حضرت سلیمان علیہ السلام اور سمجھدار چیونٹی

ایک مرتبہ  اللہ تعالٰی کے نبی حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام  بہت بڑا لشکر لے کرایک وادی سے گزرے جہاں بہت زیادہ چیونٹیاں تھیں،لشکر کو دیکھ  چیونٹیوں کی ملکہ نے تمام چیونٹیوں سے کہا: اے چیونٹیو!تم سب اپنے گھروں میں چلی جاؤ کہیں حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام  اور ان کا لشکر تمہیں بے خبری میں  کچل نہ دے۔ ’’سمجھ دار چیونٹی‘‘ کی یہ بات حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام نے تین (3)میل دور سے سن لی اور مسکرا کر اپنے لشکر کو روک دیا تاکہ چیونٹیاں اپنے گھروں میں داخل ہوجائیں۔اللہ تعالٰی نے اس واقعے کو قرآنِ مجید میں اس طرح بیان فرمایا ہے:(حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِۙ-قَالَتْ نَمْلَةٌ یّٰۤاَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْۚ-لَا یَحْطِمَنَّكُمْ سُلَیْمٰنُ وَ جُنُوْدُهٗۙ-وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ(۱۸)فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا )۱۹،النمل:۱۸، ۱۹) ترجمۂ کنز الایمان:  یہاں تک کہ جب چیونٹیوں کے نالے پر آئے، ایک چیونٹی بولی: اے چیونٹیو! اپنے گھروں میں چلی جاؤتمہیں کُچل نہ ڈالیں سلیمان اور اُن کے لشکر بے خبری میں، تو اُس کی بات سے مسکرا کر ہنسا۔(اس اٰیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

پیارے مدنی منو اور مدنی منیو!اس سچی کہانی سے ہمیں بہت سی پیاری پیاری باتیں پتا چلیں۔پہلی بات یہ کہ تین میل  دور سے چیونٹی کی اتنی ہلکی آواز کو سن لینا اللہ تعالٰی کے نبی حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام  کا معجزہ ہے اور اللہ تعالٰی کے حکم سے اللہ تعالٰی کے نبیوں اور ولیوں کی سننے اور دیکھنے کی طاقت عام لوگوں کی سننے اور دیکھنے کی طاقت سے بہت زیادہ ہوا کرتی ہے۔آپ غور کیجئے کہ جب حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام  کی سننے کی قوت اتنی ہے تو پھر تمام نبیوں کے سرداراور سب سے افضل ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفٰے   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سننے اور دیکھنے کی طاقت کا عالَم کیا ہوگا!

دوسری بات یہ پتا چلی کہ ایک چیونٹی بھی جانتی ہے کہ اللہ  عَزَّ  وَجَلَّکے نبی کسی پر ظلم و زیادتی نہیں کرتے  اس لیے اُس نے دوسری چیونٹیوں سے کہا کہ”اپنے گھروں میں چلی جاؤ ورنہ بے خبری میں حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام کا لشکر تمہیں کچل نہ دے۔“ کیونکہ جان بوجھ کر تو وہ ایسا ہرگز نہیں کریں گے۔ لہٰذا ہمیں بھی بے زبان جانوروں پر رحم کرنا چاہیے۔ تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ  چیونٹیوں اور اس جیسے دوسرے   نقصان نہ دینے والے کیڑوں کو بِلا وجہ مارنا اوران پر ظلم نہیں کرنا چاہیے۔ایک بار بانئ دعوتِ اسلامی،امیر اہلسنّت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دَامَت بَرَکاتُہُم الْعَالِیَہ واش بیسن (Wash Basin)پَر ہاتھ دھونے کیلئے پہنچے مگر رُک گئے، ، پھر فرمایا کہ واش بیسن میں چند چیونٹیاں رِینگ رہی ہیں، اگر میں نے ہاتھ دھوئے تو یہ بہہ کر مر جائیں گی،لہٰذا کچھ دیر انتظار فرمانے کے بعد جب چیونٹیاں آگے پیچھے ہوگئیں تو پھرآپ دَامَت بَرَکاتُہُم الْعَالِیَہ نے ہاتھ دھوئے۔

پیارے مدنی منو اور مدنی منیو!یہ باتیں ہمیشہ یاد رکھئے کہ جو جانور تکلیف نہیں پہنچاتے اُنہیں مارنا نہیں چاہیے۔ گلی کوچوں میں بیٹھے ہوئے کتوں یا گھومتی  پھرتی ہوئی بلیوں کو بلاوجہ پتھرنہ مارئیے اور نہ ہی ان کے گلے میں رسی ڈال کرانہیں ادھراُدھر کھینچئے،یہ ان بے چاروں پر ظلم ہے۔ یونہی خواہ مخواہ چیونٹیوں کو نہ مارئیے ۔جن جانوروں سے تکلیف پہنچنے کا خطرہ ہو اُن سے دور رہیئے۔چھپکلی اور گِرگِٹ وغیرہ کو مار سکتے ہیں بلکہ اِن کو مارنے پر ثواب بھی ملتا ہے اور یوں ہی چوہوں کو بھی  مارسکتے ہیں کیونکہ یہ نقصان پہنچاتے ہیں، کپڑے اور دوسری چیزوں کو کُتر کر خراب کردیتے ہیں۔

Share

Articles

Comments


Security Code