بچوں کا مستقبل اور باپ کی ذمّہ داریاں

٭باپ کے لئے لازِم ہے کہ وہ اپنی اولاد کو پاکیزہ اور نیک بنانےکے لئے گھر میں ایسی کمائی لائے جو حلال اور طیّب ہو۔اولاد کو اگر حرام کمائی سے پالاپوسا گیا تو اس کے کردار و اعمال میں شرافت کیسے پیدا ہوگی؟

٭اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر خواہش پوری نہیں کی جاسکتی، لیکن باپ کو چاہئے کہ بچّوں کے مُطالبات (Demands) پر غور کرے، مناسب ہوں تو پورے کرنے کی کوشش کرے، نامناسب ہوں تو ایسے مطالبات پورے کرنے سے یکدم انکار کردینا اس کا حل نہیں، بلکہ یہ بھی غور کرے کہ بچّے نے ایسا مطالبہ کیوں کیا؟اس کے مُحَرِّکات کا جائزہ لے اور بچّے کے مستقبل کی فکر کرے۔

٭باپ بچّوں کے لئے رول ماڈل ہوتاہے، جیسا وہ کرے گا اولادبھی اسی رستے پر چلے گی، اس لئے باپ کو چاہئے کہ کوئی منفی(Negative) عادت نہ  اپنائے۔  دیکھا گیا ہے کہ سگریٹ، پان،چھالیہ اور گٹکا وغیرہ  کھانے والوں کی اولاد بھی اسی قسم کی چیزیں کھانے لگتی ہے نیز بچّوں سے پان،سگریٹ، چھالیہ، گٹکا وغیرہ منگوانا بھی انہیں اس میں مبتَلا کرسکتا ہے ۔

٭بچّوں کو موبائل اور انٹرنیٹ کے استعمال کی عادت نہ ڈالئے، بچپن ہی سے انہیں حکمتِ عملی سے ایسے آلات و ذرائع سے دور رکھئے جو ان کے کردار و تعلیم پر اثرانداز ہوں،وگرنہ نوجوانی میں پابندی لگانا   عُموماً مفیدثابت نہیں ہوتا بلکہ اُلٹا نقصان کا اندیشہ ہے جیسا کہ  فیس بُک پر چیٹنگ کی اجازت نہ ملنے پر نویں جماعت (9Th Class) کے 14سالہ طالبِ علم نےاپنے آپ کو گولی مار کر خودکشی (Suicide) کرلی۔(ایکسپریس نیوز آن لائن،27 مارچ 2017) 12سالہ بچّی نے ’’موبائل فون “واپس لینے پراپنی ماں کو 2 بار قتل کرنے کی کوشش کی۔

 (ایکسپریس نیوزآن لائن،27 مارچ 2017)

٭ہر وقت کی مصروفیت بعض اوقات باپ اور  بچّوں میں دُوری پیدا کردیتی ہے۔جن بچّوں کے باپ انہیں مناسب توجّہ اور وقت نہیں دیتے وہ دیگر گھر والوں سے بھی الگ تھلگ رہنے لگتے ہیں۔ لہٰذا باپ کو چاہئے کہ حتی الاِمکان بچّوں کو  زیادہ سے زیادہ وقت دے۔

٭بعض اوقات باپ چاہتا ہے کہ اس کے بچّے اس کی مرضی کی تعلیم حاصل کریں۔ بچّوں پر اپنی خواہشات کا بوجھ نہیں ڈالنا چاہئے، بلکہ ضَروری دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کا ذہنی میلان بھی ضرور دیکھنا چاہئےکیونکہ ضروری نہیں کہ ڈاکٹر کا بیٹا ڈاکٹر ہی بنے۔ خاص طور پر اگر بچّہ دینی تعلیم کی طرف رغبت رکھتا ہے تو یہ باپ کے لئے بہت بڑی سعادت ہے،اگر باپ اپنے بچّوں کو دینی تعلیم دلوائے گا تودونوں کی دنیا و آخِرت کا بھلا ہوگا۔ اسلام کی روشن  تعلیمات سے منوّر اولاد دنیا کے ساتھ ساتھ مرنے کے بعد بھی کام آتی ہے، چنانچہ فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمہے:جب آدمی انتقال کرتاہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے مگر تین عمل جاری رہتے ہیں (1) صَدَقۂ جاریہ(2) یاجس عِلم سے نفع حاصل کیا جاتا ہو (3) یا نیک بچّہ جو اس کے لئے دُعا کرتا ہو۔ (مسلم،ص684،حدیث :4223)

٭باپ کی ایک اہم ترین ذمّہ داری یہ بھی ہے کہ بچّوں کو مخلوط تعلیمی اداروں (Co-Education) میں ہرگز نہ بھیجے بلکہ شروع سے ہی الگ الگ اِدارے میں تعلیم دلوائے، یہاں تک کہ ٹیوشن وغیرہ میں بھی اس کا اہتمام رکھے۔مخلوط  ماحول کے تباہ کُن اثرات پر مشتمل  یہ  اخباری رپورٹ پڑھئے، چنانچہ کراچی کے ایک علاقے میں  مخلوط تعلیمی ادارے کا دسویں جماعت (Th Class10) کا طالبِ علم  اپنی ساتھی طالبہ سے مَحبت کرنے لگا،  اہلِ خانہ کے رضامند نہ ہونے پر طالبِ علم نے ساتھی طالبہ کو گولی مار کر خودکشی کر لی۔(ایکسپریس نیوز آن لائن، 1ستمبر2015)

٭بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ بچّوں کے اساتذہ یا رشتہ داروں کے سامنے ان کی تعلیمی یا اخلاقی کمزوریاں بتانا شُروع کردیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ شاید ہم بہت اچّھا کام کررہےہیں، یاد رکھئے! بچّہ ہو یا بڑا! عزّتِ نفس سب میں پائی جاتی ہے،یوں دوسرے کے سامنے بےعزّتی بچّوں کو سُدھارتی کم اور بےباک زیادہ کرتی ہے۔ ایک ذمّہ دار باپ کبھی بھی اپنے بچّوں کے عُیوب اور برائیاں دوسروں سے بلاضَرورت بیان نہیں کرتا۔

٭اسی طرح بعض لوگ  ایسے بھی ہوتے ہیں کہ استاد (Teacher)نے بچّوں کو ڈانٹایا جھاڑا تو اس کے  رَدِّعمل (Reaction) میں بچّوں کے سامنے ہی استاد کو بُرا بھلا کہنا شُروع کردیتے ہیں۔ اس سے جہاں استاد کا وقار گرتا ہے وہیں بچّوں کے دل سے استاد کی قدرومنزلت بھی کم ہوجاتی ہے۔

٭بچّے کی تعلیم و تربیَت کے ساتھ ساتھ اس کے لئے دُعابھی کیا کرے کیونکہ باپ کی دُعا اولاد کے حق میں قبول ہوتی ہے، چنانچہ فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: تین قسم کی دُعائیں مقبول ہیں (1)مظلوم کی دُعا (2)مسافر کی دُعا اور (3)باپ کی بیٹے کیلئے دُعا۔ ( ترمذی،ج5،ص280،حدیث:3459)

٭اولاد کے لئے مناسب رشتے کا انتخاب بھی بہت اہم معاملہ ہے۔ اکثرلوگ رشتے کے انتخاب میں امیر گھرانے، اعلیٰ دنیوی تعلیم اور جِدّت پسندی وغیرہ کو ترجیح دیتے ہیں نیز بعض لوگ اپنے بچّوں کی  صرف اپنے ہی خاندان میں شادی کرنے پر بَضِد ہوتے ہیں اگرچہ لڑکا لڑکی رضا مند نہ ہوں۔ باپ کو چاہئے کہ  اس معاملے میں اپنی اولاد کی رائے بھی ضرور معلوم کرےاور نیک اور نمازو روزے کے پابند گھرانے کو ترجیح دے۔

٭بعض لوگ اپنی اولاد میں فرق کرتے ہیں۔ باپ  کی ذمّہ داری ہے کہ وہ ان کی تعلیم و تربیت، شادی بیاہ اور  کاروبار  وغیرہ کے معاملے میں کسی طرح کی جانبداری سے کام نہ لے  بلکہ سب کے ساتھ برابر سلوک کرے نیز جائیداد اور زمین وغیرہ اپنی زندگی میں تقسیم کرنا چاہے تو عدل و انصاف سے کام  لیتے ہوئے سب کو حصّہ دے۔

حضرتِ سیّدُنا نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالٰی عنہفرماتے ہیں کہ  مجھے میرے والد نے کچھ عطیّہ دیا تو (میری والدہ) حضرت عمرہ بنتِ رواحہرضی اللہ تعالٰی عنہا بولیں: میں تو راضی نہیں حتّٰی کہ رسولُ اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کو گواہ کر لو تو وہ رسولِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: میں نے اپنے اس بیٹے کو جو عمرہ بنتِ رواحہ سے ہے، ایک عطیّہ دیا ہے، یارسولَ اﷲ! وہ کہتی ہیں کہ میں آپ کو گواہ بنالوں۔ فرمایا: کیا تم نے اپنے سارے بچّوں کو اسی طرح دیا ہے؟ عرض کیا: نہیں۔ فرمایا:اللہ  سے ڈرو اور اپنی اولاد میں انصاف کرو۔

(بخاری،ج2،ص 172،حدیث:2587)

باپ پر اولاد کے  حقوق کے بارے میں مزید تفصیل جاننے کے لئے مکتبۃ المدینہ  کا شائع کردہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا رسالہ”اولاد کے حقوق“ پڑھئے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ناظم ماہنامہ فیضان مدینہ ،باب المدینہ کراچی

Share