جنّتُ البقیع/ غزوۂ  اُحد میں صحابۂ  کرام کا عشقِ رسول/ غزوۂ حُنَین

جنّتُ البقیع مدینۂ منورہ کا قدیم، مشہورومبارک قبرِستان ہے،مسجد نَبَوی کے جوارِ رحمت میں جُنوب مشرِقی جانب واقع یہ قبرستان لاکھوں مسلمانوں کی زیارت گاہ ہے، عاشقانِ رسول یہاں مزاراتِ صحابہ و اولیاءپر حاضِری دے کر فاتِحہ کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔

جنت البقیع کابطورِ قبرستان انتخاب رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کسی ایسی جگہ کی تلاش میں تھے جہاں اپنے اصحاب کی تدفین فرمائیں، آپ نے مختلف جگہوں کو ملاحظہ فرمایااور پھر یہ سعادت جنت البقیع کو حاصل ہوئی، ارشاد فرمایا:مجھے اس جگہ یعنی بقیع (کے انتخاب ) کا حکم ہوا ہے۔

(مستدرک،ج4،ص191،حدیث:4919)

 جنت البقیع کے نام  اور اُن کی وجہ عربی میں بقیع درخت والے میدان کو کہتے ہیں اس میدان میں پہلے  غَرْقَدکے درخت تھے اسی لئے اس جگہ کا نام ”بقیعُ الْغَرقد“ ہو گیا۔(مراٰۃ المناجیح،ج 2،ص525) عرب لوگ عُمُوماً اپنے قبرِستانوں کو جنّت کہہ کر پکارتے ہیں اسی لئے ”جنت البقیع“ پکاراجانے لگا۔ اَعْرابیوں میں اس کا نام ”مقابِرُ البقیع “مشہور ہے۔ (جستجوئے مدینہ، ص598ماخوذاً)

 جنت البقیع کا کل رقبہ اِبتدائے اسلام میں اس کا رقبہ کم تھا، حضرت سیدناامیرمعاویہ  رضی اللہ تعالٰی عنہکے دور میں اس کی پہلی توسیع ہوئی  پھر مزید توسیعات ہوئیں، تُرک دورِ حکومت کے آخر میں اس کا کل رقبہ 15000مربع میٹر تھا، بعدازاں مزید توسیعات بھی ہوتی رہیں اور آج کل اس کا کل رقبہ تقریباً 56000مُرَبَّع میٹر ہے۔(جستجوئے مدینہ، ص598 ماخوذاً)

 جنت البقیع میں مدفون عظیم ہستیاںجنت البقیع“  دنیا کے تمام قبرستانوں سے افضل ہے، یہاں تقریباً 10ہزارصحابۂ کرام و اَجَلَّہ اہلِ بیتِ اطہار علیہمُ الرِّضوان اور بے شمار تابعینِ کرام،تبع تابعین اور اولیائے عِظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَاماوردیگر خوش بخت مسلمان مدفون ہیں۔(جنتی زیور، ص 390،  عاشقان رسول کی 130حکایات، ص262) چند مشہور نام یہ ہیں: حضرت سیّدنا عباس بن عبدالمطلب، امیر المؤمنین سیدنا عثمانِ غنی،سیّدنا عبدالرحمٰن بن عوف، سیدنا عبد اللہ بن مسعود، سیّدنا امام حسن، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا حَسّان بن ثابت ،سیّدہ فاطمۃُ الزَّہراء،امّ المؤمنین سیّدتنا عائشہ صدیقہ و کئی اُمہات المؤمنین،رسولِ خدا  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے لختِ جگر سیدنا ابراہیم رِضْوَانُ اللہِ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن ۔(وفاء الوفا،ج 3،ص1411 وغیرہ)

 سب سے پہلے مدفون صحابی مہاجرین میں سے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالٰی عنہاور انصارمیں سے حضرت اسعد بن زُرَارَہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سب سے پہلے جنت البقیع میں مدفون ہوئے۔ (شرح ابوداؤد للعینی،ج5،ص272 ، تحت الحدیث:1339)

 رسولِ خداکی جنت البقیع میں تشریف آوریحضور نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماکثروبیشتر جنت البقیع تشریف لے جایا کرتے تھے، اُمُّ المؤمنین سیدتنا عائشہ صدیقہ  رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت ہے کہ  ایک بار آپ رات کےآخری پہرجنت البقیع تشریف لے گئے اور اہل بقیع کےلئے دُعائے مغفِرت فرمائی۔

 (مسلم،ص376،حدیث:2255،جذب القلوب، ص149)

جنت البقیع کے فضائل: فرمان مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم: سب سے پہلے میری قبر شق  ہوگی (یعنی کھلے گی)، پھر ابوبکر کی اور پھر عمر کی، ا س کے بعد میں اہلِ بقیع کے پاس آؤں گا تو انہیں  میرے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ (ترمذی،ج 5،ص388، حدیث:3712)  ایک روایت میں ارشاد فرمایا: اس قبرستان سے سترہزار ایسے لوگ اٹھائے جائیں گےجو بغیر حساب کے داخِلِ جنت ہوں گے۔ (مجمع الزوائد،ج3،ص686، حدیث: 5908ملخصاً)

 جنت البقیع میں دفن ہونے کے فضائل: یہاں دفن ہونے والوں کے لئےمغفِرت کی دُعا فرمائی گئی، چنانچہ احمدمجتبےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا:اے اللہ عَزَّوَجَلَّ!بقیعِ غرقد والوں کی مغفرت فرما۔ (مسلم، ص376، حدیث: 2255)  شفاعت کی بشارت دی گئی،فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمہے: جسے ہمارے اس قبرستان (یعنی بقیع غرقد) میں دفن کیا جائے گا    (روزِ قیامت) ہم اس کی شفاعت کریں گے۔ یا فرمایا: اس کی گواہی دیں گے۔(تاریخ مدینہ لابن شبۃ،ج 1،ص97)

جنت البقیع میں دفن ہونے کی خواہش یہی وجہ ہے کہ بعض صحابۂ کرامعلیہمُ الرِّضوان نے جنت البقیع میں اپنی تدفین کی وصیت فرمائی چنانچہ دُوردَراز عَلاقوں سے ان کی مَیِّت کو لاکر جنت البقیع میں دفنایا گیا،ایسے چند صحابہ کرام کےنام یہ ہیں: حضرت سیدنا سعد بن ابی وقاص، سیدنا سعید بن زید، سیدنا سعید بن عاص، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا اُسامہ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہم۔ (جستجوئے مدینہ، ص604ماخوذاً)

جنت البقیع میں حاضری کا طریقہ جنت البقیع کے مَدْفُونِین کی خدمت میں باہر ہی کھڑے ہوکر سلام عرض کریں اور باہر ہی سے دعا کریں کہ اب جنت البقیع میں موجود تقریباً تمام مزارات کو شہیدکردیا گیا ہے، اگر آپ اندرگئے تو کیا معلوم آپ کا پاؤں کس صحابی یا ولی کے مزار پر پڑرہا ہے۔ عام مسلمانوں کی قبروں پر بھی پاؤں رکھنا حرام ہے، جوراستہ قبریں مُنْہَدِم (Demolised) کرکےبنایا جائے اس پرچلنا بھی حرام ہے۔

(رفیق الحرمین، ص 235 ، 236 ملخصاً)

اے ربِّ کریم!ہمیں ایمان و عافیت کے ساتھ شہادت کی موت اور جنت البقیع میں مَدْفَن عطا فرما۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

عطاکردو عطاکردو بقیع پاک میں مدفن

مِری بن جائے تُربت یاشہہِ کوثر مدینے میں

جس جگہ پرآکے سوئے ہیں صحابہ دس ہزار

اُس بقیع پاک کے سارے مزاروں کو سلام

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…شعبہ ذمّہ دار فیضان حدیث،المدینۃالعلمیہ،باب المدینہ کراچی

 

Share

جنّتُ البقیع/ غزوۂ  اُحد میں صحابۂ  کرام کا عشقِ رسول/ غزوۂ حُنَین

غزوۂ اُحُد اسلامی تاریخ کے ابتدائی  غَزوات میں سے ہےجو  شوّالُ المکرّم 3ہجری ہفتہ کے دن ہوا۔ (نزہۃ القاری،ج 4،ص  769 ملخصاً) اس غزوہ  میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ شیطان نے اَفواہ (Rumour)پھیلا دی کہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم شہید کر دئیے گئے ہیں جس کی وجہ سے  لشکر میں بَددلی پھیل گئی۔  ہم زندہ رہ کر کیا کریں گے؟حضرتِ سیّدُنا اَنس بن نضر انصاری رضی اللہ تعالی عنہ لڑتے لڑتے ایک جگہ پہنچے تووہاں کچھ مسلمان  مایوس ہو کر بیٹھےتھے آپ نے وجہ پوچھی؟ تو انہوں نےکہا: اب ہم لڑ کر کیاکریں گے، جن کے لئے لڑتے تھے وہ تو شہید ہو گئے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: اگر واقعی رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم شہید ہوچکے تو پھر ہم ان کے بعد زندہ رہ کر کیا کریں گے؟ کھڑے ہوجاؤاور اسی راہ پر چلتے ہوئے شہید ہوجاؤ ۔ یہ کہہ کر آپ رضی اللہ تعالی عنہ دشمنوں پر ٹوٹ پڑے اور لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ آپ کے مُبارَک جسم پر زخموں کے 70 نشانات تھے۔ (زرقانی علی المواہب،ج 2،ص417)

حسنِ یوسف پہ کٹیں مصر میں اَنگشتِ زَناں

سر کٹاتے ہیں ترے نام پہ مردانِ عرب

(حدائقِ بخشش، ص58)

 جان میں جان آئی اس عالَم  میں حضرتِ سیّدُنا کعب بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ نے سرکارِ مدینہ،راحتِ قلب وسینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکو پہچان لیا اور بُلند آواز سے فرمایا: مسلمانو! بِشارت ہو،رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمیہ ہیں۔ (دلائل النبوۃ للبیہقی،ج3،ص237ماخوذاً) یہ سن کر صحابۂ کرام علیھم الرضوان کی جان  میں جان آئی اور وہ  اس طرف جمع ہونے لگے اور  کافروں نےبھی اس طرف بھر پورحملہ کیا۔ اس وقت صحابۂ کرام علیھم الرضوان نے بہادری کے وہ جوہر دکھائے جس کی تاریخ میں مثال  نہیں ملتی۔

اپنی جانیں قربان کردیں جب کفّار حملے کے لئے قریب ہوئے   تو نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:کون ہے  جو اِن کو ہم سے دُور کرے  اور جنّت حاصل کرے؟ انصار میں سے ایک صَحابی آگے بڑھے اور کافروں سے قِتال فرمایا یہاں تک کہ وہ شہید ہوگئے ۔ ان کے بعد دوسرے اَنصاری آگے بڑھے اور قِتال فرمایا  یہاں تک کہ ایک ایک کرکے سات انصاری صَحابی شہید ہوگئے۔(مسلم ،ص 764،حدیث: 1789 ملتقطاً)

بازوبے جان ہوگیااس دن کے جاں نثاروں میں حضرتِ سیّدُنا طلحہرضی اللہ تعالی عنہ کا اسم ِ گرامی بھی آتا ہے۔نبیِّ پاک صاحبِ لولاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی طرف آنے والے تیروں کو روکنے کے لئے جب کچھ مُیَسَّر نہ آیا  تو سیّدُنا طلحہرضی اللہ تعالی عنہ نے اپنا بازو آگے کر دیا  جس پر اتنے تیر لگے کہ  وہ شَل یعنی ناکارہ ہوگیا۔( بخاری ،ج3،ص38، حدیث: 4063مفہوماً)

 کہیں آپ کو تیر نہ لگ جائے! حضرتِ ابوطلحہ رضی اللہ تعالی عنہ پروانہ وار  اپنے محبوبِ کریم  رو  ٔفٌ رّحیمصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر نثار ہورہے تھے۔دویا تین کمانیں آپ کے ہاتھ سے ٹوٹیں۔ تاجدارِ مدینہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمجب کبھی دشمنوں کو دیکھنے کے لیے سرِ انور کو اُٹھاتے  تو آپ عرض گزار ہوتے:  میرے ماں باپ آپ پر قربان!  گردن مبارک نہ اٹھائیے کہیں کوئی تیر نہ لگ جائے ۔ آپ کے مبارک سینے کے لئے میرا  سینہ ڈَھال ہے۔ (بخاری،ج 3،ص38، حدیث: 4064ملخصاً) (سیرت حلبیہ،ج 2 ،ص311 ملخصاً )

میرے ماں باپ تم پر قربان حضرتِ سیّدُنا  سعد رضی اللہ تعالی عنہ کی کیفیت  یہ تھی  کہ دشمنوں پر تیر برسا رہے تھے اور مدینے والے آقاصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنے دستِ مبارک سے ان کو تیر عطا فرما رہے تھے۔ اسی دن یہ سعادت حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ کےحصّے میں آئی جب نبیِّ کریم رو  ٔفٌ رّحیم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے انہیں فرمایا: سعد! میرے ماں باپ   تم پر قربان تیر چلاؤ۔ ( بخاری،ج3،ص37، حدیث:4055)

اپنی پشت پر تیر برداشت کئے حضرتِ سیّدُنا ابودُجانہ رضی اللہ تعالی عنہ کو جب ڈھال کے لئے کچھ نہ ملا تو اپنی پُشت کو آقائے نامدارصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے لئے  ڈھال بنا لیا۔ خود اپنی پیٹھ پر تیر برداشت کئے لیکن محبوبِِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر آنچ نہ آنے دی۔ (سیر اعلام النبلاء،سیرۃ النبی،ج1،ص399)

آنکھ باہر آگئی حضرتِ سیّدُناقتادہ  بن نعمان انصاریرضی اللہ تعالی عنہ  نے اپنے چہرے کو رسولِ اکرم نورِ مجسّم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے چہرۂ مبارکہ کے سامنے کر دیا۔ ایک تیر آپ کی آنکھ میں آکر لگا جس سے آنکھ باہر آگئی۔ (سبل الہدیٰ والرشاد،ج 4،ص240)

دید ہوتی رہے دم نکلتا رہے اِسی طرح حضرتِ سیّدُنا زیاد بن السَّکَن (بعض کے مطابق  عمارہ بن زیاد بن السکن ) رضی اللہ تعالی عنہ بھی اس دن کے  جانثاروں میں سے تھے جنہوں نے مدنی آقامیٹھے میٹھے مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر اپنی جان قربان کرنے   کی سعادت حاصل کی۔آپ رضی اللہ تعالی عنہ دِلیری  سے لڑے یہاں تک کہ شدید زخمی ہوگئے، نبیِّ کریم  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: انہیں میرے قریب کر دیاجائے۔ آپ کا وِصال  اس حالت میں ہو ا کہ آپ کا چہرہ  نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے قدموں پر  رکھا ہوا تھا۔(سیر اعلام النبلاء،سیرۃ النبی،ج 1،ص399)  

نجم کی اے خدا آرزو ہے یہی عاشقِ زار کی آبرو ہے یہی

موت کے وقت سر انکے قدموں میں ہودید ہوتی رہے دم نکلتا رہے

اللہ پاک کی اُن پر رحمت ہواور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبی الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…مُدرّس جامعۃ المدینہ،ماریشس

Share

جنّتُ البقیع/ غزوۂ  اُحد میں صحابۂ  کرام کا عشقِ رسول/ غزوۂ حُنَین

سرکارِ مدینۂ منوَّرہ، سردارِ مکّۂ مکرّمہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے رَمَضانُ المبارک8ہجری میں مکّۂ مکرّمہ فَتْح فرمایا اور کفّارِ مکّہ کو عام معافی دے کران کے دلوں کی دنیا بھی فتح کرلی تو لوگ جُوق در جُوق، خوشی خوشی اِسلام قبول کرنے لگے۔

غزوۂ حُنین پیش آنے کا سبب اہلِ عرب کی اکثریّت (Majority) حُضُورِ اکرم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دامنِ کرم سے وابستہ ہوگئی لیکن مکّۂ مکرّمہ اور طَائف کے درمیان ”حُنین“ نامی علاقے میں آباد دو قبیلوں ہَوازِن اور ثَقِیف نے فَتْحِ مکّہ کا منفی اثر لیا،یہ لوگ لڑائیوں میں پیش پیش رہنے والےاور جنگی فُنُون سے آشنا تھے، جب مکّہ فتح ہوا تو انہوں نے اپنے گمان میں سمجھا کہ اب مسلمانوں کا اگلا نشانہ ہم لوگ ہیں لہٰذا ان کا جنگی جُنُون جوش مارنے لگا، ان کے سرداروں نے باہمی مشورے سے مالک بن عوف نصیری کو سالارِ لشکر بنایا اور اس کی قیادت میں مسلمانوں پر حملے کی تیاری میں مصروف ہوگئے۔(سیرت حلبیہ،ج 3،ص151ملخصاً)

مسلمانوں کی تیاری اور پیش قدمی اس طرف سیِّدِ عالَم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بھی جنگ کی تیاری شروع فرمادی، صَفوان بن ابی اُمّیہ جواس وقت تک ایمان نہیں لائے تھے، ان سے 100 زِرہیں (جنگ میں پہنا جانے والا لوہے کا لباس) دیگر لَوازِمات سمیت اُدھار لی گئیں، حضورِ اکرم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے چچا زاد بھائی حضرتِ سیّدُنا نوفل بن حارث رضی اللہ تعالٰی عنہ سے تین ہزار نیزے عارِیتاً لئے۔ یوں8سنِ ہجری کے ماہِ شوّال میں نبیِّ پاک صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم 12ہزار صحابۂ کرام کے لشکر کے ساتھ روانہ ہوئے جن میں 2ہزار نَو مسلم (نئے مسلمان ہونے والے) اہلِ مکّہ بھی شامل تھے۔ (زرقانی علی المواہب،ج 3،ص498- 499، الروض الانف،ج 4،ص205)

لڑائی کا آغاز مسلمان رات کو وادیِ حُنین پہنچے، منہ اندھیرے جنگ کے لئے نکلے ہی تھے کہ وہاں چھپے کافروں نے حملہ کردیا اور تیروں کی بارش کردی۔(زرقانی علی المواہب،ج3،ص506ملخصاً)

لبیک کی صدائیںاچانک حملے کی وجہ سے  مسلمانوں کی صفیں مُنْتَشِر ہوگئی تھیں مگر اس عالَم میں سیِّدِ عالَم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ و سلَّم نے اپنی سُواری کو کُفّار کی طرف بڑھایا اور اپنے چچاجان حضرتِ سیّدنا عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے کہا کہ صحابہ کو پُکاریں، انہوں نے پُکارا تو سب اَنصار و مُہاجِرین لَبَّیْک لَبَّیْک (ہم حاضر ہیں) کہتے ہوئے آئے اور ایسی تیزی کے ساتھ دوڑے کہ جن کے گھوڑے ہُجوم کی وجہ سے مُڑ نہ سکے وہ جلد پہنچنے کے لئے اپنی زِرہیں پھینک پھینک کر اور گھوڑوں سے کُود کُود کر دوڑے اور ایک نئے جوش و جذبے کے ساتھ لشکرِ کفّار پر ٹوٹ پڑے۔

مسلمانوں کی فتح جب جنگ کا میدان خوب گَرْم ہوا توحضور نبیِّ اکرم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے دَستِ مبارک میں کنکریاں لے کر کُفّار کے چہروں پر ماریں اور فرمایا: شَاہَتِ الْوُجُوْہُ یعنی چہرے بگڑ جائیں۔ سنگریزوں کا مارنا تھا کہ کُفّاربوکھلا کر بھاگ نکلے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے پیارے حبیب،حبیبِ لبیب صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ہاتھ فتح کا جھنڈا عطا فرمایا۔(زرقانی علی المواہب،ج3،ص507-  512ملخصاً)

غزوۂ حنین میں چار صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان نے درجۂ شہادت پایا جن کے نام یہ ہیں:(1)حضرت اَیمن بن عُبَید (2)حضرت یزید بن زَمعہ (3)حضرت سُراقہ بن حارث (4)حضرت ابوعامر اشعریرضی اللّٰہ تعالٰی عنہم۔(سیرۃ ابن ہشام،ص 493)

میں تِرے ہاتھوں کے صدقے کیسی کنکریاں تھیں وہ

جن سے اتنے کافروں کا دَفعتاً مُنھ پھر گیا

                                                                        (حدائقِ بخشش،ص53)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…شعبہ تراجم،المدینۃ العلمیہ باب المدینہ کراچی

Share