نیند

”نیند“ ایک عظیم نعمت ہے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! صحت مند زندگی گزارنے کے لیے اچھی خوراک کے ساتھ ساتھ مناسب مقدار میں ”نیند“ بھی ضروری ہے۔ ”نیند“ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے کہ اس کی بدولت انسان تازہ دم ہوجاتا ہے، اگر انسان کی ”نیند“ پوری نہ ہو تو کام کاج ہو یا تعلیم ہر کام متأثر ہوتا ہے۔ بدن کو آرام و سکون پہنچانے کا ایک بہترین طریقہ ”نیند“ ہے، چنانچہ فرمانِ باری تَعَالیٰ ہے: وَّ جَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًاۙ(۹)ترجمۂ کنزالایمان:اور تمہاری ”نیند“ کو آرام کیا۔(پ 30، النبا: 9) تمہارے جسموں کے لیے تاکہ اس سے کوفت اور تکان دور ہو اور راحت حاصل ہو۔(خزائن العرفان) ”نیند“ بڑے پہلوان کو پچھاڑ دیتی ہے، ”نیند“ بڑے عالِم کا عِلم بُھلا دیتی ہے ”نیند“ سے انسان کی بے بسی ظاہر ہوتی ہے۔(نور العرفان)

کس کو کتنا سونا چاہیے؟

عمر کے مختلف ادوار کے اعتبار سے انسان کو ”نیند“ کی مختلف مقدار درکار ہوتی ہے۔ طبّی تحقیق کے مطابق کم سِن بچوں کے لیے 12 سے 15 گھنٹے، 15 سے 40 سال والوں کے لیے 7 سے 8 گھنٹے جبکہ 40 سال سے زائد عمر والوں کے لیے 6 گھنٹے کی ”نیند“ ضروری ہے۔

”نیند“ پوری نہ ہونے کے نقصانات

”نیند“ پوری  نہ ہونے کے متعدَّد جسمانی، روحانی اور معاشرتی نقصانات ہیں۔ مسلسل ”نیند“ پوری نہ ہونے پر ملازم اگر ڈیوٹی کے اوقات میں سوتا یا اونگھتا رہے تو اس سے نہ صرف اس کا کام متأثر  ہوگا بلکہ انجامِ کار اسے نوکری سے بھی ہاتھ دھونا پڑسکتا ہے۔ ڈرائیور یا پائلٹ کی ”نیند“ پوری نہ ہو تو نہ صرف اس کی بلکہ مسافروں کی جان بھی خطرے میں پڑسکتی ہے۔ کئی حادثات کے بعد جب تحقیقات ہوئیں تو حادثے کا بنیادی سبب ڈرائیور کا دورانِ ڈرائیونگ اونگھنا پایا گیا۔ طالبِ عِلم کی ”نیند“ پوری نہ ہو تو کلاس کے دوران اُستاد کی بیان کردہ باتوں کو سمجھنا اور محفوظ کرنا اس کے لیے دشوار ہوگا۔ الغرض جو شخص جس بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو، ”نیند“ کا فطری تقاضا پورا نہ ہونا اس کے لیے جسمانی اور روحانی اعتبار سے نقصان دِہ ہے۔ مسلسل ”نیند“ کی کمی انسان کے مزاج میں جھنجھلاہٹ اور چِڑچڑا پن پیدا کردیتی ہے، وہ  معمولی باتوں پر طیش میں آجاتا اور سامنے والے کو کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہر کوئی اس سے دور بھاگتا ہے۔ بلڈ پریشر اور ڈپریشن کے مریضوں کی اگر ”نیند“ پوری نہ ہو تو ان کی بیماری میں شدت آجاتی ہے جبکہ ”نیند“ پوری ہونے سے مرض میں افاقہ ہوتا ہے۔ دماغ کے خلیے (Cells) اگر مسلسل کام کرتے رہیں اور انہیں آرام کا وقت نہ ملے تو ان سے (Free Radicals) خارج ہوتے ہیں جو جسم کے تندرست خلیوں پر حملہ آور ہو کر انہیں کمزور کر دیتے ہیں اور انسان مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے جن میں پاگل پن نمایاں بیماری ہے۔

زیادہ سونے کے نقصانات

جس طرح ”نیند“ کی کمی کے نقصانات ہیں یونہی ”نیند“ کی زیادتی بھی نقصان سے خالی نہیں۔ حضرت سَیِّدُنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں اِستِفسار کیا: کیا جنتیوں کو ”نیند“ آئے گی؟ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ”نیند“ موت کی بہن ہے اور جنتیوں کو موت نہیں آئے گی۔(مشکوٰۃ المصابیح،ج 2،ص336، حدیث: 5654)

(”نیند“ موت کی بہن ہے) کیونکہ اس میں عمل کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے۔ (اور اہلِ جنت کو موت نہیں آئے گی) اس لیے وہ سوئیں گے بھی نہیں۔ اس حدیثِ پاک میں ”نیند“ کی کثرت کی مذمت کی طرف اشارہ ہے کیونکہ نہ صرف اس کے اخروی بلکہ دنیوی نقصانات بھی کثیر ہیں۔ ”نیند“ کی کثرت سے غفلت پیدا ہوتی ہے، بلغم کی  کثرت ہوتی، معدہ کمزور اور منہ بدبودار ہوتا ہے۔ زیادہ ”نیند“ نظر اور جسم کو کمزور کر دیتی ہے۔ یہ تمام نقصانات عصر اور صبح کے وقت کی ”نیند“ کے علاوہ ہیں جبکہ ان دونوں اوقات میں سونے کا نقصان اور زیادہ ہوتا ہے۔ طبّی اعتبار سے دن میں سونا رات میں سونے سے زیادہ نقصان دِہ ہے۔(فیض القدیر،ج  6،ص390، تحت الحدیث: 9325، ملخصاً)

”نیند“ نہ آنے کی وجوہات

جن کو ”نیند“ نہ آنے کی شکایت ہو انہیں درج ذیل باتوں پر غور کر کے ان کا ازالہ کرنا چاہیے: خواب گاہ کا پُر سکون نہ ہونا، وہاں شور شرابے کی آوازیں آنا، بستر یا تکیے کا آرام دِہ نہ ہونا، سونے کے معمول کا متأثر ہوجانا مثلاً دس بجے سونے والے کا بارہ بجے سونا، بہت کم یا بہت زیادہ کھانا، سگریٹ نوشی، چائے، کافی، چاکلیٹ یا سافٹ ڈرنکس کا زیادہ استعمال، رات دیر تک ٹی وی، کمپیوٹر یا موبائل پر مصروف رہنا۔ طبّی تحقیق کے مطابق ٹی وی، موبائل اور کمپیوٹر سے نکلنے والی شعاعیں(Radiation) براہِ راست”نیند“ کے خلیوں کو متأثر کرتی ہیں یہی وجہ ہے کہ عموماًٹی وی دیکھتےہوئے  یاموبائل سےکھیلتے ہوئے ”نیند“ کافی دیر سے آتی ہے۔ڈاکٹر حضرات کی رائے کے مطابق بچوں کے بیڈ روم میں میڈیا سے متعلق کوئی بھی چیز مثلاً ٹی وی، کمپیوٹر، وڈیو گیم، ڈی وی ڈی پلیئر، موبائل فون وغیرہ نہیں ہونا چاہیے۔

خواب آور ادویات کے نقصانات

ایک تحقیق کے مطابق گزشتہ چند سالوں میں وطنِ عزیز پاکستان میں خواب  آور ادویات کے استعمال میں سو فیصد (100%) اضافہ ہوا ہے اور ایک سو تیس  سے زائد کمپنیاں ان ادویات کی تیاری میں مصرو ف ہیں۔ لگ بھگ ساٹھ لاکھ سے زائد پاکستانی ان ادویات کا استعمال کرتے ہیں جن میں سے اسی فیصد (80%) کی عمر تیس سے پچاس سال کے درمیان ہے جبکہ اس عمر کے افراد میں بھی ساٹھ فیصد (60%) سے زائد خواتین ان ادویات کو استعمال کرتی ہیں۔ ان ادویات کے استعمال سے اگرچہنیند تو آجاتی ہے لیکن قدرتی ”نیند“ کے جو فوائد ہیں وہ حاصل نہیں ہوتے۔ خواب آور ادویات کےمسلسل استعمال سے ایک وقت ایسا آتا ہے کہ دوا کارگر ثابت نہیں ہوتی، اب  دوا کی مقدار میں اضافہ کرنا پڑتا ہے اور بسا اوقات یہ مقدار اتنی زیادہ ہوجاتی ہے کہ اس کے استعمال سے کوما(مسلسل بےہوشی) میں جانے کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔ خواب آور ادویات کا استعمال صرف ڈاکٹر کے مشورے سے اور تجویز کردہ مقدار میں ہی کرنا چاہیے۔

”نیند“ کا بہترین وقت

بدقسمتی سے آج کل ہمارے معاشرے میں رات دیر تک جاگنے اور پھر دوپہر چڑھے  تک سونے کا معمول عام ہوتا جارہا ہے  جو نہ صرف شرعی لحاظ سے ناپسندیدہ  بلکہ طبّی لحاظ سے بھی نقصان دِہ ہے۔ اگر آپ صحت مند زندگی گزارنے کے خواہش مند  ہیں تو رات کو دینی مشاغل سے فارغ ہو کر جلد سوجایئے کہ رات کا آرام دن کے آرام کے مقابلے میں زیادہ صحت بخش ہے اور عین فطرت کا تقاضا بھی، چُنانچہ فرمانِ الٰہی ہے:

وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۷۳)

ترجَمۂ کنز الایمان: اور اس نے اپنی  مہر (رحمت) سے تمہارے لیے رات اور دن بنائے کہ رات میں آرام کرو اور دن میں اس کا فضل ڈھونڈو (یعنی کسب ِ معاش کرو) اور اس لیے کہ تم حق مانو۔(پ 20، القصص: 73)

 اس سے معلوم ہوا کہ کمائی کے لیے دن اور آرام کے لیے رات مقرر کرنی بہتر ہے۔ رات کو بِلا وجہ نہ جاگے، دن میں بیکار نہ رہے اگر معذوری (مجبوری) کی وجہ سے دن میں سوئے اور رات کو کمائے تو حرج نہیں جیسے رات کی نوکریوں والے ملازم وغیرہ۔(انمول ہیرے، ص 20)

دن لہو میں کھونا تجھے شب صبح تک سونا تجھے

شرمِ نبی خوفِ خدا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

                                                            (حدائقِ بخشش، ص 111)

بے خوابی کے 5 علاج

(1)”نیند“ نہ آتی ہو تو سونے سے قبل:  اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶)(پ 22، الاحزاب: 56) پڑھ کر دُرُود شریف پڑھ  لیجئے اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ”نیند“ آجائےگی۔

(2)”نیند“ نہ آتی ہو تو پارہ 30 سُوْرَۃُ النَّبَا کی آیت نمبر9: وَّ جَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًاۙ(۹)بار بار پڑھے اِنْ شَاءَ اللہ  عَزَّوَجَلَّ  جلدی ”نیند“ آجائے گی۔

(3)جس کو ”نیند“ نہ آتی ہو وہ یا تو کچی پیاز چبا کر کھا لے یا اُبلی ہوئی پیاز گرم دودھ میں ڈال کر استعمال کر ے اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ خوب ”نیند“ آئے گی۔(گھریلو علاج، ص 28)

(4)جس کو دَرد وغیرہ کے سبب ”نیند“ نہ آتی ہو تو اُس کے پاس لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کثرت سے پڑھنے سے اُس کو اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ”نیند“ آجائے گی نیز اللہ ربُّ العِزّت عَزَّ وَجَلَّ کی رَحمت سے مریض جلد صحّت یاب بھی ہو جائے گا۔(مریض کو پڑھنے کی آواز نہ جائے اِس کی احتیاط کیجئے)

(5)اگر ”نیند“ نہ آتی ہو تو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ 11 بار پڑھ کر اپنے اُوپر دم کر دیجئے، اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ”نیند“ آ جائے گی۔ (بیمار عابد، ص 26)

کن اوقات میں نہیں سونا چاہیے

عصر کے بعد نہ سوئیں عقل زائل ہونے کا خوف ہے۔ فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے: جو شخص عصر کے بعد سوئے اور اس کی عقل جاتی رہے تو وہ اپنے آپ کو ہی ملامت کرے۔(مسندِ ابی یعلیٰ،ج 4،ص278، حدیث: 4897)

دن کے ابتدائی حصّہ میں سونا یا مغرب و عشا کے درمیان میں سونا مکروہ ہے۔(بہارِ شریعت،ج 3،ص436)

مدنی مشورہ:سونے اور جاگنے کی سنتیں اور آداب سیکھنے کے لیے 101 مدنی پھول صفحہ 29  ملاحظہ فرمائیے۔

میں سو جاؤں یامصطفےٰ کہتے کہتے

کھلے آنکھ صلِّ علیٰ کہتے کہتے

Share

Articles

Comments


Security Code