ربیع الاخر میں کی جانے والی آسان نیکیاں

ماہِ فاخر ،ربیع الآ خر کے تشریف لاتے ہی  حضور سیدنا غوث اعظمعلیہ رحمۃ اللہ الاَکرمکے دیوانوں میں خوشی کی لہر دوڑجاتی ہے ۔اس ماہِ مبارک کو غوث ِ پاک رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے خصوصی نسبت حاصل ہے ، اسی لئے عاشقانِ غوثِ اعظم اس مہینے کو ربیع الغوث بھی کہتے ہیں ۔ذیل میں چند آسان نیکیوں کا تعارف پیش کیا جاتاہے۔ ماہِ ربیع الآ خر میں خود بھی ان نیکیوں پر عمل پیرا ہوں اور دوسروں کو بھی ان کی ترغیب دلا کر ثواب ِ دارین کے حق دار بنیں۔

   صالحین کا ذکرِ خیرکرنا

فرمانِ مصطفے صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے : اِمْلَاءُ الْخَیْرِ خَیْرٌ مِّنَ الّسُّکُوْتِ وَ السُّکُوْتُ خَیْرٌ مِّنَ الْاِمْلَاءِ الشَّرِّ یعنی اچھی بات کہنا خاموشی سے بہتر ہے اور خاموش رہنا بُری بات کہنے سے بہتر ہے۔

                        (شعب الایمان ، ج4، ص256،حدیث : 4993،بیروت)

کتنےخوش نصیب ہیں وہ اسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں جو صِرْف اچھی بات کہنے کے لئے زبان کو حرکت میں لاتے ہیں ، نیک لوگوں کا تذکرہ بھی اچھی گفتگو میں شامل ہے اور باعث ِ رحمت بھی ۔

چنانچہ حضرت سیدنا سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہکا فرمان ہے: عِنْدَ ذِکْرِالصَّالِحِیْنَ تَنْزِلُ الرَّحْمَۃُ یعنی نیک لوگوں کے ذکر کے وقت رحمت نازل ہوتی ہے۔(حلیۃ الاولیاء، ج7،ص335،حدیث:10750،بیروت)جامعِ صغیر میں ہے : انبیاء ِ کرام علیہمُ السَّلام کا ذکر کرنا عبادت ہے اور صالحین کا ذکر(گناہوں کا) کفارہ ہے۔(جامع صغیر ،ص264، حدیث:4331، بیروت)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جب نیک بندوں کے تذکرے  کے وقت رحمتِ خدا وندی کا نزول ہوتا ہے تو جس مقام پرنیک بندے خود موجود ہوں ، وہاں کیوں نہ جھوم جھوم کر رحمت نازل ہوگی ، لہٰذا نیک بندوں کی ظاہری زندگی میں ان کی صحبت اور وصال ِ ظاہری کے بعد ان کے مزارات پر حاضری کو اپنا معمول بنالیجئے ۔ وہاں نازل ہونے والی بے پایاں رحمتوں سے ہم بھی اپنا حصہ پانے میں ضرور کامیاب ہوں گے۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ

جو عشق ِ نبی کے جلوو کو سینوں میں بسایا کرتے ہیں

اللہ کی رحمت کے بادل ان لوگوں پہ سایہ کرتے ہیں

  ہمیں بزرگوں کی باتیں سنایئے

محدثِ اعظم پاکستان حضرت مولانا سردار احمد چشتی  قادری  علیہ رحمۃ اللہ القَوی کو بچپن ہی سے اپنے بزرگوں سے والہانہ عقیدت تھی ، چنانچہ آپ اسکول کی تعلیم  کے دوران اپنے استاذ صاحب سے عرض کیا کرتے : ماسٹر جی! ہمیں بزرگوں کی باتیں سنایئے اور حضور سرورِِ کائنات صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی حیات ِ طَیِّبَہ پر ضرورروشنی ڈالا کیجئے۔ (حیاتِ محدثِ اعظم ،ص 32،لاہور)

ماہِ ربیع الآخر میں بالخصوص حضور سیدنا غوث ِ اعظم کا ذکرِ خیر کرنا سننا عین سعادت کی بات ہے۔اس مقصد کے لئے بانیِ دعوتِ اسلامی، شیخِ طریقت ، امیرِ اہلِسنت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمدا لیاس عطّاؔر قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے رسائل ”جنّات کا بادشاہ، منّے کی لاش اور سانپ نما جن“نیزمکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب غوثِ پاک کے حالات کا پڑھنا ،سننا نہایت مفید ہے۔

                     

گیارہویں شریف

ماہِ ربیع الآخر میں کی جانے والی آسا ن نیکی گیارہویں شریف ہے ۔ حضور سیدنا غوثِ اعظم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہکے ایصالِ ثواب  کی فاتحہ کو ادباً گیارہویں شریف کہا جاتا ہے ۔ حکیم الامّت مفتی احمد یار خان  رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں :”اس مہینہ میں ہرمسلمان اپنے گھر میں حضور غوثِ پاک ،سرکارِ بغداد کی فاتحہ کرے ، سال بھر تک بہت برکت رہے گی ۔ اگر ہر چاند  کی گیارہویں شب کو یعنی دسویں اور گیارہویں تاریخ کی درمیانی رات کو مقرر پیسوں کی شیر ینی مسلمان کی دکان سے خرید کر پابندی سے گیارہویں کی فاتحہ دیا کریں تو  رزق میں بہت ہی برکت ہوگی اور اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کبھی پریشان حال نہ ہوگا، مگر شرط یہ ہے کہ ناغہ نہ کرے اور جتنے پیسے مقرر کردے ،اس میں کمی نہ ہو ،اتنے ہی پیسے مقرر کرے، جتنے کی پابندی کرسکے ۔ خود میں اس کا سختی سے پابند ہوں اور بفضلہٖ تعالیٰ اس کی خوبیاں بے شمار پاتاہوں۔ وَالْحَمْدُلِلّٰہ عَلٰی ذٰلِکَ(اسلامی زندگی ،ص 132،مکتبۃ المدینہ کراچی) فاتحہ کا طریقہ جاننے کے لئے ، شیخ ِ طریقت ، امیرِ اہلِسنّت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی کا رسالہ فاتحہ کا طریقہ  ملاحظہ فرمایئے۔ برادرِ اعلیٰ حضرت مولانا حسن رضا خان اپنے نعتیہ دیوان”ذوقِ نعت“میں عرض کرتے ہیں :  

کیا غور جب گیارہویں بارہویں میں

معمّا یہ ہم پر کھلا  غوثِ اعظم

تمہیں وصل بے فصل ہے شاہِ دیں سے

دیا حق نے یہ مرتبہ غوثِ اعظم

(ذوق نعت،ص۱۲۵،گجرات،ہند)

Share