وہ بزرگانِ دین جن کایوم وصال/عرس شوال المکرم میں ہے

شوال ُالمکرّم اسلامی سال کا دسواں مہینا ہے۔ اس میں جن صَحابۂ کرام، اَولیائے عظام اور علمائے اسلام کا وصال یا عرس ہے، ان میں سے 18کا مختصر ذکر ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“شوّالُ المُکَرَّم 1438ھ کے شمارے میں کیا گیا تھا([1])مزید کا تعارف ملاحظہ فرمائیے: صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان (1)سیّدالشہداء حضرتِ سیّدنا ابو عمارہ حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالٰی عنہماکی ولادت عام الفیل سے دو سال پہلے ہوئی اور 15شوال 3ہجری بروز ہفتہ غزوۂ اُحُد میں دَرَجۂ شہادت پر فائز ہوئے،آپ نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مُعَزّز چچا، رَضاعی بھائی، مُحِبِّ رسول، دینِ اسلام کے مددگار، بہت بہادر و دلیر تھے۔ اَسَدُاللہِ وَاَسَدُالرَّسُول، فاعلُ الخیرات اور سیّدالشہداءآپ کے القابات ہیں۔ جبلِ احد کے دامن میں آپ کا مزار زیارت گاہِ خاص و عام ہے۔ (اسدالغابہ،ج2،ص66،معرفۃ الصحابہ،ج2،ص17)  (2)اُمّ المؤمنین حضرت سودہ بنتِ زمعہ رضی اللہ تعالٰی عنہا قرشیہ، صحابیہ،سلیقہ شِعار، حسنِ ظاہری و باطنی سے مالا مال اور حبشہ و مدینہ دونوں جانب ہجرت کی سعادت پانے والی ہیں، اعلانِ نُبوّت کے دسویں سال حرمِ نبوی میں آئیں اور ایک قول کے مطابق شوال 54ھ میں وصال فرمایا۔ تدفین جنّتُ البقیع میں ہوئی۔ (زرقانی علی المواہب،ج 4،ص380،377، فیضانِ اُمہات المؤمنین، ص41تا 66) اولیائے کرام رحمہم اللہ السَّلام(3)امامُ الْعَدن سیّدابو بکر بن عبداللہ عِیدرُوس باعلوی کی ولادت 851ھ میں تَرِیم (صوبہ حَضَرَمَوْت) یَمَن میں ہوئی اور وصال 14شوال 914ھ کو فرمایا،مزارشریف جامع مسجد عِیدرُوس (کریتر،  یمن) سے متصل شمال میں ہے۔آپ عالمِ دین، شاعرِ اسلام، شیخِ طریقت اور بانیِ جامع مسجد عِیدرُوس ہیں۔ آپ کا”دیوان العدنی“ مطبوع ہے۔(النور السافر عن اخبار قرن العاشر،ص 124) (4)بانیِ سلسلۂ قادریہ رَزَّاقیہ حضرت سیّد شاہ عبدالرّزاق قادری بانسوی کی ولادت 1048ھ موضع رسول پور (ضلع بارہ بنکی،یوپی) ہندمیں ہوئی اور وصال 6شوال 1136ھ کو فرمایا، مزار بانسہ (ضلع لکھنؤ، یوپی) ہند میں ہے۔بانیِ درسِ نظامی حضرت علّامہ نظامُ الدّین سہالوی آپ ہی کے مرید تھے۔ (نزہۃ الخواطر،ج6،ص154، تاریخ مشائخِ قادریہ،ج 2،ص129) (5)مَنْبَعِ فُیوض وبرکات حضرت خواجہ حاجی دوست محمد خان قندھاری مُجدّدی کی ولادت 1216ھ میں قندھار افغانستان میں ہوئی اور وصال 22شوال 1284ھ کو ڈیرہ اسماعیل خان (KPK) پاکستان میں فرمایا، آپ عالم ِدین ،شیخِ طریقت اور بانیِ خانقاہِ ثلاثہ(موسیٰ زئی شریف ڈیرہ اسماعیل خان،لوڑگئی شریف اور ناوہ ترکیاں قندھار) ہیں۔ (فیوضات سراجیہ،ص33تا193)(6)شاگردِ خلیفۂ اعلیٰ حضرت، مفتیِ اعظم بنگلا دیش، حضرت علّامہ مفتی سیّدمحمد عمیم الاحسان برکتی نقشبندی کی ولادت 1329ھ مونگیر(صوبہ بہار ) ہند میں ہوئی اور وصال10شوال 1395ھ کو ڈھاکہ بنگلہ دیش میں  فرمایا، مزار جامع مسجد مفتیِ  اعظم ڈھاکہ کے جنوبی گوشے میں ہے۔ آپ جیّد عالمِ دین، صدر مدرس مدرسہ عالیہ کلکتہ، رئیس الفقہاء و المحدثین اور تقریباً 56کتب و رسائل کے مصنّف ہیں، مطبوع کتب میں فِقْهُ السُّنَنِ وَالْآثار اَدِلَّةُ السَّاداتِ الْاَحْنَافبھی ہے۔(ادب المفتی،   ص 7تا9) علمائے اسلام رحمہم اللہ السَّلام (7)امام الْمُعبّرین حضرتِ سیّدُنا محمد بن سیرین بصری کی ولادت 33ھ میں ہوئی اور وصال 10 شوال 110ھ میں بصرہ میں ہوا۔آپ تابعی،ثقہ راویِ حدیث، عظیم فقیہ،امام العلماء،تقویٰ وورع کے پیکر اور تعبیر الرویاء (خوابوں کی تعبیر) کے ماہر تھے۔(الطبقات الکبریٰ،ج 7،ص143تا 154، تاریخِ بغداد،ج2،ص422،415) (8)امیرالمؤمنین فی الحدیث حضرتِ سیّدنا محمد بن اسماعیل بخاری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 194ھ کو بخارا میں ہوئی اور وصال یکم شوال 256ھ میں فرمایا، مزار خرتنگ (نزدسمرقند) ازبکستان میں ہے۔آپ امام المحدثین والمسلمین، زہد و تقویٰ کے جامع اور قراٰنِ کریم کے بعدصحیح ترین کتاب ’’بخاری شریف‘‘کے مؤلف ہیں۔ (المنتظم،ج 12،ص133، سیراعلام النبلاء،ج 10،ص319،277) (9)امامُ المفسّرین حضرت امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری کی ولادت 225ھ کو آمُل (صوبہ مازندران، قدیمی نام طبرستان )ایران میں ہوئی اور 27 شوال 310ھ کووصال فرمایا ،مزار حدیقۃ الرجعی (شارع عشرین، الاعظمیہ) بغداد عراق میں واقع ہے۔آپ امامِ اَجل، ماہرِ فن، جلیلُ القدر محدّث،عظیم مفسّر، مشہورفقیہ اور باعمل صوفی تھے۔ آپ کی درجن سے زیادہ کُتب میں تفسیر ِطبری اورتاریخِ طبری شہرت تامّہ رکھتی ہیں۔(تاریخِ طبری،ج1،ص27،23، سیر اعلام النبلاء،ج 11،ص301،291) (10)امامُ القراء حضرتِ سیّدنا ابوعمرو عثمان دانی مغربی مالکی کی ولادت قرطبہ اندلس (موجودہ اسپین) میں371ھ میں ہوئی۔آپ قراٰنِ کریم کی روایات، تفسیر، معانی، طُرُق، علمِ اعراب اورضبط کے امام،بارہ سے زائد کُتُب کے مصنّف اور مستجابُ الدّعوات تھے۔ پاک وہند اور ترکی میں رائج مُصْحَف شریف (قراٰنِ مجید) کا رسمِ عثمانی آپ کے منہج کے مطابق ہے۔ 15شوال المکرم 444ھ  میں وصال فرمایا، دانیہ اندُلس کے قبرستان میں دفن کئے گئے۔ (سیر اعلام النبلاء،ج 13،ص485،481) (11)مفسر ِقراٰن، امام فخر الدّین محمد بن عمر رازی شافعی کی ولادت 543ھ کو رَے (نزدتہران) ایران میں ہوئی اور یکم شوال 606ھ کو وصال فرمایا،آپ کا مزار کوہِ مزدا خان ہرات مغربی افغانستان میں ہے۔ آپ علّامۃ الوری، شیخ الاسلام والمسلمین،امام المتکلمین اور صوفیِ باصفا تھے۔تقریباً 80سے زائد کُتُب میں  سے ’’تفسیرِ کبیر‘‘مشہور ہے۔(فضلِ قدیر ترجمہ تفسیر کبیر،ج1،ص43، وفیات الاعیان،ج2،ص351،349) (12)تلمیذِ غوثِ اعظم (شاگردِغوثِ اعظم)،حضرتِ سیّدنا موفّق الدین عبداللہ ابنِ قُدامہ مَقْدِسی حنبلی کی ولادت 541ھ جماعیل (نزد نابُلُس، بیتُ المقدس) فلسطین میں ہوئی اور وصال یکم شوال 620ھ کو  فرمایا،مزار جبلِ قاسِیُون دمشق شام میں حضرتِ سیّدنا ابوالدرداء رضی اللہ تعالٰی عنہ کے قُرب میں ہے۔آپ شیخ الاسلام،امام الائمہ،مفتی الامّہ، فقیہِ حنابلہ اور 25سے زائد کُتُب کے مصنّف ہیں، آپ کی کتاب اَلْمُغْنی کو عالمگیر شہرت حاصل ہے۔(طبقات الحنابلہ،ج 4،ص105، 112، اردو دائرہ معارفِ اسلامیہ،ج1،ص641) (13) صاحبِ درِمختار، عمدۃ المتاخرین حضرتِ سیّدناعلّامہ مفتی محمدعلاؤ الدین حصکفی دمشقی حنفی کی ولادت 1025ھ دمشق شام میں ہوئی اور وصال  10 شوال 1088ھ کو  فرمایا، مزار بابِ الصغیر (دمشق)شام میں ہے۔آپ جامع ِمعقولات و منقولات اورعظیم فقیہ تھے۔ اپنی کتاب ’’درمختار شرح تنویر الابصار‘‘کی وجہ سے مشہور ہیں۔ (جد الممتار،ج 1،ص245، 242، 79) (14) عالمِ باعمل حضرتِ علّامہ مولانا مفتی عنایت احمد کاکوروی کی ولادت 1228ھ دیوہ (ضلع بارہ بنکی یوپی )ہندمیں ہوئی،17شوال 1279ھ کوآپ کی وفات سمندر میں کشتی کے ڈوبنے سے ہوئی اور وفات کی یہ صورت بھی شہادت کے زمرے میں آتی ہے۔ آپ استاذالعلماء، مجاہدِاسلام، مصنّفِ کُتُب( مثلاً علم الصیغہ و تواریخ حبیبِ الٰہ) اور اکابرعُلمائے اہل سنّت سے ہیں۔(فقہائے ہند،ج3،ص405،ظفر المحصلین ، ص312)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…رکن شوریٰ و نگران مجلس المدینۃالعلمیہ،باب المدینہ کراچی



[1] ۔۔۔٭حضرتِ سیّد جمالُ الاولیا کوڑوی(یومِ عرس یکم شوال) ٭حضرت سیّد عبد الرّزّاق جیلانی  (یومِ عرس 6شوال) ٭حضرت احمد یحییٰ منیری(یومِ عرس 6شوال) ٭حضرت سیّد عبدُالوہاب جیلانی(یومِ عرس 25شوال)٭ حضرت علّامہ سیّد احمد قادری(یومِ عرس 20شوال)٭حضرت شاہ عبد العزیز محدّثِ دہلوی(یومِ عرس 7شوال) رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم اجمعین

Share

Gallery

Comments


Security Code