ان کے سوا رضا کوئی حامی نہیں جہاں

فرماتے ہیں یہ دونوں ہیں سردارِ دو جہاں

اے مرتضیٰ! عَتِیْق و عُمَر کو خبر نہ ہو

(حدائقِ بخشش،ص130)

مشکل الفاظ کے معانی:مرتضیٰ:پسندیدہ،علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکا لقب،عتیق:آزاد،صدیقِ اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کا لقب

معنٰی و مفہوم:اس شعر میں اس فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کی طرف اشار ہ ہے:ابو بکر وعمر انبیا ومرسلین کے علاوہ تمام اگلے پچھلے اَدھیڑ عمر جنتیوں کے سردار ہیں۔ اے علی!تم انہیں اس بات کی خبر نہ دینا۔ (ترمذی،ج 5،ص376، حدیث:3686)مجھ سے پہلے انہیں نہ بتانا کیونکہ میرا بتانا ان کے لئے زیادہ خوشی کا باعث ہوگا۔(فیض القدیر،ج1،ص117)

دنیا میں جو لوگ اس(یعنی 30سے50سال کی) عمر میں فوت ہوئے اور وہ تھے جنتی ان سب کے سردار یہ دونوں ہیں ورنہ جنت میں سارے جنتی جوان تیس سالہ ہوں گے کوئی بوڑھا یا ادھیڑ عمر نہ ہوگا،عورتیں اٹھارہ سالہ، ہمیشہ یہ ہی عمر رہے گی کہ وہاں دن رات مہینے سال نہیں گزرتے۔ جب یہ دونوں حضرات جنتی ادھیڑوں سے افضل ہوئے تو جنتی جوانوں بچوں سے بھی افضل ہوئے۔(مراٰۃ المناجیح،ج8،ص385)

ان کے سِوا رضا کوئی حامی نہیں جہاں

گزرا کرے پِسَر پہ پِدَر کو خَبَر نہ ہو

(حدائقِ بخشش،ص131)

مشکل الفاظ کے معانی: پِسَر:بیٹا،پِدَر:باپ

معنٰی و مفہوم:اے رضا!قیامت کادن انتہائی ہولناک دن  ہوگا۔ اس دن ہر طرف نفسا نفسی کا عالَم ہوگا،دوست دوست سے، بھائی بھائی سے اورباپ بیٹے سے پیچھا چھڑاتا ہوگایہاں تک کہ دودھ پلانے والی دودھ پیتے کو بھول جائے گی،قیامت کی دہشت سے حمل والیوں کے حمل ساقط ہوجائیں گے۔اس دن رَحمتِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کی واحد شخصیت ایسی ہوگی جسے اپنی نہیں بلکہ دوسروں کی فکر دامن گیر ہوگی۔اَہلِ محشر طویل عرصے تک قیامت کی گرمی جھیلنے کے بعد جب  شفاعت کی درخواست لئے مختلف انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام  کی بارگاہوں میں حاضری دیں گے تو ہر جگہ سے اِذْھَبُوْا اِلٰی غَیْرِیْ (یعنی کسی اور کے پاس جاؤ) کہا جائے گا،آخر کار پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ تک رسائی ہوگی تو آپ فرمائیں گے : اَنَالَھَایعنی شفاعت کے لئے میں ہوں۔

حضرتِ سَیِّدُنا انس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا :میں آپ کو(قیامت کے دن)کہاں تلاش کروں؟ ارشاد فرمایا:پہلے مجھ کو پُلِ صراط پر تلاش کرنا۔عرض کیا:اگر آپ پل صراط پر نہ ملیں۔فرمایا:پھر مجھے میزان پر تلاش کرنا۔عرض کیا:اگر آپ کو وہاں بھی نہ پاؤں؟ارشاد فرمایا:پھر مجھے حوضِ کوثر پر تلاش کرنا،میں ان تین جگہوں کو نہیں چھوڑوں گا(یعنی ان مقامات میں سے کسی ایک جگہ ضرور ملوں گا)۔(ترمذی،ج4،ص195،حدیث:2441)

Share

Articles

Comments


Security Code