درزیوں کا ایک مسئلہ/ موبائل پر ایڈاوانس بیلنس لینا کیسا؟

گاہک سوٹ سینے کے لئے د ے جائے لیکن واپس نہ آئے تو درزی کیا کر ے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری درزی کی دکان ہے ۔بعض اوقات ہمیں گاہک سوٹ سلائی کروانے کے لئے دے کر چلے جاتے ہیں پھر واپس لینے نہیں آتے اور اس طرح دودو، تین تین سال گزرجاتے ہیں۔ ہمارے لئے شریعت کا کیا حکم ہے جبکہ اس میں ہماری محنت بھی ہے اور اخراجات بھی ؟

الجواب بعون الملک الوھاب  اللھم  

ھدایۃ الحق والصواب

پوچھی گئی صورت میں آپ اجیر مشترک ہیں اور اجیر مشترک کے پاس جو لوگ کام لے کر آتے ہیں اس کی شرعی حیثیت امانت اور ودیعت کی ہے جس کا حکم یہ ہے کہ جب تک اس چیزکا مالک نہیں آتا اس کی حفاظت کریں،اسے بیچنے یا صدقہ کرنے کی ہرگز اجازت نہیں۔ نیز اسے اپنی اجرت میں شمارکرنا بھی آپ کے لئے جائز نہیں کیونکہ اجرت کے مستحق ہونے کے لئے اس چیز کا مالک کو سپرد کرنا ضروری ہے تو جب تک مالک نہ آجائے اور وہ چیز اسے دے نہ دیں کچھ وصول نہیں کرسکتے۔ مشورہ:ہر آنے والے گاہک سے اس کا ایڈرس اور فون نمبر ضرور معلوم کرلیا کریں تاکہ وقت ضرورت رابطہ کیا جاسکے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہُ اَعْلَمُ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ

موبائل کمپنی سے ایڈوانس بیلنس

حاصل کرنا کیسا؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ موبائل کمپنیاں مختلف قسم کے پیکجز دیتی رہتی ہیں تاکہ لوگ ان کی طرف مائل ہوں، ان ہی میں سے ایک پیکیج لون(Loan)  کا بھی ہے۔ اس کا طریقۂ کار یہ ہوتا ہے کہ اگر آپ کے پاس بیلنس ختم ہوگیاہے تو کمپنی یہ آفر کرتی ہے کہ آپ لون لے لیں پھر جب آپ موبائل میں بیلنس ڈلوائیں گے تو ہم نے جتنے دئیے ہیں وہ اور اتنے اوپر مزید کاٹ لیں گے اور یہ بات کسٹمر کو معلوم ہوتی ہے اور کسٹمر راضی ہوکر لَون لیتا ہے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا اس میں زیادہ پیسے کاٹنا شرعاً جائز ہے؟بعض لوگ کہتے ہیں یہ سود ہے کیا یہ بات درست ہے ؟

الجواب بعون الملک الوھاب  اللھم  

ھدایۃ الحق والصواب

مذکورہ معاملہ ہرگز سود نہیں بلکہ ایک جائز طریقہ ہے کیونکہ یہ اجارہ ہے قرض نہیں کہ یہاں کمپنی سے پیسے وصول نہیں کئے جارہے بلکہ اس کی سروس استعمال کی جارہی ہے۔ عمومی طور پر کمپنی پہلے پیسے لے لیتی ہے اور پھر سروس فراہم کرتی ہے جبکہ پوچھی گئی صورت میں کمپنی پہلے سروس فراہم کررہی ہے اور پھر پیسے وصول کررہی ہے اور یہ دونوں طریقے جائز ہیں یعنی منفعت فراہم کرنے  سے پہلے عوض لے لینا بھی درست ہے اور منفعت فراہم کرنے کے بعد عوض لینایہ بھی درست ہے۔ اگرچہ پہلی صورت میں عوض کم وصول کیا جارہا ہے اور دوسری صورت میں عوض زیادہ لیا جارہا ہے اور کمپنی کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ پیشگی سروس عام ریٹ سے ہٹ کر کچھ زیادہ قیمت پر فراہم کرے جیسے نقد و اُدھار کی قیمتوں میں فرق کرنا جائز ہوتا ہے نیز صارف کو بھی یہ بات معلوم ہے کہ بعد میں ادائیگی کی صورت میں یہ سروس مجھے عام قیمت سے ہٹ کر کچھ زیادہ قیمت پر فراہم کی جائے گی اور وہ اس بات پر راضی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

البتہ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اس سہولت کو لون (Loan) کا نام نہ دیا جائے کیونکہ اس سے یہ شبہ لاحق ہوتا ہے کہ کمپنی قرض دے کر اس پر نفع وصول کررہی ہے اور بعض لوگوں نے اسے سود سمجھ بھی لیا حالانکہ اس کو سود سمجھنا غلط ہے کیونکہ کمپنی یہاں پیسے نہیں بلکہ سروس دے رہی ہے۔

تنویر الابصار میں ہے : ’’ تملیک نفع بعوض‘‘یعنی کسی شے کے نفع کا عوض کے بدلے مالک بنادینا اجارہ ہے۔       (الدرالمختار مع ردالمحتار،ج9،ص32 مطبوعہ کوئٹہ)

ہدایہ میں ہے: ’’تستحق باحدی معانی ثلاثۃ اما بشرط التعجیل او بالتعجیل من غیر شرط او باستیفاء المعقود علیہ‘‘ یعنی تین میں سے ایک صورت کے پائے جانے سے مؤجر اجرت کا مستحق ہوگا، پہلے دینے کی شرط کرلے، یا بغیر شرط کے پہلے اجرت وصول کرلے یامستاجر، اجارہ پر لی گئی چیز سے فائدہ اُٹھالے۔ (ہدایہ،ج3،ص297 مطبوعہ کراچی)

امام کمال الدین ابن ہمام رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہفرماتے ہیں:’’الثمن علی تقدیر النقد الفا وعلی تقدیر النسیئۃ الفین لیس فی معنی الربا‘‘ ترجمہ: نقد کی صورت میں ثمن ایک ہزار ہونا اور اُدھار کی صورت میں دوہزار ہونا سود کے حکم میں نہیں۔(فتح القدیر،ج6،ص81 مطبوعہ کوئٹہ )

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہُ اَعْلَمُ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ

 

خوشخبری: دعوت اسلامی کے  شعبے ”دار الافتاء اہل سنت“ کی مزیدایک شاخ کا افتتاح جامع مسجد فیض مدینہ کریلا اسٹاپ نارتھ کراچی سے متصل مدرسۃ المدینہ میں8ذوالقعدۃ الحرام 1437ھ/ 11اگست2016ء  سے ہوگیاہے۔ افتاء مکتب باب المدینہ کراچی  کو  شمار کرتے ہوئے پاکستان میں یہ دار الافتاء اہل سنت کی بارہویں شاخ ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَلَی اِحْسَانِہ۔

فون کے ذریعے رہنمائی: دار الافتاء اہل سنت سے شرعی رہنمائی حاصل کرنے کا ایک بڑا ذریعہ فون سروس بھی ہے۔ پاکستان کے چار نمبروں کے ساتھ ساتھ، افریقہ،امریکہ ،یوکےاورآسٹریلیا کے لیے لوکل نمبرز بھی موجود ہیں۔ان تمام نمبروں پر دنیا بھر کے مسلمان رابطہ کر سکتے ہیں، البتہ جن ممالک کے نمبرز ہیں ان کے لیے یہ سہولت لوکل ریٹ پر میسر ہے۔

{دار الافتاء اہل سنت کے فون نمبرز اور میل ایڈریس}

فون سروس کے اوقات کار

0300-0220113

0300-0220112

بالخصوص پاکستان اور دنیا بھر کیلئے

4pm to 10 am (وقفہ1تا2،جمعۃ المبارک تعطیل)

0300-0220113

0300-0220112

بالخصوص پاکستان اور دنیا بھر کیلئے

پاکستانی اوقات کے مطابق2pm تا 7pm(علاوہ نماز  کے اوقات)

0044 121 318 2692

بالخصوص یو کے اور دنیا بھر کیلئے

پاکستانی اوقات کے مطابقpm  2تا 7pm (علاوہ نماز  کے اوقات)

0015 8590 200 92

بالخصوص امریکہ اوردنیا بھر کیلئے

پاکستانی اوقات کے مطابق pm  2تا 7pm (علاوہ نماز  کے اوقات)

0027 31 813 5691

بالخصوص افریقہ اور دنیا بھر کیلئے

پاکستانی اوقات کے مطابق pm  2تا 7pm  (علاوہ نماز  کے اوقات)

0061 28 00 58 426

بالخصوص آسٹریلیا اور دنیا بھر کیلئے

Email:darulifta@dawateislami.net

منجانب مجلس افتاء(دعوتِ اسلامی)

Share

Articles

Comments


Security Code