اسلام ہی مدارِ نجات ہے

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿ اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ۫-ترجمہ:بیشک اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔(پ3،اٰل عمرٰن:19)

تفسیر:

اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ تمام لوگوں کا خالق، مالک ، رازق اور پالنے والا ہے خواہ وہ کسی بھی دین و مذہب سے تعلق رکھنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ نے سب کو پیدا کیا، وہی سب کو رزق دیتا اور سبھی کو حیات  اور لوازمات ِ حیات عطا فرماتا  ہے۔یہ سب سلسلہ ٔ تکوین یا آسان الفاظ میں نظامِ کائنات  ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو جانوروں کی طرح صرف کھانے، پینے اور خواہشات پوری کرنے کےلئے  پیدا نہیں فرمایا بلکہ ان کے لئے ایک خاص مقصد ِ حیات متعین فرمایا ہے، اس لئے  انہیں بغیر ہدایت کے نہیں چھوڑا بلکہ حقیقی کامیاب زندگی گزارنے، مقصد ِ حیات کو پورا کرنے اور بارگاہِ الٰہی میں سرخ رُو ہونے کےلئے انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ذریعے اسلام کی صورت میں ہمیشہ ایک بہترین طریقہ عطا فرمایا ہے اور اس سلسلۂ ہدایت کو اپنے آخری نبی حضرت محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر مکمل فرمادیا۔ اب انہی کی نبوت کا دور ہے اور انہی کی پیروی میں نجات ہے اوراللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں معتبر صرف یہی دین ’’ اسلام‘‘ ہے جیسا کہ درج بالا آیت میں بیان ہوا ہے۔ مزید تفہیم کےلئے اسی بات کو کچھ تفصیل سے بیان کیا جاتا ہے:

 (1)اگرچہ ہر نبی کا دین اسلام ہی تھا لیکن اب اسلام سے مراد صرف وہ دین ہے جسے آخری نبی حضرت محمد مصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم لے کر آئے ہیں۔(2)ہمارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا دین ِ اسلام ہی وہ آخری دین ہے جو قیامت تک باقی رہے گا اورجسے اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کےلئے حتمی ،فیصلہ کُن اور کامل دین قرار دیا ہے اور یہی اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین ہے، ارشاد فرمایا:﴿ اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاؕ  ﴾

ترجمہ:آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور میں نے تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔ (پ6،المآئدہ:3) (3)اس  دین ِاسلام کے علاوہ کوئی دوسرا دین اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہر گز مقبول نہیں خواہ وہ بت پرستی،آتش پرستی، مَظاہر پرستی کا دین ہو یا کوئی آسمانی کہلانے والا دین،جیسا کہ ارشاد فرمایا: ﴿ وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْهُۚ-وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ(۸۵)

ترجمہ :اور جو کوئی اسلام کے علاوہ کوئی اوردین چاہے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔(پ3،اٰل عمران:85)(4)ہمارےنبی حضرت محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قیامت تک تمام انسانوں کے لئے اللہ تعالیٰ کے آخری رسول ہیں اور آخرت کی کامیابی، جہنم سے چھٹکارااورجنت کے حصول کی قطعی شرط اب نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ایمان لانا ہے،جیساکہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی جان ہے! اس اُمّت میں سے جو آدمی بھی خواہ وہ یہودی ہو یا عیسائی، میری نبوت کی خبر سنے، پھر وہ اس شریعت پر ایمان لائے بغیر مر جائے جسے دے کر مجھے بھیجا گیا ہے تو وہ جہنمی ہے۔ (مسلم،ص82، حدیث: 386) (5) جو دین ِاسلام پر نہیں یا اِس دین پر تھا اور پھر چھوڑ دیا ان کےلئے اللہ تعالیٰ نے اپنا فیصلہ قرآن میں انتہائی واضح، صاف،صریح،غیرمبہم الفاظ میں ایک آدھ جگہ نہیں بلکہ سینکڑوں جگہ بیان فرما دیا ہے کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ماننے والے یعنی مسلمان ہی نجات پانے والے ہیں اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے منکر خواہ مشرک ہوں یا مرتد یا دیگر اَدیان کے پیروکار وہ سب بلا شک و شبہ جہنمی ہیں۔ ارشاد فرمایا: ﴿ وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَیَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓىٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(۲۱۷)

ترجمہ:اور تم میں جو کوئی اپنے دین سے مرتد ہو جائےپھرکافرہی مرجائےتوان لوگوں کےتمام اعمال دنیا و آخرت میں برباد ہوگئے اور وہ دوزخ والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔(پ2، البقرہ:217)

قرآن و حدیث کی قطعی تعلیمات و تصریحات کی روشنی میں درج ذیل عقائد ہمارے دین کے بنیادی عقائد ہیں:

(1)اِسلام ہی آخری، مقبول اور نجات دلانے والا دین ہے۔ (2)اِسلام کے علاوہ کسی دوسرے دین کی پیروی کرنا خدا کی بارگاہ میں مقبول نہیں  خواہ وہ سابقہ آسمانی دین ہو یا کفر و شرک کا کوئی اور دین۔(3)کوئی شخص عبادات و اخلاقیات کی باتوں پر جتنا چاہے عمل کرلے جب تک وہ مکمل طور پر بطورِ عقیدہ اسلام کو اختیار نہیں کرے گا تب تک آخرت کے ثواب کا مستحق نہیں، ہاں دنیا میں اسے اچھے اعمال کا بدلہ مل سکتا ہے۔ (4)اللہتعالیٰ کے اِن فیصلوں کو ماننافرض ہے اوراِن سےکسی طرح رُوگردانی کی اجازت نہیں۔اللہ ہمیں اسلام پر اِستقامت عطا فرمائے اور حالتِ ایمان میں عافیت کی موت   نصیب فرمائے،اٰمین۔

Share