سب سے پہلا جھوٹ شیطان نے بولا/صبر کا ذہن بنانے کا طریقہ/بولنے سے پہلے تولنا

شیخِ طریقت امیرِ اَہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں:

(1)اگر ہر اسلامی بھائی روزانہ کسی نہ کسی ایک بے نمازی پر انفرادی کوشش کر کے اُسے نمازی بنانے میں کامیاب ہوجائے تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہماری مساجد بھر جائیں۔(18 ذوالحجۃ الحرام 1436 کی تحریر سے لیا گیا)

(2)ظاہِری و باطِنی آداب کے ساتھ نماز ادا کرنا بہت بڑی سعادَت کی بات ہے۔(مَدَنی مذاکرہ، 20 شوال المکرم 1435)

(3)”دعوتِ اسلامی“ ایک پُر اَمْن تحریک ہے، اس کی جنگ شیطان سے ہے اور شیطان کے خلاف جنگ! جاری رہے گی۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ(مَدَنی مذاکرہ، 30 ذوالقعدۃ الحرام 1435)

(4)آپ کا کام منوانا نہیں پہنچانا ہے نیکی کی دعوت پہنچا کر اپنا ثواب کھرا کرتے رہیں۔(18 ذوالحجۃ الحرام 1436 کی تحریر سے لیا گیا)

(5)والِدین اپنی اولاد پر یہ ظاہر نہ کریں کہ ہم اپنے فُلاں بیٹے یا بیٹی سے زیادہ مَحَبَّت کرتے ہیں، ورنہ دیگر بچّے احساسِ کمتری کا شکار ہوں گے اور یہ اُن کیلئے باعثِ ہلاکت ہوسکتا ہے۔مَدَنی مذاکرہ، 18 ذوالقعدۃ الحرام 1435 بتغیرِِ)

(6)صَبْر کا ذِہن بنانے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اپنے سے بڑھ کر مصیبت زدہ کے بارے میں غور کیا جائے اس طرح اپنی مصیبت ہلکی محسوس ہوگی اور (اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ) صَبْر کرنا آسان ہوگا۔(خود کُشی کا علاج، ص 34)

(7)جس طرح پھل دار درخت کے نیچے کھڑے ہو کر صِرف پھل کھانے کا ارادہ کرنا کافی نہیں بلکہ درخت سے پھل توڑنا اور بھوک مٹانے یا لذّت پانے کیلئے منہ میں ڈالنا اور حسبِ ضرورت کھانا بھی ضروری ہے، اسی طرح مدنی کام فقط چاہنے سے ہی نہیں بلکہ کرنے سے ہوں گے۔(مَدَنی مذاکرہ، 4 ذوالحجۃ الحرام 1435 بتغیرِِ)

(8)عِلْمی شخصیت (اور) داڑھی و عمامے والے (افراد) کو زیادہ محتاط ہونا چاہیے کہ یہ ”سفید چادر“ کی مانند ہیں اور سفید چادر پر ”کالا داغ“ زیادہ واضح نظر آتا ہے۔(مَدَنی مذاکرہ، 8 ذوالحجۃ الحرام 1435)

(9)کاش! بولنے سے پہلے اِس طرح تولنے کی عادت پَڑجائے کہ یہ بات جو میں کرنا چاہتا ہوں اس میں کوئی دینی یا دُنْیَوِی فائدہ بھی ہے یا نہیں؟(انمول ہیرے، ص 12)

(10)جیسے والدین کو اپنا ”کماؤ پُتَّر“ اچھا لگتا ہے ایسے ہی جو مُرید دین کا زیادہ کام کرتا ہو اور دین پر عمل (بھی) کرتا ہو وہ پیر کو زیادہ اچّھا لگے گا۔(مَدَنی مذاکرہ، 18 ذوالقعدۃ الحرام 1435)

(11)سب سے پہلا جھوٹ شیطان نے بولا، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہم اس شیطانی کام سے بچیں گے اور جھوٹ کے خلاف جنگ! جاری رکھیں گے۔(مَدَنی مذاکرہ، 4ذوالحجۃ الحرام 1435)

(12)ہمیں موت کو یاد کر کے بے چینی نہیں ہوتی یہ ہماری غَفْلت کا نتیجہ ہے، غَفْلت میں ڈالنے والے کاموں سے بچنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔(مَدَنی مذاکرہ، 10 ذوالحجۃ الحرام 1435)

Share

Articles

Comments


Security Code