موبائل اکاؤنٹ(Mobile Account)

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک کمپنی نے یہ اسکیم (Scheme) بنائی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے موبائل میں اکاؤنٹ (Account) بنا لیتا ہے اور پھر ریٹیلر کے ذریعے اپنے اکاؤنٹ میں کم از کم 1000 روپیہ جمع کروا دے اور ایک دن گزر جائے تو کمپنی اس شخص کو مخصوص تعداد میں فری منٹس(Free Minutes) دے دیتی ہے، اس اکاؤنٹ کے کھلوانے کے لئے کوئی فارم وغیرہ فِل(Fill) نہیں کرنا پڑتا اور فری منٹس ملنا اس شرط کے ساتھ مشروط ہوتا ہے کہ اکاؤنٹ میں کم از کم 1000روپیہ جمع رہیں جیسے ہی ایک روپیہ اس مقدار سے کم ہوگا تو یہ سہولت ختم ہوجائے گی۔ موبائل اکاؤنٹ میں ایک سہولت یہ بھی ہے کہ اپنے اس اکاؤنٹ کے ذریعے رقم ٹرانسفر بھی کی جاسکتی ہے اور اس صورت میں ریٹیلر(Retailer) کے ذریعے بھیجنے کی نسبت 22 فیصد کم پیسے لگیں گے اور اس سہولت کے لئے پہلے سے کوئی رقم ہونا ضروری نہیں ہے جس وقت رقم بھیجنی ہے اسی وقت وہ رقم ساتھ میں ٹیکس ڈلوا کر ٹرانسفر کر دیں تو ٹرانسفر ہو جائے گی۔ ٹیکس سے مراد ٹرانسفر کی فیس ہے اور اکاؤنٹ بنانے پربھی کسی قسم کا کوئی پیسہ نہیں لگے گا اور اس صورت میں فری منٹس وغیرہ کوئی سہولت بھی نہیں ملے گی جبکہ رقم ایک دن جمع نہ رکھیں بلکہ اسی دن کے اندر ٹرانسفر کر دیں۔اس اکاؤنٹ میں ایک سہولت یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعے یوٹیلٹی بل(Utility Bill) بھی جمع کروایا جا سکتا ہے اور یہ بل جمع کروانے کے لئے بھی کوئی رقم اکاؤنٹ میں ہونا ضروری نہیں اور اس جمع کروانے پر کوئی ٹیکس بھی نہیں لگے گا اور اس صورت میں فری منٹس وغیرہ کوئی سہولت بھی نہیں ملے گی جبکہ رقم ایک دن جمع نہ رکھیں بلکہ اسی دن کے اندر ٹرانسفر کر دیں۔

شرعی رہنمائی فرمائیں کہ (1)اس طرح کا اکاؤنٹ کھلوا کر فری منٹس لینا جائز ہے یا نہیں؟ اور جو ریٹیلر رقم جمع کرتا ہے اس کے لئے کیا حکم ہے؟ (2)اگر کوئی اس ارادے سے اکاؤنٹ کھلوائے کہ میں فری منٹس نہیں لوں گا فقط رقم ٹرانسفر کرنے یا بل جمع کروانے کے لئے رقم جمع کرواؤں گا اور اسی وقت ہی رقم ٹرانسفر کردوں گا یا بل جمع کروادوں گا ایک دن گزرنے ہی نہیں پائے گا تو کیا اس طرح اکاؤنٹ کھلوانا شرعاً جائز ہے؟ (3)اور اگر کسی نے اکاؤنٹ کھلوا لیا ہے کیا وہ اس اکاؤنٹ کو اس نیت سے باقی رکھ سکتا ہے کہ وہ ایک دن تک رقم جمع نہیں رہنے دے گا بلکہ فقط رقم ٹرانسفر کرنے یا بل جمع کروانے کے لئے رقم جمع کروا کر اسی وقت رقم ٹرانسفر کر دے گا یا بل جمع کروا دے گا؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

(1)ہزار روپے اکاؤنٹ میں جمع کروانے کے بدلے جو فری منٹس ملتے ہیں وہ سود اور حرام ہیں، لہٰذا اتنی یا اس سے زائد رقم مذکورہ طریقے پر جمع رکھنا ناجائز و حرام ہے اور جو ریٹیلر جمع کرے گا وہ بھی گنہگار ہے کہ گناہ کے کام پر مدد کر رہا ہے۔

تفصیل اس میں یہ ہے کہ جمع کروائے جانے والے 1000 روپے نہ امانت ہیں اور نہ تحفہ (ہبہ) بلکہ قرض ہیں۔ تحفہ اس لئے نہیں کہ تحفہ کہتے ہیں کسی چیز کا دوسرے کو بلا عوض مالک کر دینا۔ جبکہ اس صورت میں مقصود اسے مالک کرنا نہیں ہوتا، مالک کرنا مقصود ہوتا تو پیسے واپس نہ لئے جاتے۔ دُرَر میں ہے: ترجمہ:ہبہ نام ہے کسی عین کا بغیر عوض مالک کر دینا۔(درر شرح غرر،ج 2، ص217)

اور امانت اس لئے نہیں کہ امانت والے پیسوں کو خرچ نہیں کر سکتے بلکہ بعینہ وہی رقم واپس کرنی ہوتی ہے جبکہ یہاں جمع کروائی گئی رقم کو کمپنی استعمال کرتی رہتی ہے اور واپسی میں اس کی مثل رقم دیتی ہے اور یہی قرض ہے۔ یہ بات یاد رہے کہ قرض ہونے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ قرض کا لفظ ہی استعمال کیا جائے، بلکہ اگر قرض کا لفظ استعمال نہ کیا لیکن مقصود وہی ہے جو قرض سے ہوتا ہے تو وہ قرض ہی ہوگا، کیونکہ عقود (خرید و فروخت) میں اعتبار معانی کا ہوتا ہے۔ بدائع الصنائع میں ہے: ترجمہ:جب اس کو مضاربت([1])نہیں بنا سکتے ہیں تو وہ قرض ہوجائے گا کیونکہ یہ قرض کے معنی میں ہے اور عقود میں ان کے معانی کا اعتبار ہوتا ہے۔(بدائع الصنائع،ج6، ص86،بیروت)

اور قرض کی تعریف تنویر الابصار میں یوں بیان کی گئی ہے۔ ترجمہ:قرض وہ عقدِ مخصوص ہے جس میں مثلی مال(قدر و قیمت میں اسی  جیسا  مال) دیا جاتا ہے اس لئے کہ اس کا مثل واپس کیا جائے۔(در مختار،ج7، ص406-407،کوئٹہ)فتاویٰ رضویہ میں ہے: ”زرِامانت (امانت کے مال) میں اس کو تصرف حرام ہے۔“(فتاویٰ رضویہ،ج19،ص166،لاہور)اوراس رقم کو جمع کروانے کے بدلے میں حاصل ہونے والی رقم، فری منٹس اور ایس، ایم، ایس، سب قرض سے حاصل ہونے والے مَنافِع ہیں اور جو مَنافِع قرض سے حاصل ہوتے ہیں وہ سود ہوتے ہیں۔ حدیثِ پاک میں ہے: ترجمہ: رسولُاللہعَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ہر وہ قرض جو نفع کھینچے تو وہ سود ہے۔(مسند الحارث،ج1، ص500، المدینۃ المنورۃ)

گناہ پر مدد کرنے سے قراٰنِ پاک میں منع کیا گیا ہے چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے:﴿وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- ترجمۂ کنز الایمان:اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو۔(پ 6، المآئدۃ:2)

(2)اگر کوئی اکاؤنٹ صرف رقم ٹرانسفر کرنے یا بل جمع کروانے کے لئے کھلوائے اور ایک دن رقم جمع نہ رہنے دے تو اس کے باوجود اکاؤنٹ کھلوانا جائز نہیں کیونکہ جب یہ بات معروف ہے کہ اکاؤنٹ کھلوانے کے بعد اگر ایک دن رقم جمع رہی تو فری منٹس ملیں گے تو اب اکاؤنٹ کھلوانے والا گویا یہ اقرار و پیمان کر رہا ہے کہ اگر میں نے ایک دن رقم جمع رہنے دی تو فری منٹس لوں گا اور یہ اقرار و پیمان ہی ناجائز ہے اگرچہ بعد میں ایک دن رقم جمع نہ رہنے دے۔ فتاویٰ رضویہ میں ہے: ملازمت بلا اطلاع چھوڑ کر چلا جانا اس وقت تنخواہ قطع کرے گا نہ تنخواہ ِواجب شدہ کو ساقط اور اس پرکسی تاوان (جرمانہ) کی شرط کر لینی مثلاً نوکری چھوڑنا چاہے تو اتنے دنوں پہلے سے اطلاع دے، ورنہ اتنی تنخواہ ضبط ہوگی یہ سب باطل و خلافِ شرعِ  مُطَہَّر ہے، پھر اگر اس قسم کی شرطیں عقدِ اجارہ میں (ملازمت کا معاہدہ کرتے وقت) لگائی گئیں جیسا کہ بیانِ سوال سے ظاہر ہے کہ وقتِ ملازمت ان قواعد پر دستخط لے لئے جاتے ہیں، یا ایسے شرائط وہاں مشہور و معلوم ہو کر اَلْمَعْرُوْفُ کَالمَشْرُوْطِ ہوں، جب تو وہ نوکری ہی ناجائز و گناہ ہے، کہ شرطِ فاسد سے اجارہ فاسد ہوا، اور عقدِ فاسد حرام ہے۔ اور دونوں عاقِد (معاہدہ کرنے والے) مُبْتَلائے گناہ، اور ان میں ہر ایک پر اس کا فسخ (ختم کرنا) واجب ہے، اور اس صورت میں ملازمین تنخواہِ مقرر کے مستحق نہ ہوں گے، بلکہ اجرِ مثل (یعنی عام طور پر بازار میں اس کام کی جو اجرت ہے اُتنی ہی اجرت)کے جو مُشاہرہ مُعَیَّنہ (طے شدہ  اجرت) سے زائد نہ ہوں، اجرِ مثل اگر مُسَمّٰی سے کم ہو تو اس قدر خود ہی کم پائیں گے، اگرچہ خلاف ورزی اصلاً نہ کریں۔“(فتاویٰ رضویہ،ج19، ص506-507، رضافاؤنڈیشن، لاہور)

(3)اُوپر واضح ہوچکا کہ یہ اکاؤنٹ کھلوانا جائز نہیں ہے اگرچہ رقم ایک دن جمع نہ رہنے دے کیونکہ اس میں ایک ناجائز معاہدہ موجود ہے اور ناجائز معاہدہ جس طرح ابتداءً کرنا جائز نہیں اسی طرح اس ناجائز معاہدے کو برقرار رکھنابھی جائز نہیں ہوتا لہٰذا جس نے اکاؤنٹ کھلوا لیا ہے اس پر لازم ہے کہ یہ اکاؤنٹ ختم کرے۔ جیسا کہ اُوپر فتاویٰ رضویہ کے جزئیہ میں امامِ اَہلِ سنّت عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ نے ناجائز شرط کی وجہ سے جب عقد کو ناجائز قرار دیا تو بعد میں اس کے فسخ کرنے کو لازم قرار دیا ہے۔وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہُ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

الجواب صحیح

محمد ہاشم خان

العطاری المدنی

کتبــــــــہ

المتخصص فی الفقہ الاسلامی

محمدعرفان مدنی

01ربیع الاول1438ھ/01دسمبر2016ء



[1] ۔۔ایک جانب سے مال ہو اور ایک جانب سے کام(بہار شریعت،ج3، ص1)

Share

موبائل اکاؤنٹ(Mobile Account)

حضورنبیِّ رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ نے مسلمان کے مسلمان پر 6 حقوق ارشاد فرمائے ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب وہ تم سے خیرخواہی چاہےتوتم اس کی خیرخواہی کرو۔ (صحیح مسلم،ص919،حدیث:5651،ملتقطا)اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: ہر فردِ اسلام کی خیر خواہی ہر مسلمان پر فرض ہے (اور فرماتے ہیں:) دل سے خیر خواہی مطلقاً فرضِ عین ہےاور وقتِ حاجت دُعا سے امداد واعانت بھی ہر مسلمان کو چاہئے کہ اس سے کوئی عاجز نہیں اور مال یا اعمال سے اعانت فرض کفایہ ہے۔ایک جگہ ارشاد فرماتے ہیں:مسلمانوں کی خیرخواہی ہرمسلمان کا حق ہے۔(فتاوی رضویہ،ج14، ص174۔ج16، ص243)

تجارت میں خیرخواہی کی صورتوں میں سے ایک  یہ بھی ہے کہ گاہک کی مجبوری سے فائدہ نہ اٹھایا جائے  بلکہ رعایت کرتے ہوئے سستے داموں میں چیز دے دی جائے۔ بعض ہول سیلرز سے اگر نقد  پر مال خریدیں تو وہ کم قیمت پر دیتے ہیں لیکن اگر ادھارپر خریدیں تووہ زیادہ  قیمت پر دیتے ہیں، یہ عمل اگرچہ جائز ہےلیکن اگر خیرخواہی کرتے ہوئے کسی ضرورت مند گاہک کو ادھار میں بھی نقد والی قیمت پر مال دیا جائے تو اِنْ شَاءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ گاہک کے دل کی دعائیں نصیب ہوں گی۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّ  وَجَلَّ  ماہِ رمضان کی آمد آمد ہے،ماہِ صیام کے آتے ہی لوگوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے والے گراں فروش (مہنگابیچنے والے)متحرک ہوجاتے ہیں  اور روزمرہ کے استعمال کی اشیا مثلاً آٹا، گھی، چینی، دالوں، کھجوروں، پھلوں اورسبزیوں وغیرہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں بلکہ بعض اوقات تو گاہک کی غفلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ناقص اور خراب چیزیں بھی بیچ دی جاتی ہیں  اور رحمتوں اور برکتوں والے مہینے میں اپنے مسلمان بھائیوں کو بجائے فائدے کے الٹا نقصان پہنچایا جاتا ہے۔یونہی عید کاموقع آتا ہے، کپڑے، جوتے وغیرہ مہنگے کردئیے جاتے ہیں۔ گویاہمارا یہ ذہن بن گیاہے کہ ملک و قوم کا خواہ کتنا ہی خسارہ ہوجائے، مسلمان بھائی کتنا ہی مالی بدحالی کا شکار ہوجائے مگر میری دولت میں اضافہ ہونا چاہئے۔

جیسا کرو گے ویسا بھروگے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ ایک حقیقت ہے کہ جوکسی کے ساتھ بھلائی  کرتاہے اس کے ساتھ بھی بھلائی والا معاملہ کیاجاتاہے جبکہ دوسروں کو نقصان پہنچانے والے کو اپنے ساتھ اسی قسم کے سلوک کے  لئے تیار رہنا چاہئے۔ حضور نبیِّ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:اَ لْبِرُّ لا یَبْلَی وَالاِ ثْمُ لا یُنْسَی وَالدَّیَّانُ لَایَمُوتُ فَکُنْ کَمَا شِئْتَ کَمَا تَدِینُ تُدَانُ یعنی نیکی پرُانی نہیں ہوتی اور گناہ بھلایا نہیں جاتا ، جزا دینے والا (یعنی اللہعَزَّوَجَلَّ)کبھی فنانہیں ہوگا، لہٰذا جو چاہو بن جاؤ، تم جیسا کروگے ویسا بھروگے۔“(مصنف عبدالرزاق،ج10، ص189،حدیث: 20430)حضرت علّامہ عبدُالرؤف مَناوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباری ’’کَمَا تَدِینُ تُدَانُ‘‘ کی وضاحت میں لکھتے ہیں: یعنی جیسا تم کام کرو گے ویسا تمہیں اس کا بدلہ ملے گا،جو تم کسی کے ساتھ کرو گے وہی تمہارے ساتھ ہوگا۔(التیسیر ،ج2، ص222)

اللہ عَزَّ  وَجَلَّہمیں لوگوں کے لئے نقصان دہ نہ بنائے بلکہ فائدہ دینے والے عظیم لوگوں میں شامل فرمائےاور ہمیں ایسا جذبہ عطافرمائے کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کی خیرخواہی کے لئے ہردم کوشاں رہیں۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ

Share

موبائل اکاؤنٹ(Mobile Account)

گزشتہ سے پیوستہ

حکایت

ایک بار بصرہ میں ریشمی کپڑا مہنگا ہوگیا ، حضرت یُونُس بن عُبَیْدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو اس بات کا علم ہوا تو آپ نے ایک شخص سے 30 ہزار درہم کا ریشمی کپڑا خریدا اورخریدنے  کے بعد بیچنے والے سے پوچھا:کیا تمہیں معلوم  ہے کہ فلاں فلاں جگہ مال مہنگا ہوگیا ہے؟اس نے کہا: نہیں ، اگر مجھے پتا ہوتا تو میں نہ بیچتا۔یہ سن کر آپ نے فرمایا: اپنا مال لے لو اور میری رقم مجھے واپس دے دو،چنانچہ اس نے 30 ہزار درہم لوٹا دئیے۔(سیراعلام النبلاء،ج6، ص464)یہ آپ کی اس شخص کے ساتھ بھلائی تھی کہ ریشمی کپڑے  کےمہنگا ہونے کا بتادیا جبکہ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ بھی ہیں جو لاعلمی سے فائدہ اٹھا کر قیمت بڑھ جانے کی بات دل میں چھپائے رکھتے اور یوں چند سکّوں کی خاطر آخرت کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔

حکایت

ایک مرتبہ ایک عورت ریشم کی مُنَقَّش چادربیچنے کے لئے لائی،آپ نے پوچھا: کتنے میں بیچو گی؟اس نے کہا:60 درہم میں،آپ نے وہ چادر پڑوسی دکاندار کو دکھائی اور اس کی رائے طلب کی تو اس نے کہا:یہ120درہم کی ہے۔آپ نے فرمایا: میرے خیال میں بھی اس کی اتنی ہی قیمت ہے،پھر عورت سے فرمایا:جاؤ اور اپنے گھر والوں سےچادر کو 125 درہم میں  بیچنے  کامشورہ کرکے آؤ،اس نے کہا:میرے گھر والوں نے مجھے 60 درہم میں  بیچنے کا کہا ہے،آپ نے پھر فرمایا: جاؤ،گھروالوں سےمشورہ کرکے آؤ۔(سیراعلام النبلاء،ج6، ص462) یعنی جب آپ نے دیکھا کہ یہ عورت چادر کی اصل قیمت نہیں مانگ رہی تو آپ نے اس کی خیر خواہی کے پیش نظر اصل قیمت سے بھی کچھ بڑھا کر دینے کی پیش کش کی۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بزرگانِ دین کی سیرت کا مطالعہ کیا جائے تو ان کی شخصیت میں خیر خواہی کا وصف نمایاں طور پر نظر آتا ہے،جبکہ ہمارا معاملہ اس کےبرعکس ہے،ہمارے  معاشرے میں  اگر کوئی پیشہ اختیار کرنےکےارادے سے کسی سے مدد طلب کرنے آئے تو وہ اپنے پیشے کے متعلق معلومات دینےمیں  بخل سے کام لیتا ہے۔فی زمانہ لوگوں کی حالت ناقابلِ بیان ہوچکی ہے،خیر خواہی تو  دور کی بات ہے، اب تولوگ دوسروں کے لاکھوں بلکہ کروڑوں روپے ہڑپ کرجاتے ہیں اور ڈکار تک نہیں لیتے۔آج ہمارے معاشرے میں دھوکہ دہی اتنی عام ہوچکی ہے کہ کسی کے ساتھ لین دین کا معاملہ کرنے اور اپنی رقم لگانے(Invest کرنے)سے ڈر ہی لگتا ہے۔ اس  بے اعتمادی کی بڑی وجہ خود اس کے  ماضی کے تجربات یا مشاہدات ہوتے ہیں۔ایک بزرگ فرماتے ہیں:”لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آیا تھا جس میں آدمی بازار میں داخل ہو کر (بازار والوں سے)پوچھتا:تمہارے خیال میں مجھے کس کے ساتھ معاملہ کرنا چاہئے؟تواس سے کہا جاتا: جس سے چاہو معاملہ کرلو۔پھر وہ زمانہ آیا   جس میں یہ جواب ملتا:جس سے چاہو معاملہ کرلو مگر فلاں فلاں شخص سے نہ کرنا،اس کے بعد وہ زمانہ آیا جس میں کہا جاتا :فلاں فلاں شخص کے سوا کسی سے معاملہ نہ کرنا اور اب میں ایسے زمانے کے آنے سے ڈرتا ہوں جس میں یہ لوگ بھی  رخصت ہوجائیں۔‘‘اس فرمان کو ذکر کرنے کے بعد امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی فرماتے ہیں: جس چیز کے ہونے  کا ان بزرگ  کو ڈر تھا گویا اب وہ ہوچکی ہے(یعنی اب ایسے لوگ اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں) اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ(احیاء العلوم،ج2، ص111، اتحاف السادۃ المتقین،ج6، ص437)

غورکیجئے!امام غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیکےزمانےیعنی پانچویں صدی ہجری کے آخرمیں آج سےتقریباً 900 سال پہلےیہ معاملہ تھااوراب توجوحالت ہے وہ بیان سےباہر ہے۔

Share

موبائل اکاؤنٹ(Mobile Account)

”تجارت“کَسْبِ حلال  کابہت  ہی نَفْع بخش(Profit able) ذریعہ،روزمَرَّہ کی ضروریات کوپوراکرنےاور اچھی زندگی بسر کرنےکا اَہم ترین وسیلہ ہے۔تجارت کے فوائد پانے کیلئے اِن اصولوں پرعمل کیجئے اِنْ شَآءَاللہعَزَّ  وَجَلَّکامیابی قدم چومے گی۔

 اچھی اچھی نیتیں  کیجئے

کسی  کام کو  شروع کرنے  سے پہلےاس کےمقصد اور”نیت“کا تَعَیُّن بنیادی حیثیت رکھتاہےلہٰذا تِجارت شروع کرنے سے پہلے اَہل وعَیال کی کَفالت ،دین  کی مالی خدمت، کاروباری مُعاملات میں دِیانت سے کام لینے کی نیتیں کیجئے کہ اس طرح یہ تجارت ثواب کا ذریعہ بن جائے گی۔

ماہر تاجروں سے مشورہ  کیجئے

حدیثِ پاک میں ہے: جو کسی کام کا اِرادہ کرے پھر اُس کے بارے میں کسی  مسلمان سے مشورہ کرے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُسے دُرُست کام کی توفیق عطا فرماتا ہے۔ (معجم اوسط،ج 6، ص152، حدیث: 8333) لہٰذا تِجارت کےاُصولوں سے واقف، عقلمند، مخلص اور مذہبی ذِہن رکھنے والے  کسی تاجِر سے مُشاوَرت کیجئے اورممکن ہو تواُس کے مشوروں پرعمل کیجئے۔ البتہ نقصان ہونے کی صورت میں مشورہ دینے والے کے بارے میں بَدگمانی اورغیبت جیسے کبیرہ گناہوں سے خودکولازمی بچائیے۔

تجارت كے ضروری  احکام سیکھئے

مفتی امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِیفرماتے ہیں: جب تک خَریدو فَروخت کے مسائل معلوم نہ ہوں کہ کون سی بَیع(خریدو فروخت) جائز ہے اور کون  سی ناجائز،اس وقت تک تجارت نہ کرے۔(بہارِ شریعت،ج3، ص478) لہٰذا حلال كمانےاورحرام سے بچنے کیلئےکاروبار کےضروری مسائل سیکھئے، دورانِ تجارت بھی کوئی مسئلہ دَرپیش ہوتوفوراً دعوتِ اسلامی کے شعبے ”دَارُالاِفتا ء اہل سنت“ سے شَرْعی راہنمائی لیجئے۔

جائز کاروبار شروع کیجئے

ایسی تجارت شروع کیجئے جوشریعت میں جائز ہوکیونکہ حرام ذریعے سے حاصل ہونے والا مال بَرَکت سے خالی  اور دنیاو آخرت کے وَبال کا سبب ہوتا ہے جیسا کہ امام مُحْیِ الدّین ابنِ عربی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں: کھایا جانے والا لقمہ اگر حرام ہوتو حرام، مکروہ ہوتومکروہ  اورمُباح ہوتومُباح کاموں کاسبب بنتا ہے۔ (تفسیرابن عربی،ج۱، ص۱۱۴ملخصاً)

آغاز میں اِحتیاطاً كم سرمایہ لگائیے

ابتداءً بڑا کاروبار کرنےکی غَرَض سے بھاری رقم بطورِ قرض (Loan)  نہ لیجئے  کہ خدانخواستہ ناکامی کی صورت میں نُقصان  بھی بڑا ہوسکتا ہے بلکہ مِلْکِیَّت میں جو مناسب رقم موجودہو اس سے تجارت شروع کیجئے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اِنْ شَآءَاللہعَزَّوَجَلَّ بڑے تاجر بن جائیں گے۔حضرت عبدالرحمٰن بن عَوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہجرت کے بعد مدینے کے بازار میں پَنِیر،  گھی اور کَھال کا کاروبار کرتے تھے،  کچھ ہی عرصے کی جمع پُونجی سے شادی كرلی اوررَفتہ رَفتہ اتنی  برکت ہوئی کہ ان کا سامانِ تجارت سات سو اونٹوں پرآتا تھا۔(اسد الغابہ،ج3، ص498ملخصاً)

 ناکامی پردل چھوٹا نہ کیجئے

 پہلے سے یہ  ذہن بنائیے کہ تجارت میں نَفْع نقصان ہوتارہتا ہے۔ فائدےکی صورت میں شکرِ الٰہی بجالائیے اور نُقصان پر دل بَرداشتہ ہوکر پیچھےہٹنے کے بجائے صبرسے کام لیجئے اورہمت و لگن سے کوشش  جاری رکھئےاِنْ شَآءَ اللہعَزَّ  وَجَلَّ ایک دن ضرور کامیاب ہوں گے۔

جس چیز کی مانگ(Demand) ہو اس کی تجارت  کیجئے

کاروبار شروع کرنے سے پہلے مقامی لوگوں کے مالی حالات،موسِم اور وقت کوملحوظ رکھئے۔ موسمِ سَرما میں گرمی کے مَلبوسات و مَشروبات بیچنا اورصُبْح کے وقت ناشتہ کے بجائے باربی کیو (Bar B.Q) لگانا عقل کے خِلاف ہے۔

شَراکَت (Partnership) کیجئے

تجارت کا ارادہ ہے مگرتَجْرِبَہ (Experience)، زیادہ سرمایہ یا تجارتی مُعاملات کیلئے وقت  نہیں تو کوئی دیانتدار شخص تلاش کرکے  شَراکَت  پر کاروبار شروع کیجئے اور شریعت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے دھوکہ دَہی، بددیانتی اور حق تَلَفی  سے بچئے، طَرفَین کے طے شُدہ مُعاہَدوں کولکھ کر محفوظ رکھئے تاکہ  جھگڑے کی نَوبَت نہ آئے ۔

Share