یہ کیسے کھلتا کہ ان کے سوا شفیع نہیں/برقِ انگشتِ نبی چمکی تھی اُس پر ایک بار

اس عنوان کے تحت بزرگانِ دین کے اشعار کے مطالب ومعانی بیان کرنے کی کوشش ہو گی۔

ابو الحسان عطاری مدنی

 

یہ کیسے کھلتا کہ انکے سِوا شفیع نہیں

عَبَث نہ اوروں کے آگے تَپِیدہ ہونا تھا

(حدائقِ بخشش،ص64)

الفاظ ومعانی تَپِیدہ:بے چین۔عَبَث:بے کار۔

شرح کلامِ رضا قیامت کے دن شفاعت کبریٰ کیلئے  لوگ مختلف انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی خدمات میں حاضر ہونے کے بعدوہاں سے محروم ہوکر آخر کار پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہِ بے کس پناہ میں حاضر ی دیں گے اور شفاعت کی التجا پیش کریں گے،سرکارِ نامدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَبارگاہِ خداوندی میں عرض معروض کریں گے اور پھر شفاعت کا سلسلہ شروع ہوگا۔لوگ اگر اوَّلاً ہی آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور سلسلہ ٔ شفاعت کا آغاز ہو جاتا تو کوئی کہہ سکتا تھا کہ اگر ہم کسی اورنبی کے پاس جاتے تووہ بھی شَفاعت فرمالیتے۔دیگر بارگاہوں سے ہونے کے بعد آخر میں بارگاہِ محمدی میں آنے سے یہ ظاہر ہوگیا کہ روزِ قیامت شَفاعتِ کبری ٰ کا مرتبہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ خاص ہے اور شَفاعت کا دروازہ آپ ہی کھولیں گے۔

مفتی امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:قیامت کے دن مرتبۂ شفاعتِ کُبریٰ حضور(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ) کے خَصائص (یعنی خصوصیات)سے ہے کہ جب تک حضورفتحِ بابِ شفاعت(یعنی شفاعت کاآغاز) نہ فرمائیں گے کسی کومجالِ شفاعت نہ ہوگی،بلکہ حقیقۃً جتنے شفاعت کرنیوالے ہیں حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ)کے دربارمیں شفاعت لائیں گے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کےحضورمخلوقات میں صرف حضور(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ) شفیع ہیں۔(بہارِ شریعت،ج1، ص70)اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہنے ارشادفرمایا:اللہ تعالٰی اپنی حکمتِ کامِلہ کے مطابق لوگوں کے دلوں میں ڈالے گا کہ پہلے اور انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس جائیں اور وہاں سے محروم پھر کران کی خدمت میں حاضر آئیں تاکہ سب جان لیں کہ منصبِ شفاعت اسی سرکار کا خاصّہ ہے،دوسرے کی مجال نہیں کہ اس کا دروازہ کھول سکے۔(فتاویٰ رضویہ،ج29، ص575)

برقِ اَنْگشْتِ نبی چمکی تھی اُس پر ایک بار

آج تک ہے سیِنۂ مَہ میں نِشانِ سوختہ

(حدائقِ بخشش،ص136)

الفاظ ومعانی برق:بجلی۔ اَنْگشْت:انگلی۔ مَہ:چاند۔ نِشانِ سوختہ: جلنے کا نشان۔

شرح کلامِ رضا:پیارے آقاصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَنے ایک مرتبہ اپنی مبارک انگلی سے چاند کی طرف اشارہ فرما کر اسے دو ٹکڑے فرمادیا تھا ، اس کا نشان آج تک چاندپر موجود ہے۔برق(بجلی) کی مناسبت سے اسی کو جلنے کے نشان سے تشبیہ دی گئی ہے۔حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ اہلِ مکہ نے  سرکارِنامدارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَسے معجزہ دکھانے کا مطالبہ کیا۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَنے انہیں چاند کے دوٹکڑے کرکے دکھائے حتیّٰ کہ اُنہوں نے حِراء (پہاڑ) کو ان دونوں ٹکڑوں کے درمیان دیکھا۔(بخاری،ج2، ص579،حدیث:3868) شَقُّ الْقَمَر (چاند کے ٹکڑے کرنے)کے معجزے کا بیان اس آیتِ مبارکہ میں بھی  موجود ہے:﴿ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ(۱)ترجمۂ کنز الایمان:پاس آئی قیامت اور شق ہوگیا چاند۔(پ27، القمر:1)

چاند دوٹکڑے ہو کر تَصَدُّق ہوا

دشمنِ مصطَفٰے دیکھتے رہ گئے

Share