ناکامی

ناکامی(Failure) ایسا لفظ ہے جس کا بولنایا سننا بھی اچھا نہیں لگتا،ا گر ہمارے سامنے کوئی شخص اپنے کسی منصوبے یاہدف کا ذکر کرے اور ہم اس سے کہہ دیں کہ تم اس میں ناکام ہوجاؤ گے تو اس کا منہ اُتر جائے گا ۔فی زمانہ ہر دوسرا شخص بالخصوص نوجوان اپنی ناکامیوں کا رونا روتا دکھائی دیتا ہے کہ جناب میں نے اتنی کوشش کی فلاں امتحان پاس کرنے کی مگر ناکام رہا ، میرے پاس فلاں فلاں ڈگری ہے مگر نوکری نہیں ملتی ، دن رات محنت کرتا ہوں مگر اخراجات پورے نہیں ہوتے، اچھا عہدہ(Good Post) پانے میں ناکام رہا اب گھر والے باتیں سناتے ہیں میں کیاکروں؟ وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کے لوگوں کی حالت دیکھ کر ایک سوال قائم ہوتا ہے کہ ہم ناکام کیوں ہوتے ہیں ؟حقیقت تو یہی ہے کہ کامیابی یا ناکامی دینے والی ذات رب تعالیٰ کی ہے، ہاں! کچھ ظاہری اسباب(Reasons) بھی ہوتے ہیں کہ اگر ان پر توجہ رکھی جائے تو ناکامی سے کافی حد تک بچا جاسکتا ہے ۔ ناکامی کے چند اسباب یہ ہیں:

(1) مقصد(Aim) کے تعین میں غلطی ،مثلاً ایک شخص کی دلچسپی کمپیوٹر سائنس میں ہے لیکن وہ ڈاکٹر بننے کی ٹھان لیتا ہے تو ناکامی کا ذمہ دار وہ خود ہے ،پھران مقاصد کو بھی شرعاً دیکھ لینا چاہئے کہ اگر وہ ایسا شعبہ اپنانا چاہتا ہے جہاں شریعت کی نافرمانی کرنی پڑے گی مثلاً جھوٹ، دھوکااور رشوت کا  چلن ہو گا تو ایسے شعبے کو اپنا ہدف بنانے والا نادان ہے ۔

(2)مقصد (Aim) کے حصول کے طریقہ کارمیں خامی ہونا مثلاًاگر کوئی شخص گاڑیوں کا مکینک بننا چاہتا ہے تو اسے سیکھنے کے لئے کسی ماہر کے پاس جائے اگر وہ شروع میں ہی اپنی ورکشاپ کھول کر لوگوں کی گاڑیوں پر تجربات شروع کردے گا تو شاید لینے کے دینے پڑ جائیں ۔

(3) ناتجربہ کارہونے کے باوجود تجربہ کار لوگوں سے مشورہ نہ کرنا، حافظ ملت حضرت علامہ عبدالعزیز محدث مبارکپوریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی نصیحت کا لبِّ لباب ہے کہ خود تجربے کرکے ٹھوکر کھانے کے بجائے تجربہ کاروں سے مشورہ کرلینا چاہئے اس سے وقت بچے گا ۔

(4) استقامت(Perseverance) کا نہ ہونا بھی ناکام کروا دیتا ہے ، راستہ کتنا ہی کٹھن ہو استقامت کا وصف اپنا کر پار کیا جاسکتا ہے ،پانی کے قطرے کو دیکھ لیجئے کہ اگر مسلسل کسی پتھر پر ٹپکتا رہے تو اس میں بھی کچھ نہ کچھ سوراخ کردیتا ہے ۔

(5) وقت ضائع کرنے والا اگر ناکامی کا سامنا کرے تو اسے حیران نہیں ہونا چاہئے، چیتا بہت تیز رفتار جانور ہے جو صرف تین   چھلانگوں (Jump) میں تقریباً 150کلومیٹر فی گھنٹہ کی اسپیڈ حاصل کرلیتا ہے لیکن ماہرین کے مطابق وہ اس اسپیڈ کو صرف 70سیکنڈ برقرار رکھ سکتا ہے ورنہ اس کا پیٹ پھٹ جائے ،وہ اپنے ان 70سیکنڈ کو ضائع نہیں ہونے دیتا اور اسی دوران ہی شکار پر قابو پانے کی پہلے ہی سے منصوبہ بندی کرلیتا ہے ، چنانچہ کسی جانور کا اس کے حملے سے بچ نکلنا بہت مشکل ہوتا ہے ۔

(6) مزاج (Mood)موڈ کے تحت چلنابھی ناکامی کی ایک وجہ ہوسکتا ہے ، جب جی چاہا کام کرلیا ، جب چاہا آرام کرلیا کامیاب لوگوں کا طریقہ کار نہیں چنانچہ موڈ نہیں بلکہ اصول کے تحت کام کرنا چاہئے ۔

(7)بہت زیادہ توقعات(Expectations) وابستہ کر لینے والے جب اپنی خواہشات کو پورا ہوتے نہیں دیکھتے تو اعلان کردیتے ہیں کہ جناب ہم ناکام رہے، بکرے سے گھوڑے کا کام خواب میں تو لیا جاسکتا ہے بیداری میں نہیں ۔

(8)کبھی کبھار کامیابی کے راستے میں وقتی ناکامی کا سامنا بھی ہوتا ہے اس مقام پر کئی لوگ حوصلہ ہار بیٹھتے ہیں کہ ہم کامیاب نہیں ہوسکتے،غور کرنا چاہئے کہ ہمارے اردگرد وہ لوگ جنہیں ہم کامیاب سمجھتے ہیں کیاانہیں کبھی ناکامی کا سامنا نہیں ہوا!

(9)کام کرنے سے ہوتا ہے صرف سوچنے سے نہیں،کئی لوگ بڑے بڑے اہداف مقرر کرنے کے بعد سوچتے ہی رہ جاتے ہیں کرتے کچھ نہیں ، ایسوں کو کامیابی مل جائے تو حیران کن بات ہے۔

(10)طویل مشقت سے گھبرا جانا ،بعض اوقات کامیابی اور ناکامی کے درمیان ایک قدم کا فاصلہ ہوتا ہے لیکن بعض نادان قدم بڑھانے کے بجائے واپس چلنا شروع کردیتے ہیں اور کامیابی کو خود اپنے ہاتھوں سے دفنا دیتے ہیں ۔

(11)دوسروں کے ساتھ مل کرکام کرنے میں ان کے مزاج کا سمجھنا اور اس کے مطابق ان سے کام لینا دینا بہت ضروری ہے۔عزت،حوصلہ افزائی کسے اچھی نہیں لگتی اگر دوسروں سے کام لیتے وقت حکم نہیں درخواست کا طریقہ اپنایا جائے تو وہ شخص آپ کا کام ذوق وشوق سے کرے گا اور اگر آپ بات بات پر اسے ذلیل کریں گے پھر   حکماً کو ئی کام کہیں گے تو صرف اپنے آپ کو بچانے کے لئے کام کرے گا جو شاید معیاری نہ ہو، یہ بہت اہم بات ہے لیکن مزاج شناسی کے   فُقدان کی وجہ سے کئی لوگ دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں ۔

(12)مخلص لوگوں کی قدر نہ کرنابھی ناکامی کی ایک وجہ ہے۔

(13)غلطی کی نشاندہی کرنے والے سے ناراض ہوجانے والا اپنے اوپر اصلاح کا دروازہ گویا بندکرلیتا ہے ، اب وہ کھائی میں بھی چھلانگ لگائے گا تو شاید ہی کوئی اس کو روکنے والا ہو ۔

(14)جسے کوئی کام کرنا ہو اسے اُس کام کی فکر ہوتی ہے لیکن حد سے بڑھی ہوئی فکر مندی (Tension) سے بعض اوقات کام بگڑ بھی جاتا ہے جیسے کسی کا دودھ پیتا بچہ پلنگ سے نیچے جاگرے ،اسے اٹھانے کے لئے پلنگ ہٹانا پڑے گا تو اگر یہ شخص بدحواس ہوکر پلنگ کو اس طرح کھینچے کہ بچہ زخمی ہوجائے تو یہ نقصان دہ ہے ، کیسی ہی ایمرجنسی(Emergency) کیوں نہ ہو حواس پر قابورکھنا بے حد ضروری ہے ۔

(15)ضرورت سے زیادہ کام اپنے ذمے لے لینا بھی ناکام کروا دیتا ہے ، گدھا جسے بے وقوف جانور سمجھا جاتا ہے اس پر بھی اگر زیادہ وزن رکھ دیا جائے تو بعض اوقات چلنے کے بجائے بیٹھ جاتا ہے تو انسان کے بارے میں کیا خیال ہے!

(16)اپنی غلطیوں(Mistakes) کو تسلیم کرنے والا آئندہ ان سے بچ سکتا ہے لیکن جو اپنی غلطیوں کا ذمہ دار دوسروں کو قرار دینا شروع کردے اس کا غلطیوں سے بچنا بہت دشوار ہوجاتا ہے ۔

(17)بعض نوجوان ، اچھے عہدہ(Good Post) کے انتظار میں خالی ہاتھ بیٹھے رہتے ہیں ، متبادل نوکری یا کاروبار نہیں کرتے جب ان کی عمر ڈھلنے لگتی ہے تو مایوسیوں کے سائے بھی دراز ہونا شروع ہوجاتے ہیں، پھر وہ اپنی ناکامیوں کا رونا روتے دکھائی دیتے ہیں۔

(18) اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے انسان کو جو صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں، ان پر اعتماد ہونا بہت ضرور ی ہے ، لیکن بعضوں کو ہرکام کرتے وقت دھڑکا لگا رہتا ہے کہ نہ جانے یہ کام میں کر بھی پاؤں گا یا نہیں !یوں وہ گھبراہٹ میں ناکام ہوجاتے ہیں، نظر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحمت پر ہو اُسی کی عطا کردہ صلاحیتوں پر اعتماد ہو تو کامیابی خود آگے بڑھ کر قدم چوم لیا کرتی ہے۔

(19)بعض لوگ وسائل (Resources)کی کمی کا رونا روتے رہتے ہیں ،اگر دستیاب وسائل کو دانائی سے استعمال کریں تو وسائل میں اضافہ بھی ہوجاتا ہے اور کامیابی کا سفر بھی شروع ہوجاتا ہے، اگر کوئی یہی خواب دیکھتا رہے کہ کہیں سے میرے پاس کروڑوں روپے آجائیں تو میں ایک فیکٹری بناؤں گا تو اسے چاہئے کہ اپنے پاس موجود رقم سے چھوٹاسا کاروبار شروع کردے، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے چاہا تو ترقی کرتےکرتے ایک دن فیکٹری کا مالک بھی بن سکتا ہے، ایک نوجوان ایک سیٹھ کے پاس پہنچا کہ میں آپ جیسا بڑا کاروباری بننا چاہتا ہوں تو اس نے کہا کہ فٹ پاتھ پر بسکٹ اور بچوں کی ٹافیوں کی ٹرے لے کر بیٹھ جاؤ اور انہیں بیچو،کیونکہ میں نے بھی اپنا سفر فٹ پاتھ سے شروع کیا تھا ۔

نوجوان اسلامی بھائیو! ناکامیوں کے یہ 19 اسباب مختصر طور پر ذکر کئے ہیں ، آپ خود کو سامنے رکھ کر غور کریں تو کئی اسباب سامنے آسکتے ہیں ، ان اسباب کو دور کرکے کامیابی ممکن ہے لیکن یاد رہے کوشش کرنا ہماراکام ہے اور کامیابی دینے والی ذات ربّ عَزَّ  وَجَلَّ کی ہے۔

Share

Articles

Gallery

Comments


Security Code