جانشینِ امیرِ اہلِ سنّت کا سفرِ یورپ

جانشین امیرِاہلِ سنّت حضرت  مولانا ابواُسید عبید رضا عطاری مدنی مُدَّظِلُّہُ الْعَالِینے  19اپریل تا11 مئی 2018ء یورپ کے مختلف ممالک(جرمنی، ناروے، یونان، اٹلی،اسپین، فرانس، ہالینڈ)کا سفر کیا جہاں آپ نے٭دعوتِ اسلامی کے مختلف مدنی کاموں میں شرکت فرمائی ٭ہالینڈ میں بننے والے نئے مدنی مرکز سمیت مختلف  ممالک کے مدنی مراکز کا مدنی دورہ فرمایا ٭جرمنی کے شہر اوفن باخ میں نئے مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کا افتتاح فرمایا نیز جرمنی میں ہی  شامی مہاجرین کے درمیان مدنی حلقے میں شُرَکا  کو مدنی پھولوں سے نوازا، آپ کی  انفرادی کوشش کی بدولت تقریباً7اسلامی بھائیوں نے ایک مٹھی داڑھی سجانے  کی نیت کی، جبکہ بعض اسلامی بھائیوں نے مدنی قافلے کے ہمراہ سفر کی سعادت بھی پائی۔ ٭ناروے میں سنّتوں بھرے اجتماع میں ایک غیر مسلم  نے جانشین امیرِاہلِ سنّت  کے ذریعے قبولِ اسلام کی سعادت پائی جن کی اسلامی تربیت کا بھی سلسلہ کیا گیا۔ کھانے پینے میں احتیاط دورانِ سفرجانشینِ امیرِاہلِ سنّت  کی ایک ایسے گھر  تشریف آوری ہوئی جہاں گھر کے سربراہ کا کچھ عرصے قبل انتقال ہوا تھا اور ان کےورثا میں نابالغ بچے بھی شامل تھے، اہلِ خانہ نے خیر خواہی کا اہتمام بھی کیا تھا۔ جانشینِ امیرِاہلِ سنّت  نے اس گھر میں کھانے پینے سے اجتناب فرمایا اور شرعی مسئلہ سمجھا کر جلد اَز جلد تقسیمِ وراثت کی  ترغیب دلائی۔ دعا کی برکت یونان (Greece) میں جمعہ کے دن ایک گھر میں جانا ہوا۔ صاحبِ خانہ کے بھائی کو پولیس نے گرفتار کرلیا تھا۔ان کی درخواست پر جانشینِ امیرِاہلِ سنّت  نے دُعا فرمائی جس کی برکت یہ ظاہر ہوئی کہ کچھ ہی دیر میں وہ چھوٹ کر آگئے اور  نمازِ جمعہ آپ کے ساتھ ہی ادا کی۔ رکنِ شوریٰ کے تأثرات اس سفر میں رکن شوریٰ حاجی محمداظہر عطاری بھی جانشینِ امیرِاہلِ سنّت  کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے آپ کے بارے  میں جو تأثرات پیش کئے ان کا خلاصہ یہ ہے:٭ امىرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے جوانى کے بىانات کى جھلک جانشینِ امیرِاہلِ سنّت  کے بىانات مىں نظر آئی٭کسی ملک یا شہر میں جانے سے پہلے وہاں کے حالات اور پائی جانے والی برائیوں مثلاً سود، رشوت اور شراب وغیرہ  کی معلومات کرتے پھر سنتوں بھرے بیان میں ان کی اصلاح کی کوشش فرماتے٭سفر میں بھی زبان اور آنکھوں کے قفلِ مدینہ کا اہتمام مثالی تھا٭دورانِ سفر، سفر کی دُعا پڑھواتے، احتیاطی توبہ و استغفار  اور تجدیدِ ایمان کرواتے، تلاوت  ونعت نیز اَوْرَاد و وظائف میں مشغولیت اورواٹس ایپ پر آنے والے پیغامات کا جوابات دیتے ٭قیام گاہ پر W.C کموڈ  یا  شاور کا رُخ غلط ہوتا تو میزبان کو شرعی مسئلہ بتاکر ہاتھوں ہاتھ درست کرنے کی ترغیب دلاتے ٭سنّتوں بھرے اجتماعات اور مدنی حلقوں وغیرہ  میں وقت کی پابندی فرماتے ٭12مدنی کاموں کی خوب ترغیب دلاتے ٭اسلامی بھائیوں سے ملاقات میں ملنساری، دلجوئی کے نظارے ہوتے ٭دُکھیاروں کے لئے دُعاکرتے اور ضرورتاً تعویذات عطا فرماتے ٭اندازے اور اٹکل سے شرعی مسئلہ بیان کرنے یا حدیثِ پاک کی شرح کرنے سے اِجتناب فرماتے ٭باجماعت فرض نمازوں کے علاوہ تہجد، اشراق اور چاشت کا بھی اہتمام فرماتے ٭خود بھی فکرِمدینہ کرتے اور اسلامی بھائیوں کو بھی اس کی ترغیب دلاتے ٭ملاقات کرنے والے اسلامی بھائیوں میں سے کسی نے لاکٹ، چھلّا یا ناجائز انگوٹھی پہنی ہو تو شرعی مسئلہ بتاکر توبہ کروادیتے ٭سنّتوں بھرے بیانات اور انفرادی کوشش میں گاہے بگاہے تذکرۂ امیرِ اہلِ سنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہفرماتے۔

تو سدا  رہے سلامت، تجھ پر ہو ربّ کی رحمت                      اے جانشینِ امیرِ اہلِ سنّت، اے جانشینِ امیرِ اہلِ سنّت

Share

Comments


Security Code