یتیموں کے ساتھ حسنِ سلوک کیجئے

سَر زمینِ عرب پر اسلام کی آمد سے پہلے دیگر بُرائیوں کی طرح یتیموں کےحُقوق دبانا اور ان پرظلم و ستم کرنا  بھی  عام تھا۔ دینِ اسلام نے نہ صرف یتیموں کےساتھ ہونے والے بُرے سلوک کی مذمّت کی بلکہ ان سے نرمی و شفقت کا برتاؤ کرنے اور ان کی ضَروریات کا خیال رکھنے کا حکم دیا ہے۔ چنانچہاللہتعالیٰ نے ارشادفرمایا:( فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْهَرْؕ(۹)) ترجمۂ کنز الایمان: تو یتیم پر دباؤ نہ ڈالو۔ (پ30،الضحٰی:9) ہر بال کے بدلے نیکی فرمانِ مصطفٰےصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: جو شخص یتیم کے سَر پراللہ پاک کی رضا کے لئے ہاتھ پھیرے تو جتنے بالوں پر اُس کا ہاتھ گزرا ہر بال کےبدلے  اُس کیلئے نیکیاں  ہیں اور جوشخص یتیم لڑکی یا یتیم لڑکےکے ساتھ بھلائی کرے، (دوانگلیوں کوملا کرفرمایا)میں اور وہ جنت میں اس طرح ہوں گے۔ (مسند احمد،ج 8،ص272،حدیث: 22215)حکیمُ الامّت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنَّان فرماتے ہیں:یہ ثواب تو خالی ہاتھ پھیرنے کا ہے جو اس پر مال خرچ کرے،اس کی خدمت کرے،اسے تعلیم و تربیَت دے سوچ لوکہ اس کا ثواب کتنا ہو گا!(مراٰۃ المناجیح ،ج  6،ص562) یتیم کسے کہتے ہیں؟ وہ نابالغ بچّہ یا بچّی جس کا باپ فوت ہو گیا ہو وہ یتیم ہے۔(دُرِّمختار ،ج10،ص416)بچّہ یا بچّی اس وقت تک یتیم رہتے ہیں جب تک بالغ نہ  ہوں ،جوں ہی بالغ ہوئے یتیم نہ  رہے۔(یتیم کسے کہتے ہیں؟،ص2) یتیموں کے ساتھ حُسنِ سلوک کی مختلف صورتیں یتیموں سےحسن ِ سلوک کی کئی صورتیں ہیں، مثلا: ان کی پرورش کرنا، کھانے پینے کا انتِظام کرنا، اچھی تعلیم و تربیَت فراہم کرنا وغیرہ۔ اسلام نے یتیموں کے بارے میں  کیسی عمدہ تعلیم دی ہے اس کی ایک جھلک ملاحظہ ہو۔ بہترین گھراور بدترین گھر فرمانِ مصطفے صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ  وسلَّم  ہے: مسلمانوں کے گھروں میں سے بہترین گھروہ ہے جس میں یتیم کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جاتا ہو اور مسلمانوں کے گھروں میں سے بد ترین گھر وہ ہے جہاں یتیم کے ساتھ بُرا سلوک کیا جاتا ہو۔(ابن ماجہ،ج4،ص193،حدیث:3679)  دِل کی سختی دُوراور حاجتیں پوری ہونے کا  نسخہ ایک شخص نے نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضِر ہوکر اپنے دل کی سختی کی شکایت کی،ارشاد فرمایا: یتیم پر رحم کیا کر، اس کے سر پر ہاتھ پھیرا کراور اپنے کھانے میں سے اسے بھی کھلایا کر، ایسا کرنے سے تمہارا دل نَرْم اور حاجتیں پوری ہوں گی۔ (مجمع الزوائد،ج،ص8 293، حدیث:13509ملتقطاً) یتیموں کی حق تلفی سے بچئے یتیموں کو وِراثت میں ان کے حصّے سے مَحروم کردینے اور ان کا مال ناحق کھانے والوں کے متعلّق سخت وعیدیں بھی بیان کی گئی ہیں،چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:( اِنَّ  الَّذِیْنَ  یَاْكُلُوْنَ  اَمْوَالَ  الْیَتٰمٰى  ظُلْمًا  اِنَّمَا  یَاْكُلُوْنَ  فِیْ  بُطُوْنِهِمْ  نَارًاؕ-)ترجمۂ کنز الایمان: وہ جو یتیموں  کا مال ناحق کھاتے ہیں  وہ تو  اپنے پیٹ میں نِری  آگ بھرتے ہیں۔ (پ4،النسآء:10) حدیثِ پاک میں ہے: چار قسم کے لوگ  ايسے ہيں کہ اللہ تعالیٰ نہ اُنہيں جنّت ميں داخل کرے گا اور نہ ہی اس کی نعمتيں چکھائے گا،ان میں سے ایک یتیم کا مال ناحق کھانے والا بھی ہے۔ (مستدرک،ج2،ص338،حدیث:2307)

نوٹ مزیدمعلومات کے لئے شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے مدَنی مذاکرے کا تحریری گلدستہ’’یتیم  کسے کہتے ہیں؟‘‘ پڑھنا بہت مفیدہے۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…شعبہ فیضان صحابہ واہل بیت،المدینۃ العلمیہ ،باب المدینہ کراچی

Share