بڑوں کا احترام کیجئے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہماراپیارا دین ”اسلام“تعلیم دیتا ہے کہ جو عمر اور مقام ومرتبے میں چھوٹا ہو ، اس کے ساتھ  شفقت و محبت کا برتاؤ کریں اور جو علم ،عمر ،عہدے اور منصب میں ہم سے بڑے ہیں، ان کا ادب و احترام بجالائیں ۔ ہمارے بڑوں میں ماں باپ ، چچا  تایا ،خالو،مامو، بڑے بہن بھائی دیگر رشتہ دار ،اساتذہ پیر و مرشد ، علما و مشائخ اور تمام ذی مرتبہ لوگ شامل ہیں ۔ زندگی بھر کسی نہ کسی طرح ہمارا اپنے بڑوں رابطہ ضرور رہتا ہے ،اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان کا ادب واحترام کریں ۔ ان کے ادب واحترام کا حکم خود ہمارے پیارے آقا نے یوں  ارشاد فرمایا : وَقِّرِِالْکَبِیْرَ وَارْحَم ِالْصَّغِیْرَ تُرَافِقْنِیْ فِی الْجَنَّۃَ یعنی بڑوں کی تعظیم و توقیر کرو اور چھوٹوں پر شفقت کرو ، تم  جنّت میں میری رفاقت پالو گے۔(شعب الایمان،ج7،ص458،حدیث:1098،بیروت) دوسری روایت میں ہے: تم اپنی مجالس کو بوڑھے  کی عمر،عالم کے علم اور سلطان کے عہدے  کی   وجہ سے کشادہ کردیا کرو ۔

(کنزا لعمال،ج9،ص66،حدیث25495،بیروت)

معلوم ہوا بڑوں کی عزت و تعظیم اور ادب و احترام باعثِ نجات اور جنّت میں نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رفاقت پانے  کا ذریعہ ہے۔ والدین کے ادب و احترام کے متعلق  اللہ والوں کا کتنا پیارا انداز ہوا کرتا  تھا جیسا کہ حضرت امام ابنِ شہاب زہری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہفرماتے ہیں : حضرت سیدنا امام احسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ  اپنی والدہ کے بہت فرماں بردار تھے،مگر اس کے باوجود اپنی والدہ حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالٰی عنہاکے ساتھ کھانا تناول نہیں فرماتے تھے ۔کسی نے آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے  اس کا سبب دریافت کیا تو ارشاد فرمایا ا: میں امّی جان کے ساتھ اس خوف کی وجہ سے کھانا نہیں کھا تا کہ کہیں ایسا نہ ہو کسی چیزپر ان کی نظر پہلے پڑجائے اور انجانے میں وہ چیز ان  سے پہلے کھاکر ان کا نافرمان ہو جاؤں۔(بر الوالدین لابن جوزی ، ص53،رقم :66بیروت)ماں باپ کا احترام اور ان کی خدمت کرنا یقیناً بڑی سعادت مندی ہے ۔ ہمارے حق میں ان کے دل سے نکلی دعا ہماری دنیا وآخرت سنوار سکتی ہے۔

اسی طرح قریبی رشتہ داروں سے صلۂ رحمی اور ان کا احترام یقیناً باعثِ سعادت ہے کہ حدیث ِ پا ک میں ان سے صلۂ رحمی کرنے پر عمر میں اضافہ اور رزق میں وسعت (یعنی زیادتی ) کی بشارت ہے۔ (الترہیب و الترہیب ،ج3،ص217،حدیث: 16،بیروت) ہرمسلمان کو چاہئےکہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ ساتھ ہر مسلمان  کا ادب و احترام کرے ، انہیں تکلیف پہنچانے سے بچےکہ ہمارے پیارے مکی مدنی آقا  نے فرمایا: آپس میں ایک دوسر ے سے قطع تعلق نہ کر و ،پیٹھ نہ پھیرو، بغض نہ رکھو ، حسد نہ کرو اور اے بندگانِ خدا !آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ، کسی مسلمان کےلئے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین(3)دن سے زیادہ قطع تعلق رکھے ۔ “(ترمذی،ج3،ص376،حدیث:1942)      

دینِ اسلام استاد کے ادب و احترام کا بھی حکم دیتا ہے۔ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہفرماتے ہیں :مَنْ لَّااَدَبَ لَہٗ لَا عِلْمَ لَہٗ یعنی جو بے ادب ہو ،وہ علم سے بہرہ مند نہیں ہو سکتا۔(المنبہات ،ص13پشاور)اسی لیے بزرگانِ دین اپنے استادوں کا بے حد ادب و احترام کرتے تھے ۔ ان  کی موجودگی میں نگاہیں  جھکا ئے ،ہمہ تن گوش ہو کر علم حاصل کرتے ۔جیسا کہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کی علمی مجلس کی تعریف کرتے ہوئے ایک قریشی سے فرمایا : مسجد ِ نبوی میں چلے جاؤ ،وہاں ایک حلقے میں لوگ ہمہ تن گوش ہو کریوں بیٹھے ہوں گے گویا ان کے سروں پر پرندے ہیں ،جان لینا یہی حضرت سیدنا امام ابو عبد اللہ حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کی مجلس ہے۔نیز اس حلقے میں مذاق مسخری نام کی کوئی شے نہ ہوگی ۔(تاریخ ابنِ عساکر،ج14،ص179،ملخصاً بیروت)

یاد رکھئے ! پیر و مرشد کی تعظیم و تو قیر اور ان کا ادب و احترام بھی ہر مرید پر لازم ہے ۔والدین ، اساتذہ اور بڑے بھائی کا مقام اور ان کی اہمیت بھی اپنی جگہ مگر پیر و مرشد وہ ہستی ہے کہ جس کی صحبت دل میں خوف ِ خدا و عشق ِ مصطفےٰ  اجاگر کرتی نیز باطن کی صفائی ،گناہوں سے بیزاری ،اعمال ِ صالحہ میں اضافہ اور سلامتیِ ایمان کے لیے فکر مند رہنے کی سوچ فراہم کرتی ہے ۔لہٰذا مرید کو چاہئے کہ اپنے مرشدسے فیض پانے کیلئے پیکر ِ ادب بنارہے کہ حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہفرماتے ہیں :جب  کوئی مرید ادب کا خیال نہیں رکھتا  ،تو وہ لوٹ کر وہیں پہنچ جاتا ہے جہاں سے چلا تھا۔(رسالہ قشیریہ ، ص319بیروت )یاد رہے !بزرگوں کا ادب کرنے والا نہ صرف معاشرے میں معزز سمجھا جاتا ہے بلکہ بعض اوقات بڑوں کے ادب و احترام کے سبب اس کی بخشش و مغفرت بھی ہو جاتی ہے ، چنانچہ ایک مرتبہ ایک شخص دریا کے کنارے پر بیٹھا وضو کر رہا تھا، اسی دوران لاکھوں حنبلیوں کے عظیم پیشوا حضرت احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ وہاں تشریف لائے اور اس سے کچھ فاصلے پر بیٹھ کر وضو کرنے لگے ،جب اس شخص نے دیکھا کہ جس طرف میرے وضو کا غسالہ (دھوون)بہہ رہا ہے ،اس طرف تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کے ایک مقرب ولی بیٹھ کر وضو فرما رہے ہیں ،تو اس کے دل نے یہ بات  گوارانہ کی او روہ اٹھ کر حضرت حمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالٰی علیہکے دوسری طرف جا کر بیٹھ گیا،جہاں سے ان کے وضو کا مستعمل پانی اس کی طرف آرہا تھا،اللہ عَزَّوَجَلَّ کے  ولی کے ادب واحترام کا صلہ اس شخص کو یوں ملا کہ جب اس کا انتقال ہوا اور کسی نے اسے خواب میں دیکھ کر حال دریافت کیا تو اس نے بتایا:اللہ عَزَّوَجَلَّ  نے اپنے ولی حضرت سیدنا امام احمد بن حنبل  رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  کے ادب   کی برکت سے مجھے بخشش دیا ۔(تذ  کرۃالاولیاء،ج1،ص196)یقیناً جو لوگ بڑوں کی عزت و عظمت کو تسلیم کرتے ہوئے دل سےان کا ادب و احترام کرتے ہیں تو لوگو ں کے دلوں میں ان کی محبت پیدا ہوجاتی ہے اور ایسے باادب لوگ معاشرے میں عزت و وقار کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں ۔

Share

Articles

Comments


Security Code