<span></span>

کوفہ(عراق) وہ مبارک شہر ہےجسےستّر اصحابِِ بدراوربیعتِ رضوان میں شریک تین سوصحابۂ  کرام  نےشرفِ قیام بخشا۔ (طبقات کبریٰ،ج 6، ص89)آسمانِ ہدایت کے ان چمکتے دمکتے ستاروں نے کوفہ کو علم وعرفان کاعظیم مرکزبنایا۔اسی اہمیت کے پیش نظر اِسے کنز الایمان(ایمان کا خزانہ)اورقبۃُ الاسلام(اسلام کی نشانی) جیسے عظیم الشان القابات سے نوازا گیا۔جب80ہجری میں امامِ اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی ولادت ہوئی تو اس وقت شہر کوفہ  میں  ایسی  ایسی ہستیاں موجود تھیں   جن میں  ہر ایک آسمان ِ علم  پر آفتاب بن کرایک عالم کو منوّر کررہا تھا۔(طبقات کبریٰ،ج6، ص86، اخبارابی حنیفۃ،ص17) امامِ اعظم کانام نُعمان اور کُنْیَت ابُوحنیفہ ہے۔آپ نے ابتداء میں  قراٰن پاک حفظ کیاپھر 4000 علما و محدّثین کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام سے علمِ دین حاصل کرتے کرتے ایسے جلیل القدرفقیہ و محدِّث بن گئے کہ  ہر طرف آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے چرچے ہو گئے۔ (تھذیب الاسماء،2/501، المناقب للکردری،ج1، ص37تا53، عقودالجمان، ص187) آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےصَحابۂ کِرام  عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی ایک جماعت سے  مُلاقات کا شَرَف حاصل فرمایا، جن میں سے حضرت  سیّدنا انس بن مالک،حضرت سیّدناعبداللہ بن اوفیٰ، حضرت سیّدنا سہل بن سعد ساعدی اور حضرت سیّدنا ابوالطفیل عامر بن واصلہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا نام سرفہرست ہے۔ یوں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو تابعی ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔ (شرح مسند ابی حنیفۃ لملاعلی قاری، ص581ملخصاً)

حکایت

 امام اعظمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں: 96 ہجری کو 16سال کی عمرمیں والدگرامی (حضرت ثابت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ)کے ساتھ حج کیا، اس دوران میں نے ایک شیخ کو دیکھا جن کے ارد گرد لو گ جمع تھے،میں نے والدِمحترم سے عرض کی:یہ ہستی کون ہے؟ انھوں  نے بتایا:یہ صحابی رسول حضرت عبد اللہ بن حارث بن جزءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  ہیں۔میں نے عرض کی: ان کے پاس  کون سی چیز ہے؟ فرمایا: ان کے پاس نبیِّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سنی ہوئی احادیث ِمبارکہ ہیں۔ یہ سُن کر آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہآگے بڑھے اورصحابی ٔ رسول سے براہِ راست ایک حدیث پاک سننے کا شرف حاصل کیا۔(اخبار ابی حنیفۃ واصحابہ، ص18)

قابل رشک اوصاف

اللہ عَزَّ وَجَلَّنےآپ کو ظاہری و باطنی حسن  وجمال  سے نوازا تھا۔ آپ کاقَد دَرمیانہ اور چہرہ نہایت حسین  تھا۔ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہعمدہ لباس اور جوتے استعمال فرماتے، کثرت سے خوشبو استعمال فرماتےاوریہی خوشبو آپ کی تشریف آوری کا پتہ دیتی۔ آپ کی زبان ِ مبارک سے ادا ہونے والے کلمات پھول کی پتیوں سے زیادہ نرم ہوتے اورلفظوں کی مٹھاس کانوں میں رَس گھول  دیتی، آپ کو کبھی غیبت کرتے نہیں سنا گیا۔

حکایت

 ایک مرتبہ حضرت ابن ِ مبارک رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے حَضْرتِ سیِّدُنا سُفْیان ثوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِیسےآپ کے اِس وصف  کا تذکرہ یوں کیا: امامِ اعظم ابُوحنیفہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ غیبت سےاتنےدُور رہتے ہیں کہ میں نے کبھی ان کو دُشْمن کی غیبت کرتے ہوئے بھی نہیں سُنا۔ (اخبار ابی حنیفۃ واصحابہ،ص:42) آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  رضائےالٰہی کو ہر شئی پر ترجیح دیتے۔ (تہذیب الاسماء، ج2، ص503، 506، اخبار ابی حنیفۃ واصحابہ، ص42) آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہعلماو مشائخ کی اعانت پر زرِّ کثیر خرچ فرماتے۔ (اخبار ابی حنیفۃ واصحابہ،ص 42)

آپ  کے جلیل القدر شاگرد امام ابوىوسفرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:امام اعظمرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ20سال تک مىری اور مىرے اہل و عىال کى کفالت فرماتے رہے۔ (الخیرات الحسان ، ص 57)آپ کسى کو کچھ عطا فرماتے اور وہ اس پر آپ کا شکریہ ادا کرتا تو اس سے فرماتے:اللہعَزَّ وَجَلَّ کا شکرادا کرو کیونکہ یہ رزق اللہ عَزَّوَجَلَّنےتمہارےلئےبھیجاہے۔ (الخیرات الحسان ، ص 57)امامِ اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہزہدوتقویٰ کےجامع،والدہ کے فرمانبردار، امانت و دیانت میں یکتا، پڑوسیوں سےحسنِ سلوک میں بے مثال تھے،بےنظیر سخاوت اورمسلمانوں  کے ساتھ ہمدردی وخیرخواہی جیسےکئی اوصاف نے آپ کی ذات کونمایاں کردیاتھا۔(اخبار الامام اعظم ابی حنیفہ،ص41تا 49،63،تبییض الصحیفۃ، ص131) آپ کے حسن  اخلاق سے متعلق حَضْرت بُکَیْر بن مَعْرُوْفرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتےہیں:میں نےاُمَّتِ مصطفےٰ میں امام ابُو حنیفہ سے زیادہ حُسْنِ اَخْلاق والا کسی کو نہیں دیکھا۔ (الخیرات الحسان، ص56)

حکایت

 حضرت سیِّدُنا شفیق بلخیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُنا امامِ اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے ساتھ جا رہا تھا کہ ایک شخص آپ کو دیکھ کر چُھپ گیا اور دوسرا راستہ اختیار کیا۔ جب آپ کو معلوم ہوا تو آپ نے اسے پُکارا، وہ آیا تو پوچھا کہ تم نےراستہ کیوں بدل دیا؟ اور کیوں چھپ گئے؟ اس نےعرض کی:میں آپ کا مقروض ہوں، میں نے آپ کو دس ہزار درہم دینے ہیں جس کو کافی عرصہ گزر چکا ہے اور میں تنگدست ہوں، آپ سے شرماتا ہوں۔ امام اعظمرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: میری وجہ سے تمہاری یہ حالت ہے، جاؤ! میں نے سارا قرض تمہیں معاف کر دیا۔(الخیرات الحسان، ص 57)

عبادت و ریاضت

 امام ِاعظم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْاَکرَم  دن بھر علمِ دین کی اِشاعت، ساری رات عبادت ورِیاضت میں بَسرفرماتے۔آپ نے مسلسل تیس سال روزے رکھے،تیس سال تک ایک رَکعَت میں قراٰنِ پاک خَتْم کرتے رہے، چالیس سال تک عِشا کے وُضُو سے فجر کی نَماز ادا کی، ہر دن اور رات میں  قراٰن پاک ختم فرماتے، رمضان المبارک میں 62قراٰن ختم فرماتے اور جس مقام پر آپ کی وفات ہوئی اُس مقام پر آپ نے سات ہزاربار قراٰنِ پاک خَتْم کئے۔(الخیرات الحسان، ص50)آپ نے 1500 درہم خرچ کرکے ایک قیمتی لباس سلوا رکھا تھاجسے آپ روزانہ رات کے وقت زیبِ تن فرماتے اور اس کی حکمت یہ ارشاد فرماتے: اللہعَزَّ وَجَلَّ کے لئے زِینت اختیار کرنا، لوگوں کے لئے زِینت اختیار کرنے سے بہتر ہے۔(تفسیرروح البیان ،ج3، ص154)رات میں ادا کی جانے والی اِن نمازوں میں خوب اشک باری فرماتے،اس گریہ و زاری کا اثر آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے چہرۂ مبارکہ پر واضح نظر آتا۔ (اخبارابی حنیفۃ واصحابہ،ص47،الخیرات الحسان،ص54)

ذریعۂ معاش

 آپ نے حُصُولِ رزقِ حلَال کے لئے تجارت کا پیشہ اختیار فرمایا اور لوگوں سے بھلائی اورشَرعی اُصُولوں کی پاسداری کاعملی مظاہرہ کرکےقیامت تک کےتاجروں کے لئے ایک روشن مثال قائم فرمائی۔(تاریخ بغداد،ج 13،ص356) علمِ فقہ  کی تدوین، ابوابِِ فقہ کی ترتیب اور دنیا بھر میں  فقہ حنفی کی پذیرائی  آپ کی امتیازی خصوصیات میں شامل ہے۔(الخیرات الحسان،ص 43)

وصال  ومدفن

 150 ہجری  کو عہدۂ قضا قبول نہ کرنے کی پاداش میں آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  کو زہر دے کر شہید کردیا گیا۔ آپ  کے جنازے میں تقریبا ًپچاس ہزار افراد نے شرکت کی۔لاکھوں شافعیوں کے امام حضرت سیّدنا امام شافِعیرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نےبغداد میں قیام کےدوران ایک معمول کا ذکر یوں فرمایا: میں امام ابو حنیفہرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہسےبرکت حاصِل کرتا ہوں، جب کوئی حاجت پیش آتی ہے تو دو رَکعَت پڑھ کر ان کی قَبْرِمبارک کے پاس آتا ہوں اور اُس کے پاساللہ عَزَّ وَجَلَّسے دُعا کرتا ہوں تو میری حاجت جلد پوری ہو جاتی ہے۔آج بھی بغدادشریف میں آپ کا مزارِ فائضُ الاَنْوار مَرجَعِ خَلائِق ہے۔(مناقب الامام الاعظم،ج2،ص216،سیراعلام النبلاء،ج6، ص537،اخبار ابی حنیفۃ واصحابہ، ص 94،الخیرات الحسان ، ص 94)امام اعظم کی مبارک سیرت کے  متعلق مزید جاننے کے لئے امیر اہل سنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے رسالے ”اشکوں کی برسات“ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ کیجئے۔

Share