اِصلاح کا ایک انداز

شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے یکم(1st) ذوالحجۃ الحرام1430ھ کو المدینۃ العلمیہ کے شعبہ اصلاحی کتب کے ذمّہ دار اسلامی بھائی کے نام مکتوب دیا، جس میں یہ بھی تھا:”انفرادی کوشِش“ کتاب، جستہ جستہ دیکھنے کی سعادت ملی،  مَا شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ 25حکایات کے علاوہ([1]) اکثر مواد بہت بہترین ہے۔ تَقبَّلَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ۔(یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ قبول فرمائے) عرض یہ ہے کہ انفرادی کوشش کا عملی طریقہ جس میں پہلی ہی ملاقات میں اجتماع، مدنی انعامات اور مدنی قافِلے میں سفر پر آمادہ کرنے کی ترکیب بیان کی گئی ہے، کیا ایسا ہی کرنا ہوگا؟ جو بمشکل اجتِماع کیلئے ہاں کرے اُس کو مزید مَدَنی انعامات اور مدنی قافلے کیلئے بھی ہاں کہلوالیں گے تو کیا وہ راتوں رات باریش و باعمامہ اسلامی بھائی بن کر مدنی کاموں میں مشغول ہوجائے گا؟ کہیں گھبرا کر بھاگ تو نہیں جائے گا؟ ناقص مشورہ ہے، جب بھی کوئی تنظیمی مواد لکھا جائے تو چھاپنے سے پہلے کم و بیش دو یا تین ایسے اسلامی بھائیوں کو پڑھا دیا جائے جو عوام میں رہ کر دعوتِ اسلامی کا مدنی کام کرتے ہوں، محسوس نہ فرمایئے گا، جذبہ اور چیز ہے اور تجربہ اور چیز! اگر نگرانِ شوریٰ نظرِ ثانی کے لئے راضی ہوں تو مدینہ مدینہ، ورنہ اراکینِ شوریٰ حاجی امین،   حاجی زَم زَم،  امین قافلہ وغیرہ کے پیچھے لگ کر ترکیب بنوائی جائے کیونکہ جو ”المدینۃ العلمیۃ“ کی طرف سے چَھپ گیا وہ چُھپ نہیں سکتا، گویا وُہی طریقِ کار مانا جاتا ہے۔ ایک بار پھر اپنی اس جسارت پر ہاتھ جوڑ کر معافی کا طلبگار ہوں، میں مکمَّل دیکھنے سے محروم رہا ہوں ہوسکتا ہے کہ آگے پیچھے وضاحتیں ہوں یا میں سمجھا ہی غلط ہوں، دل بڑا رکھئے گا۔وَالسَّلَام مَعَ الاِکْرَام

مدنی اسلامی بھائی کے جواب کے اقتباسات

وَعَلَیْکُمُ السَّلَام وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ! اعلیٰ حضرت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ  الرَّحمٰن فرماتے ہیں:”اِنصاف پسند تو اس کے ممنون ہوتے ہیں جو انہیں صواب (یعنی دُرُستی) کی راہ بتائے نہ یہ کہ بات سمجھ لیں، جواب نہ دے سکیں اور بتانے سے رنجیدہ ہوں۔“ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت،ص220) میں نہایت شرمندگی کے ساتھ اِعتِراف کرتا ہوں کہ یہ غَلَطیاں میری ہی ہیں، معافی کا خواستگار ہوں۔ انفرادی کوشش کی مثال میں آپ کی مَنْشاء کے مطابق تبدیلی ہوجائے گی۔ آپ نے جن اسلامی بھائیوں کے نام لکھے ہیں، ان میں سے سب سے زیادہ رابطہ حاجی زم زم رضا عطاری سلَّمہ البارِی([2]) سے ہے، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ان سے مشاورت اور اصلاح کا سلسلہ رہتا ہے، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ دیگر سے بھی درخواست کرکے ترکیب بنا لیا کروں گا۔([3]) پیارے باپا جان! آپ نے لکھا ہے: ”محسوس نہ فرمایئے گا!“ یہ آپ کی اصاغِر نوازی ہے کہ اتنے خوبصورت پیرائے میں اصلاح فرمانے کے باوجود یہ فرما رہے ہیں! میٹھے باپا جان! اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھے وہ دن نہ دکھائے کہ میں آپ کی کسی بات کو مَنْفی انداز میں دل پر لے لوں۔ آپ میرے پیر و مُرشِد ہیں، میرا کان پکڑ کر یا بالفرض پٹائی کرکے بھی کوئی بات سمجھائیں گے تو میرا ضمیر مطمئن رہے گا اور دل اس بات پر خوش ہوگا کہ میرے پیر نے میری طرف توجہ فرمائی ہے! رہا نفس تو یہ کب کسی کا بھلا چاہتا ہے!  اس کی شرارتوں سے اللہ بچائے۔یہ دُنیا تو ”چار دن کی بہار“ ہے وقتِ نزع اور قبر و حشر میں بھی میری خیرخواہی فرمائیے گا، میں کیسا بھی سہی! آپ کی کماحَقُّہ پیروی کرنے میں ناکام ضَرور ہوں مگر غدّار نہیں وفادار ہوں اور اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ رہوں گا۔

آپ کا:۔۔۔۔مَدَنی



[1] ۔۔۔ دراصل یہ 25 حکایات امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی انفرادی کوشش کی ہیں، غالباً اس لئے ان کا اِستثنا فرمایا۔

[2] ۔۔۔ آہ! ان کا 21ذوالقعدہ 1433ھ بمطابق 8 اکتوبر 2012ء کو وصال ہوگیاہے۔

[3] ۔۔۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ!  کئی سال سے المدینۃ العلمیہ سے چھپنے والی تحریروں کی تنظیمی اعتبار سے بھی تفتیش کی جاتی ہے۔

Share

Comments


Security Code