دُعا کی عظمت و فضیلت اور حکمتیں

اِرشادِ باری تعالیٰ ہے:

(  وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ-)ترجمہ:اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔(پ24، المؤمن:60)

تفسیر اس آیت میں لفظ”اُدْعُوۡنِیۡۤ“ کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد ”دُعا“ ہے۔ معنیٰ یہ ہوا کہ اے لوگو! مجھ سے دعا کرو، میں اسے قبول کروں گا، اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد ”عبادت“ ہے۔ معنیٰ یہ ہوا کہ تم میری عبادت کرو، میں تمہیں ثواب دوں گا۔(تفسیر کبیر،ج13،ص350)

دُعا ایک عظیم الشان عبادت ہے جس کی عظمت و فضیلت پر بکثرت آیاتِ کریمہ اور احادیثِ طیبہ وارِد ہیں۔ دعا کی نہایت عظمت میں ایک حکمت یہ ہے کہ دُعا اللہ تعالیٰ سے ہماری محبت کے اِظہار، اُس کی شانِ اُلوہیت کے حضور ہماری عبدیت کی علامت، اُس کے علم و قدرت و عطا پر ہمارے توکل و اعتماد کا مظہر اور اُس کی ذاتِ پاک پر ہمارے ایمان کا اقرار و ثبوت ہے۔

 ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارا خالق، مالک، رازق ہے۔ وہ رَبُّ الْعَالَمِیْن، اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْن، اَحْکَمُ الْحَاکِمِیْن اور مَالِکُ الْمُلْک ہے۔ تمام عزتیں، عظمتیں، قدرتیں، خزانے، ملکیتیں، بادشاہتیں اسی کے پاس ہیں۔ سب کا داتا اور داتاؤں کا داتا وہی ہے۔ ساری مخلوق اسی کی بارگاہ کی محتاج اور اسی کے دربار میں سوالی ہے جبکہ وہ عظمتوں والا خدا بے نیاز، غنی، بے پروا اور تمام حاجتوں سے پاک ہے۔ ہاں وہ جواد و کریم ہے، بخششیں فرماتا اور جود و کرم کے دریا بہاتا ہے۔ ایک ایک فردِ مخلوق کو اربوں خزانے عطا کردے تب بھی اس کے خزانوں میں سوئی کی نوک برابر کمی نہ ہوگی اور کسی کو کچھ عطا نہ کرے تو کوئی اس سے چھین نہیں سکتا۔ وہ کسی کو دینا چاہے توکوئی اُسے روک نہیں سکتا ہے اور وہ کسی سے روک لے، تو کوئی اُسے دے نہیں سکتا۔

جب ہم دُعا مانگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہی عقیدہ و ایمان ہمارے دل و دماغ میں شعوری یا لاشعوری طور پر موجود ہوتا ہے جو الفاظ و کیفیات کی صورت میں دُعا کے سانچے میں ڈھل جاتا ہے۔ اس حکمت کو سامنے رکھ کر غور کرلیں کہ جب دُعا اِس قدر عظیم عقیدے کا اِظہار ہے تو کیوں نہ اعلیٰ درجے کی عبادت بلکہ عبادت کا مغز قرار پائے۔ اِس تقریر کو سامنے رکھ کر دُعا کے فضائل پڑھئے اور رحمتِ خداوندی پر جھومئے چنانچہ ”دُعا“ کے فضائل کے متعلّق چند احادیثِ کریمہ ملاحظہ فرمائیں:

٭اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی چیز دُعا سے بزرگ تَر نہیں۔ (ترمذی،ج5،ص243، حدیث:3381)

٭دُعا مصیبت و بلا کو اُترنے نہیں دیتی۔ (مستدرک،ج2،ص162، حدیث:1856)

٭دُعا مسلمانوں کا ہتھیار، دین کا ستون اور آسمان و زمین کا نور ہے۔ (مستدرک،ج2،ص162، حدیث:1855)

٭دعا کرنے سے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ (ترمذی،ج5،ص318، حدیث: 3551)

٭دعا عبادت کا مغز ہے۔  (ترمذی،ج 5،ص243،  حدیث:3382)

٭اللہ تعالیٰ دعا کرنے والے کے ساتھ ہوتا ہے۔ (مسلم، ص:1442، حدیث: 2675)

٭جو بلا اتر چکی اور جو نہیں اتری، دعا ان سے نفع دیتی ہے۔ (ترمذی،ج 5،ص322، حدیث:3559)

٭دعا رحمت کی چابی ہے۔(الفردوس،ج 2،ص224، حدیث:3086)

٭دعا قضا کو ٹال دیتی ہے۔(مستدرک،ج3،ص548، حدیث:6038)

٭دعا بلا کو ٹال دیتی ہے۔ (کنز العمال،ج 2،ص63، حدیث:3121)

٭جسے دعا کرنے کی توفیق دی گئی اس کےلئے رحمت کے دروزے کھول دئیے گئے۔(ترمذی،ج11،ص459، حدیث:3471)

مفسرین نے دعا قبول ہونے کی چند شرائط و آداب ذِکر فرمائے ہیں، ان کا خلاصہ یہ ہے کہ

٭دعا مانگنے میں اخلاص ہو۔

٭دعا مانگتے وقت دل دعا کے علاوہ کسی اور چیز کی طرف مشغول نہ ہو۔

٭ناجائز و گناہ کی دعا نہ مانگی جائے۔

٭دعا مانگنے والا اللہ تعالیٰ کی رحمت پر یقین رکھتا ہو۔

٭اگر دعا کی قبولیت ظاہر نہ ہو تو وہ شکایت نہ کرے کہ میں نے دعا مانگی لیکن وہ قبول نہ ہوئی۔

جب ان شرطوں کو پورا کرتے ہوئے دعا کی جاتی ہے تو وہ قبول ہوتی ہے لیکن یہ ذہن میں رکھیں کہ قبولیتِ دعا کا اصل معنیٰ ہے کہ بندے کی پکار پر اللہ تعالیٰ کا اُسے”لَبَّیْکَ عَبْدِی فرمانا۔ یہ ضروری نہیں کہ جو مانگا وہ مل جائے بلکہ مانگنے پر کچھ ملنے کا ظہور دوسری صورتوں میں بھی ہوسکتا ہے: مثلاً اُس دعا کے مطابق گناہ معاف کردئیے جائیں یا آخرت میں اس کے لئے ثواب ذخیرہ کر دیا جائے یا اصل مانگی ہوئی شے کی جگہ اس سے بہتر چیز عطا کردی جائے یا اُس دعا میں مانگی ہوئی چیز  بندے کی زیادہ ضرورت کے وقت تک مؤخرکردی جائے۔

دعا مانگ کر نتیجہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر چھوڑ دینا چاہیے کہ رحمٰن و رحیم خدا ہمارے ساتھ وہی معاملہ فرمائے جو ہمارے حق میں بہتر ہے۔ قضائے الٰہی پر راضی رہنا بہت اعلیٰ مرتبہ ہے اور حقیقت میں ہمارے لئے یہی مفید تر ہے کیونکہ ہمارا علم ناقص ہے جبکہ خدا کا علم لامتناہی و محیط ہے۔ بارہا ہم اپنی کم علمی سے کوئی چیز مانگتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے ہمیں منہ مانگی چیز نہیں دیتا کیونکہ وہ چیز ہمارے حق میں نقصان دہ ہوتی ہے، مثلاً:بندہ مال و دولت کی دعا کرتا ہے لیکن وہ اس کے ایمان کیلئے خطرناک ہوتی ہے یا آدمی تندرستی و عافیت کا سوال کرتا ہے لیکن علمِ الٰہی میں دنیا کی تندرستی آخرت کے نقصان کا باعث ہوتی ہے۔ تو یقیناً ایسی دعا قبول نہ کرنا بندے کیلئے زیادہ اچھا ہے۔

نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی دعائیں بہت جامع ہیں۔ ان میں سے کچھ اپنے لئے منتخب کرلیں تو بہت عمدہ ہے۔ ایک جامع دعا یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اے اللہ! مجھے ایمان و تقویٰ، صحت و عافیت، خوشیوں اور خوشحالیوں والی لمبی زندگی عطا فرما۔ جان، مال، عزت اور اہلِ خانہ کے حوالے سے برے وقت اور آزمائش سے محفوظ فرما۔ عافیت کے ساتھ ایمان پر خاتمہ، نزع میں آسانی، قبر و جہنم کے عذاب سے حفاظت، محشر کی گھبراہٹ سے امن اور جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ عطا فرما۔ یہ سب دعائیں میرے ماں باپ، بیوی بچوں اور بہن بھائیوں کے حق میں قبول فرما۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…دار الافتاءاہل سنت  عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ ،باب المدینہ کراچی

Share