حضرت سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ

کسی کی شخصیت جاننے کیلئے چونکہ اسکی صفات و نظریات اور اخلاقیات کا جاننا ضروری ہے۔لِہٰذا یہ جاننے کے لیے کہ اَمِیرُ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ انقلابی سوچ کے حامل تھے، آپ کے بچپن و جوانی کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ آپ نے کبھی کسی بت کو سجدہ([1])  کیا نہ کبھی اس وقت کی عام برائیوں یعنی شراب نوشی، جوا اور بدکاری وغیرہ کے مرتکب ہوئے، ([2])بلکہ حسن خلق، راست گوئی، متانت اور سنجیدگی کی وجہ سے بچپن ہی سے آپ کے تعلقات محبوبِ خُدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے قائم ہو گئے تھے۔ چنانچہ جب رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسلام کی دعوت دی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فوراً ایمان لے آئے،پھر ساری زِنْدَگی سفر ہو یا حضر، دامَنِ مصطفےٰ کے سائے میں رہے۔([3])

 آئیے! آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ان انقلابی اقدامات کا  ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں جو آپ نے سرورِ کائنات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصالِ ظاہری کے بعد فرمائے:

٭سرورِ کائنات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصالِ ظاہری کے وقت سب سے زیادہ صدمے میں ہونے کے باوجود خود بھی صبر کا دامن تھامے رکھا اور دوسروں کو بھی تلقین کی([4]) ٭ خلیفہ کے انتخاب کے وقت اُمَّت  کو متحد رکھنے میں مثالی کردارادا کیا([5])٭رسولِ پاک کے مدفن کی جگہ کے تَعَیُّن میں پیدا ہونے والے اختلاف ([6])اور میراثِ رسول کی تقسیم میں رَہنُمائی فرمائی([7]) ٭رومی لشکر کی سرکوبی کے لیے لشکر اسامہ کی روانگی کا جُرْأَت مندانہ فیصلہ کیا([8]) ٭جھوٹے مدعیانِ نبوّت (مسیلمہ کذاب، اسود عنسی و سجاع وغیرہ)اور دیگر مرتدین اور باغیوں کے خلاف بھرپور لشکر کشی کی([9]) ٭ منکرینِ زکوٰۃ کی سرکوبی فرمائی([10]) ٭ فتوحاتِ اسلامیہ کا آغاز کیا([11]) ٭مختلف اشیا پر تحریر شدہ قرآنِ کریم کی متفرق سورتوں اور آیتوں کو ایک مجموعہ کی شکل میں جمع کیا([12]) ٭ایک اور اہم انقلابی قدم یہ اٹھایا کہ مسلمانوں کو انتشار سے بچانے کے لیے اپنی وفات سے پہلے سَیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہ کو امیر المؤمنین مقرّر کردیا۔ ([13]) اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم



[1] ۔۔۔ فتاویٰ رضویہ،ج 28،ص458

[2] ۔۔۔ معرفۃ الصحابۃ لابی نعیم،ج 1،ص58

[3] ۔۔۔ عاشق اکبر، ص 4

[4] ۔۔۔ فیضانِ صدیق اکبر، ص 293

[5] ۔۔۔ مسند احمد،ج1،ص23، حدیث:18

[6] ۔۔۔ تاریخ الخلفاء، ص56

[7] ۔۔۔ بخاری،ص 1642، حدیث: 6725، 6726

[8] ۔۔۔۔8تاریخ مدینہ دمشق،ج8،ص62

[9] ۔۔۔۔ التاریخ فی الکامل،ص 201 

[10] ۔۔۔ مسلم، ص 33،حدیث

[11] ۔۔۔ فیضانِ صدیق اکبر، ص 403

[12] ۔۔۔ بخاری،ص1291، حدیث:4986

[13] ۔۔۔ فیضان صدیق اکبر، ص 438۔

Share

Articles

Gallery

Comments


Security Code