بہو کو کیسا ہونا چاہئے؟(قسط:2)

گزشتہ سے پیوستہ

(7)بہو کو چاہئے کہ گھر کے افراد کے آپسی جھگڑے میں فریق نہ بنے، بلکہ جہاں ممکن ہو حکمت عملی سے غیرجانبدار رہ کر صلح کی کوشش کرے کہ  قراٰنِ پاک میں مسلمانوں کے درمیان صُلْح کروانے کا حکم دیا گیا ہے۔ (پارہ26، الحجرات:10)صلح کروانے سے جہاں بارگاہِ الٰہی سے ثواب کی دولت ملے گی وہیں اہلِ خانہ کی جانب سے  عزّت افزائی بھی  نصیب ہوگی۔ (8)ایک کا راز دوسرے کو بتاکر ہمدردبننے کی کوشش نہ کرے، مثلاً ساس کی کمیٹی(بیسی) کھلی ہے تو سسر کو بتا کر ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرنا، یا ایک نند کا راز دوسری کو بتا کر اچھی بننا اپنا ہی مستقبل خراب کرنا ہے  کہ پول بالآخر کھل ہی جاتا ہے۔(9)جہیز اگرچہ بہو کی ملکیت ہوتاہے، لیکن اگر سسرال کے چولہے اور توے پر اِس کا کھانا تیار ہوسکتاہے تو بہو کو بھی اپنے جہیز کے کپ میں چائے پیش کرنے میں تنگ دل نہیں ہونا چاہئے، سسرال کی ہر چیز کو استعمال کرتے رہنا اور اپنے سامان کو ہوا نہ لگنے دینا بھی بعض اوقات گھریلو جھگڑوں کا سبب بن جاتا ہے۔(10)گھر کا سکون برباد کرنے میں سب سے زیادہ کردار” گھر کی  باتیں باہر کرنے، سسرال والوں کی غیبت و چُ م جنوری  کرتے ہوئےال کریں۔ گا  رحمن غلی کرنے اور اُن کی شکایات میکے میں کرنے“ کا ہے،  اس طرح غیبتوں، تہمتوں ، چغلیوں اور دل آزاریوں وغیرہ طرح طرح کے گناہوں کا بہت بڑادروازہ کھل جاتاہے جس سے آخرت تو خراب ہوتی ہی ہے بارہا دنیا میں یہ آفت آتی ہے کہ گھر ٹوٹ جاتا ہے۔لہٰذابہو پر لازم ہے کہ غیبت،چغلی اور اِلزام تراشی جیسی مہلک بیماریوں سے بچی رہے۔ (11)ساس کسی  وجہ سے پریشان ہو تو اُس کی دلجوئی کرے کہ اِس سے باہمی تعلقات خوشگوار ہونے کے ساتھ ساتھ ثواب کا خزانہ بھی ہاتھ آئے گا چنانچہ حدیث مبارکہ میں ہے:جو کسی غمزدہ شخص سے تعزیت کر ے گا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اُسے تقوٰی کا لباس پہنائے گا اور رُوحو ں کے درمِیان اس کی رُوح پر رَحمت فرمائے گا اور جو کسی مصیبت زدہ سے تعزیت کریگا اللہ عَزَّوَجَلَّ  اُسے جنّت کے جوڑوں میں سے دوایسے جوڑے پہنائے گا جن کی قیمت (ساری)دنیا بھی نہیں ہوسکتی۔(معجم الاوسط،ج6،ص429، حدیث:9292) (12)بہو کو چاہئےکہ گھر کے ا فراد سے حسبِ مرتبہ تعظیم سے بات کرے، یہ اس کی عزت و وقار میں اضافہ کرےگا۔ توتکار سے بات کرنا اور کسی کے سخت یا نامناسب لہجے  کے جواب میں ”اینٹ کے جواب میں پتھر“ مارنے  کا مصداق بننا قطعاً درست نہیں۔ نرمی اور برداشت  کس طرح گھریلو ماحول میں مٹھاس بھرتی ہے اِس کا اندازہ اس حکایت سے لگائیے فرضی حکایت کوثر  کی اپنی ساس کے ساتھ اکثر نوک جھوک لگی رہتی تھی، ساس کسی نہ کسی بات پر اعتراض کردیتی اور کوثر جواب دینے لگتی  یوں توتکار کا سلسلہ  دراز ہوجاتا، ایک دن کوثر نے اپنے  بھانجے عمیر کو محلے کی مسجد کے امام صاحب کے پاس تعویذ لینے کے لئے بھیجا کہ میری ساس ہر وقت مجھ سےلڑتی رہتی ہے کوئی اچھا سا تعویذ دے دیں۔امام صاحب عالمِ دین اور سمجھدار بزرگ شخصیت تھے، سارا معاملہ سمجھ گئے۔ انہوں نے عمیر کو ایک تعویذ بنا کردیا اور کہا کہ اپنی خالہ سے کہنا یہ تعویذ سنبھال کر رکھیں جب بھی اُن کا ساس سے جھگڑا ہو تو اسے  داڑھ کے نیچے خوب دبائے۔ کوثر نے ایسا ہی کیا، ابھی چند ہی دن گزرے ہوں گے کہ گھر کا ماحول بدلنے لگااور ساس بہو میں محبت بڑھنے لگی، کوثر نےامام صاحب کا شکریہ ادا کرنے کےلئے عمیر کو اُن کے پاس بھیجا تو انہوں نے کہا: بیٹا! مسئلہ تعویذ کا نہیں تھا بلکہ اس کی زبان کا تھا، جب اس کی زبان مقابلہ کرتی تھی تو لڑائی بڑھتی تھی، اس نے خاموشی اپنا لی تو گھر امن کا گہوارہ بن گیا۔

Share

Articles

Comments


Security Code