

مفید غذائیں

کریلا، اروی، کدو، سلاد، توری،ہری مرچ، مولی، بھنڈی، بندگوبھی، پھول گوبھی، بینگن،ہری اور سوکھی پیاز، ککڑی، کھیرا، لیموں وغیرہ۔

 توجہ فرمائیے

 شوگر کے مریضوں کو عموماً بلڈ پریشر (Blood Pressure) کا مرض بھی  ہوجاتا ہےاس لئے مذکورہ اشیاء کے استعمال سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور فرما لیجئے کیونکہ بعض غذائیں شوگر کے لئے مفید جبکہ بلڈ پریشر والے کے لئے نقصان دہ ہوتی ہیں۔

نا سمجھ بیمار کو اَمْرَت بھی زہر آمیزہے

سچ یہی ہے سَو دوا کی اِک دوا پرہیز ہے

شوگر کا روحانی علاج

﴿وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَ جَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا(۸۰)(پ15،بنی اسرائیل:80) روزانہ صبح و شام اوپر دی ہوئی آیتِ مبارَکہ تین بار (اول آخرایک بار دُرود شریف ) پڑھ کر پانی پر دم کر کے پی لیجئے (تاحُصُولِ شِفاء)

شوگر کے گھریلو علاج

٭خشک سونف اور خشک آملہ ہم وزن پیس کر باریک چھان لیجئے،اب  اس پر 313 بار دُرودِ پاک پڑھ کر دم کر کے رکھ لیجئے اور اندازاً چھ چھ ماشہ(6 گرام)تا حُصولِ شِفاء روزانہ صبح و شام تازہ یا مٹکے کے پانی سے استِعمال کیجئے۔اِن شآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے شوگر کم کرنے کا بہترین عِلاج پائیں گے ٭روزانہ صبح وشام کریلے کا رَس ایک ایک چمَّچ پی لیں اِن شآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ شوگر کی بیماری میں حیرت انگیز فائدہ ہو گا ٭بڑی الائچی کے اندر سے دانے نکال کر (تا حُصُولِ شِفاء) روزانہ صبح و شام پانچ پانچ دانے چبا کر نگل لیجئے اِن شاءَاللہ عَزَّوَجَلَّ بَہُت فائدہ ہو گا۔(گھریلو علاج، ص64)٭ میتھی دانے دَردَرے (یعنی موٹے موٹے) پسے ہوئے 20 گرام روزانہ کھانے سے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ صرف دس دن کے اندر ہی پیشاب اور خون میں شُوگر کی مقدار کم ہو جائے گی ٭شوگر کے تناسب سے میتھی دانوں کا استعمال روزانہ 100 گرام تک بھی کیا جا سکتا ہے ٭لو(Low) شو گر کے مریض میتھی استعمال نہ کریں۔(میتھی کے 50مدنی پھول، ص5 تا 6ملتقطاً)

 شوگر سے متعلق امیرِ اہلِ سنت کے متفرق مدنی پھول

جس کووُسعت ہو وہ چائے میں چینی کے بجائے شہد استعمال کرے۔ ٭ٹھنڈی بوتلوں(Cold Drinks) اور آئسکریم کے شائِقین عام طور پر شوگر کے مریض بن جاتے ہیں۔لوگ شایدٹھنڈی بوتلوں کوبے ضَررسمجھتے ہوں گے حالانکہ 250 ملی لیٹرکی ایک ٹھنڈی بوتل میں تقریباً سات چمَّچ چینی ہوتی ہے، اور آئِسکریم تو اچّھا خاصہ”شُوگر بم“ہے۔ وزْن دار آدمی کو توٹھنڈی بوتل اور آئِسکریم کی طرف دیکھنا بھی نہیں چاہئے کہ یہ اس کے حق میں میٹھا زَہرہے ٭کولڈڈرنک چینی والی ہو یا ”شوگرفری“ دونوں ہی صورَتوں  میں صحّتِ انسانی کے لئے نقصان دِہ ہے ۔

ہاتھ سے کھانے کے طبی فوائد

 ڈاکٹروں نے اِعتراف کیا ہے کہ جو لوگ ہاتھ سے کھاتے ہیں ان کی اُنگلیوں سے ایک خاص قسم کی”ہاضِم رُطُوبت“نِکل کر کھانے میں شامل ہوجاتی ہے جو جسم ميں انسولین(Insulin)کم نہیں ہونے دیتی اور اِس سے شوگر کے مریضوں کو فائِدہ ہوتا ہے،پھر کھانے کے بعد اُنگلیاں چاٹنے سے مزيدہاضِم رُطُوبَت پَیٹ میں داخِل ہوتی ہے جو آنکھوں، دِماغ او رمِعدہ کیلئے بے حد مفید ہے اور یہ دِل، معِدہ اور دماغی اَمراض کا زبردست عِلاج ہے۔(فیضانِ سنت، ص247)

جسمانی مریضوں کو اللہ شفا دیدے

اچھا ہے فقط وہ جو بیمارِ مدینہ ہے

(وسائلِ بخشش،ص492)

Share

Articles

Comments


Security Code