جانداروں کی شکل کے کھلونوں کی خرید و فروخت/سچا تاجر/بزرگانِ دین کا اندازِ تجارت/شریعت و تجارت/کاروبار میں وعدہ کی اہمیت

سودے میں قیمت طے کرنے کی اہمیت

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ زیدنے بکرکو موبائل اس طرح فروخت کیاکہ میرے کاروبارمیں منافع ہواتویہ 60 عمانی ریال کاہے اورنہیں ہواتو100ریال کا، بکر60ریال دے چکاہے اب تک منافع نہیں ہوا۔اس بیع کا کیا حکم ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب  اللھم

ھدایۃ الحق والصواب

جواب: خریدوفروخت کے صحیح ہونے کے بنیادی اصولوں میں ثمن (Price)  کا معلوم ہونابھی ہے کہ عقد (Agreement/Deal) ہوتے وقت لازمی طور پر قیمت (Price)  کا تعین (Determine) ہو جائے۔ اگر سودا  ہوجائے لیکن قیمت (Price)میں جہالت (Confusion) باقی رہے تو شریعت مطہرہ اس عقدکوفاسد قراردیتی ہے۔ پوچھی گئی صورت  میں کی گئی خرید و فروخت جائز نہیں کہ یہاں قیمت (Price) میں جہالت (Confusion) پائی جارہی ہے جس کی وجہ سے یہ عقد فاسد یعنی غیر شرعی ہےاور اس کا توڑنا واجب ہے۔فتاویٰ شامی میں بیع کے صحیح ہونے کی شرائط میں ہے: ’’وَمَعْلُومِيَّةُ الثَّمَنِ بِمَا يَرْفَعُ الْمُنَازَعَةَ‘‘ ترجمہ: اور ثمن کا اس طرح معلوم ہونا کہ جھگڑا نہ ہو سکے۔(فتاویٰ شامی،7/14)

 صدرُ الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ بہارِ شریعت میں بیع(Selling Deal) کے صحیح ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بیان کرتے ہیں:’’مبیع (Merchandise) و ثمن (Price) دونوں اس طرح معلوم ہوں کہ نزاع (جھگڑا) پیدا نہ ہوسکے اگر مجہول ہوں کہ نزاع ہو سکتی ہو تو بیع (Selling Deal) صحیح نہیں مثلاً اس ریوڑ میں سے ایک بکری بیچی یا اس چیز کو واجبی دام پربیچا یا اس قیمت پر بیچا جو فلاں شخص بتائے۔(بہارِشریعت،2/617مکتبۃ المدینہ)

وَاللہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

جانداروں کی شکل والے کھلونوں کی خرید و فروخت

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ آج کل مارکیٹ میں بچوں کے لئے مختلف جانوروں کی شکلوں کے کھلونے ملتے ہیں جو کہ پلاسٹک، لوہے اور پیتل سے بنے ہوتے ہیں کیا بچوں کے لئے یہ کھلونے خریدنا اور بچوں کا ان سے کھیلنا جائز ہے ؟

الجواب بعون الملک الوھاب  اللھم

ھدایۃ الحق والصواب

جواب:پوچھی گئی صورت میں یہ کھلونے خریدنابھی جائز ہے اور بچوں کا ان سے کھیلنا بھی جائز ہے ،لیکن ایک بات کا ضرور خیال رکھا جائے کہ وہ کھلونے نہ خریدے جائیں جن میں میوزک جیسی نحوست ہوتی ہے ۔ردالمحتار میں کھلونے کے متعلق خاتَمُ المُحَقِّقِیْن علامہ ابنِ عابدین شامی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ لکھتے ہیں:لَوْ كَانَتْ مِنْ خَشَبٍ أَوْ صُفْرٍ جَازَ ترجمہ: کھلونے اگر لکڑی یا پیتل کے ہوں تو ان کو خرید نا جائز ہے۔(ردالمحتار،ج7،ص505)

صدرُ الشریعہ بدْرُ الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فتاویٰ امجدیہ میں لکھتے ہیں:’’لوہے پیتل تانبے کے کھلونوں کی بیع (Sale Agreement)جائز ہے کہ یہ چیزیں مال متقوم (وہ مال جس سے نفع اٹھانا جائزہو) ہیں۔‘‘(فتاویٰ امجدیہ ج،4،ص232)

ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:’’معلوم ہوا کہ ان کا تصویر ہونا وجہِ عدمِ جوازِ بیع (Reason Of Impermissibility of dealنہیں۔‘‘(فتاویٰ امجدیہ،ج4،ص233)

مزیدفرماتے ہیں:’’رہا یہ امر کہ ان کھلونوں کا بچوں کو کھیلنے کے لئے دینا اور بچوں کا ان سے کھیلنا یہ ناجائز نہیں کہ تصویر کا بروجہِ اعزاز (As Respect) مکان میں رکھنا منع ہے نہ کہ مطلقاً یا بروجہ اہانت بھی۔‘‘(فتاویٰ امجدیہ،ج4،ص233)

وَاللہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

تصاویر والی اشیاء کی خرید و فروخت کا حکم

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ جن چیزوں پر تصویریں چَھپی ہوں مثلاً صابن وغیرہ ان کو خریدنا کیسا؟

الجواب بعون الملک الوھاب  اللھم

ھدایۃ الحق والصواب

جواب:سوال میں بیان کردہ چیزوں کا خریدنا بلاشبہہ جائز ہے کیونکہ خریدنے والے کا مقصود چیز خریدنا ہوتا ہے نہ کہ تصویر۔جیسا کہ مفتی وقار الدین رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ تصویر والی کتب کی خرید و فروخت کا حکم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’صورت مسئولہ میں ان کتابوں کو بیچنا جائز ہے کہ یہ کتابوں کی خرید و فروخت کرنا ہے نہ کہ تصاویر کی۔البتہ علیحدہ سے تصویر کا بیچنا حرام ہے ۔‘‘(وقار الفتاوی،ج1،ص218)

تنبیہ: دکاندار پر لازم ہے کہ جن اشیاء پر عورتوں کی تصاویر ہوتی ہیں ان کو نمایاں کرنے سے اجتناب کرے۔

وَاللہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

Share

جانداروں کی شکل کے کھلونوں کی خرید و فروخت/سچا تاجر/بزرگانِ دین کا اندازِ تجارت/شریعت و تجارت/کاروبار میں وعدہ کی اہمیت

اپنے اور اپنے بال بچوں کی کفالت کے لیے بقدرِ ضرورت  حلال روزی کمانا فرض ہے۔ حلال روزی کمانے کے بہت سے ذَرائع ہیں جن میں سے ایک بہترین ذَرِیعہ ”تجارت“ ہے۔ تجارت کرنا جہاں ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی سُنَّت ہے وہاں کمائی کا ایک بہترین ذَرِیعہ بھی ہے۔ ”رب تعالیٰ نے رِزق کے دس حصّے کئے نو حصّے تاجر کو دیئے اور ایک حصّہ ساری دُنیا کو۔“(اسلامی زندگی،ص149)

تجارت “ اچھی کمائی اور دُنیا  و آخرت کی بھلائی  کا سبب اسی صورت میں بن سکتی ہے جبکہ تاجر سچائی  اور دیانت داری سے کام لے جیسا کہ سرورِذیشان،رحمتِ عالَمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:بیشک سب سے اچھی کمائی ان تاجروں کی ہے جو بات کریں تو جھوٹ نہ بولیں، امین بنائے جائیں توخیانت نہ کریں، وعدہ کریں تو  خلاف ورزی  نہ کریں، (دوسروں سے) کوئی چیز خریدیں تو اس کی مذمت نہ کریں، (اپنی چیز)جب فروخت کریں تو اس کی بیجا تعریف نہ کریں اور جب ان پر قرض ہو تو ( اس کی ادائیگی میں ) ٹال مٹول نہ کریں اور ان کا کسی پر قرض ہو تو اس پر (وصولی میں)تنگی نہ کریں۔ (شعب الایمان،ج 4،ص221،حدیث: 4854)

 اگر کوئی تاجر جھوٹ ،خیانت اور دھوکا دہی سے اِجتناب کرتے ہوئے سچائی اور امانت داری کے ساتھ تجارت کرے تو دُنیا میں کامیابی کے ساتھ ساتھ آخرت کی سرخروئی بھی اس کا مقدر بن سکتی ہے جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے:سچا اور امانت دارتاجر (قیامت  کے دن ) اَنبیائے  کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام ،صدیقین اور شہداء کے ساتھ  ہو گا۔ (ترمذی،ج3،ص5، حدیث:1213) 

اِس حدیثِ پاک کے تحت حکیمُ الْاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں:اس سے معلوم ہوا کہ دِیگر پیشوں سے تجارت اعلیٰ پیشہ ہے،پھر تجارت میں غلّہ کی،پھر کپڑے کی،پھر عطر کی تجارت افضل ہے۔ ضروریاتِ زندگی اور ضروریاتِ دِینی کی تجارت، دوسری تجارتوں سے بہتر، پھر سچا تاجر مسلمان ،بڑا ہی خوش نصیب ہے کہ اسے نبیوں،ولیوں کے ساتھ حشر نصیب ہوتا ہے۔ مگر یہ ہمراہی ایسی ہوگی جیسے خُدَّام کو آقا کے ساتھ ہمراہی ہوتی ہے یہ مطلب نہیں کہ یہ تاجر نبی بن جائے گا، اچھا تاجر تاجور ہے بُرا تاجر فاجر ہے۔(مراٰۃ المناجیح ،ج4،ص244)

ایک اور حدیثِ پاک میں اِرشاد فرمایا :سچا تاجر قیامت کے دن عرش کے سائے میں ہو گا۔ (کنزالعمال،ج2،ص5،جزء:4 ، حدیث: 9214)لہٰذا تُجَّار کو چاہیے کہ اِن فضائل و برکات کو پانے اور رِزقِ حلال کمانے کے لیے سچائی اور دیانت داری سے کام لیں اور اپنا مال فروخت کرنے کے لیے جھوٹی قسم کا ہرگز اِرتکاب نہ کریں کہ”جھوٹی قسم سے سودا فَروخت ہوجاتا ہے مگر  بَرَکت مِٹ جاتی ہے۔“(کَنْزُالْعُمّال ،ج8،ص297،جزء:16،حدیث:46376)

اپنے مال کی بیجا تعریف بھی  نہ کریں بلکہ اگر اس میں کوئی عیب یا خامی  ہو تو اسے گاہک کے سامنے بیان کر دیں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ  ہمیں شریعت و سنَّت کے مطابق حلال روزی کمانے اور کھانے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم  

Share

جانداروں کی شکل کے کھلونوں کی خرید و فروخت/سچا تاجر/بزرگانِ دین کا اندازِ تجارت/شریعت و تجارت/کاروبار میں وعدہ کی اہمیت

دینِ اسلام نے جہاں ہمارے خاندانی،مُعاشرتی،اَخلاقی نظام کو بہتر بنانے میں ہماری رہنمائی  کی ہے  وہیں معاشی وتجارتی  مُعاملات کوبحسن وخوبی  انجام دینے کیلئے بھی کئی زَرّیں اُصول  عطا فرمائے ہیں۔ان اسلامی اُصولوں پرعمل کرکےہمارے بُزرگانِ دین نے سچائی اور دِیانت داری کی وہ مثالیں قائم فرمائیں جو قیامت تک آنے والے تاجروں کیلئے مینارِ نُور بن  کر رہنمائی کرتی رہیں گی۔

تمام کپڑوں کی قیمت صدقہ کردی: اسلامی اُصولِ تجارت میں سے ایک اَہم بات دھوکہ دَہی سے بچنا ہے۔ بُزرگانِ دین  گاہک کودھوکہ دَہی کے ذریعے عیب دارچیز تھمانے کے بجائے خریدارپراس عیب کو  واضح کیا کرتے، جیساکہ امامِ اعظم ابُوحنیفہ  رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  نےایک بار اپنے شریکِ تجارت سےفرمایا: فُلاں کپڑے میں کچھ عیب ہے۔ جب اُسے فروخت کروتو عیب بیان کر دینا۔لیکن جب ما لِ تجارت فروخت کیاگیا تو وہ عیب بتانابھول گئے۔ جب امامِ اعظمرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  کو اس کا علم ہوا تو آپ نے تمام کپڑوں کی قیمت صدقہ کردی ۔(تاریخ بغداد،ج13،ص356)

تین دینار سے زیادہ نفع نہیں لوں گا:حضرت سَیِّدُنا سری سقطی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ   کامعمول تھا کہ کوئی چیز بیچتے وقت تین دینار سے زیادہ نفع نہ لیتے ۔ ایک مرتبہ آپ نے 60دینار کے 96صاع بادام خریدکربازار میں ان کی قیمت  63دینار رکھی، ایک تاجر نے سارے بادام خریدنے کیلئے قیمت پوچھی تو آپ نے فرمایا: 63 دینار۔خریدنے والے نے خود کہا:حضور! باداموں کا ریٹ بڑھ چکاہے۔آپ 90دینار میں یہ (96 صاع ) بادام مجھے فروخت کردیں۔آپ نے فرمایا: میں نے اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ سے وعدہ کرلیا ہے کہ تین دینار سے زیادہ نفع نہیں لوں گا۔(عیون الحکایات، ص164 ، ملخصاً)

ایثار کا جذبہ: نیک لوگوں کی ایک پاکیزہ صفت یہ بھی ہے کہ  مارکیٹ میں موجود اپنے مسلمان تاجروں  کیلئے ایثار کا جذبہ رکھتے تھے،جیساکہ قُطبِ مدینہ مولانا  ضیاءُ الدّین احمد قادری مدنی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں کہ ایک مالدار حاجی صاحِب  کافی مقدار میں  کپڑے کی خریداری کیلئےایک کپڑا فروش کے پاس گئے۔دکاندار نے کہا: میں آپ کا آرڈر پورا تو کرسکتا ہوں مگرآپ سامنے والی دُکان سے خرید لیجئے کیونکہاَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ آج میری اچّھی بِکری ہوگئی ہے، جبکہ  اُس بے چارے کا دھندا آج کچھ مَندا (یعنی کم ہوا) ہے۔

حقوقُ اللہ کی پاسداری کرتے:بُزرگانِ دین  دورانِ تجارت حُقُوقُ اللہکی  ادائیگی کاخاص  اہتمام فرماتے جیساکہ حضرت ابنِ مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دیکھا کہ بازار والے اذان سنتے ہی اپناسامان چھوڑکرنماز کیلئے کھڑے ہوگئے۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایاکہ اِنہی لوگوں کے حق میںاللہ عَزَّ  وَجَلَّ نےفرمایا: ( رِجَالٌۙ-لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ ) (تَرْجَمَۂ کنز الایمان:وہ مرد جنہیں غافل نہیں کرتا کوئی سودا اور نہ خرید و فروخت  الله کی یاد(سے)،پ18،النور :37) ( معجم کبیر،ج9،ص  222، حدیث: 9079)

میٹھے میٹھےاسلامی بھائیو!دیکھاہمارے بُزرگانِ دین کا اندازِ تجارت کیسا شاندار تھا مگر افسوس ہمارے تجارتی مُعاملات  میں  بددیانتی، ناانصافی،دروغ گوئی،فریب دَہی،سُود خوری اور بدخواہی جیسی بُرائیاں گھس گئیں اورکاروبار میں بے برکتی  عام ہوگئی۔اگر ہم شرعی حُدود و قُیود میں رہتے ہوئے تجارت کریں،بُزرگانِ دین کے اندازِ تجارت کو اپنے لیے مشعلِ راہ بنائیں گے تو ہمارے کاروبار میں  کثرت وبرکت کے ساتھ ہماری معیشت   کو بھی اِسْتِحکام نصیب ہوگا اور خوشحالی بھی عام ہوگی ۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّہمیں اسلامی اُصولوں کے مُطابق  رزقِ حلال  کمانے اور کھانے کی توفیق نصیب فرمائے۔

Share

جانداروں کی شکل کے کھلونوں کی خرید و فروخت/سچا تاجر/بزرگانِ دین کا اندازِ تجارت/شریعت و تجارت/کاروبار میں وعدہ کی اہمیت

منافع حاصل کرنے کی نیت سے مال کی خرید و فروخت کرنا ”تجارت“ ہے۔ مسلمانوں کی کثیر تعداد روزی کمانے کے لیے ”تجارت“ کو ذریعہ بناتی ہے  اور ہمارے بزرگانِ دین  نے بھی اس شعبے کو نوازا ہے جیسے حضرت سَیِّدُنا ابو بکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ، حضرت سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ، حضرت سَیِّدُنا عبد الرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور امامِ اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ وغیرہ۔ معاملاتِ زندگی میں ”تجارت“ انتہائی اہمیت رکھتی ہے، شریعت نے جہاں دیگر شعبوں کے لیے قوانین بنائے ہیں وہیں ”تجارت“ کے اصول بھی بتائے ہیں، جو جی میں آئے کیے جانا مسلمان تاجر کا شیوہ نہیں لیکن آج مسلمانوں کی ایک تعداد بے شمار تجارتی خرابیوں کا شکار ہے، وہ زیادہ منافع کمانے کی ہوَس میں کسی بھی غیرشرعی و غیر قانونی  کام سے نہیں رکتی۔ ”تجارت“ میں جھوٹ، رشوت، خیانت، دھوکہ، جھوٹی قسم اور ملاوٹ ایک عام سی بات ہوچکی ہے۔

آج مسلمانوں کی اکثریت اپنے معاملات یعنی خرید و فروخت وغیرہ کی درستی کا اہتمام نہیں کرتی حالانکہ کاروبار کی پاکی اور معاملات کی ستھرائی  کاشعبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس کا تعلق  بیک وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حق کے ساتھ بھی ہے اور بندوں کے حقوق سے بھی، اگر لین دین میں خیانت واقع ہوجائے اور حصولِ رزق کے لیے ناجائز ذرائع کو اختیار کیا جائے  تو اس طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بھی نافرمانی ہوگی  اور کسی نہ کسی بندے کی حق تلفی بھی  اور یہ بات دُگنا جرم قرار پائے گی۔

سچائی اور دیانتداری سے کام کرنے کا آخرت میں تو فائدہ  ہے ہی، دنیا میں بھی اس کے بہتر نتائج نکلتے ہیں، لوگوں میں نیک نامی ہوتی ہے جس سے ”تجارت“ چمک اٹھتی ہے۔ آج دنیا بھر میں لوگ ان ممالک سے خریدنے میں دلچسپی لیتے ہیں  جہاں سے صحیح مال صحیح وزن سے ملتا ہے اور جہاں سیب کی پیٹیوں کے نیچے آلو پیاز نکلیں یا پہلی تہ  اعلیٰ درجہ کی نکلنے کے بعد نیچے سڑا ہوا مال نکلے وہاں کی معیشت کا جو انجام ہوتا ہے وہ سب سمجھ سکتے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے: بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں عرض کی گئی: کون سی کمائی زیادہ پاکیزہ ہے؟ ارشاد فرمایا: آدمی کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور اچھی خرید و فروخت (یعنی جس میں خیانت اور دھوکہ وغیرہ نہ ہو،بہارِ شریعت،ج 2،ص611)(معجمِ اوسط،ج 1ص581، حدیث: 2140)

آج ”تجارت“ میں خسارے اور منافع کی کمی کارونا رویا جاتا ہے حالانکہ دھوکے اور بد دیانتی سے حاصل کیے جانے والے مال میں کبھی بھی برکت نہیں ہوسکتی۔ حدیث شریف میں ہے:”قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تاجر (دنیا کے) دونوں کونوں تک پہنچے گا لیکن اسے نفع حاصل نہیں ہوگا۔“(معجمِ کبیر،ج 9،ص297، حدیث: 9490)

حضرت علامہ محمد بن عبد الرسول برزنجی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: یہ (تجارت میں نفع نہ ہونا) اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ (قربِ قیامت) تاجروں میں دھوکہ دہی اور جھوٹ کا غلبہ ہوگا جس کی وجہ سے ”تجارت“ میں برکت نہ ہوگی۔(الاشاعۃ لاشراط الساعۃ، ص 112)

جو کام بھی کیا جائے بڑے سلیقے، امانتداری، ہنر مندی اور شریعت کا لحاظ رکھتے ہوئے کیا جائے، جو چیز بنائیں اس میں پختگی اور صفائی دونوں کا پورا پورا خیال رکھیں۔ بے دلی اور بے احتیاطی سے کوئی کام کرنا مسلمان کو زیبا نہیں۔ اگر ہم اس طریقے کو اپنائیں تو ہماری ”تجارت“ کو چار چاند لگ جائیں، ہر منڈی میں ہماری مصنوعات کی مانگ بڑھ جائے، ہماری ہنر مندی اور فنی مہارت کی دھاک بیٹھ جائے اور ساتھ ہی ساتھ ہماری معاشی حالت بھی قابلِ رشک ہوجائے۔

یاد رکھئے! اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا پانے کے لیے، سچا مسلمان بننے اور دین و دنیا میں کامیاب و کامران رہنے کے لیے جیسے نماز روزے کی پابندی ضروری ہے، ایسے ہی معاملات کی درستی اور ذرائع آمدنی کی صحت وپاکی بھی نہایت ضروری ہے۔

اللہ عَزَّوَجَلَّ ہم کو شریعت کے مطابق ”تجارت“ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ

Share

جانداروں کی شکل کے کھلونوں کی خرید و فروخت/سچا تاجر/بزرگانِ دین کا اندازِ تجارت/شریعت و تجارت/کاروبار میں وعدہ کی اہمیت

آج کل ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ میرا کاروبار خوب پھلے پھولے۔ کاروبار کی کامیابی کے جہاں اور اسباب ہیں وہاں ”وعدے“ کی پاسداری بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ کاروبار سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی شخص اسی وقت کامیاب کاروباری بن سکتا ہے جب وہ اپنا اعتماد قائم کرنے میں کامیاب ہوجائے اور ”وعدہ“ پورا کرنے سے لوگوں کا اعتماد بحال ہوتا ہے۔ اعتماد کی بحالی کاروبار کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ بعض لوگ پارٹیوں سے  اُدھار پر مال لیتے ہیں، اگر وہ  انہیں کیے گئے ”وعدے“ کے مطابق پیسے دے دیتے ہیں تو پارٹیاں مطمئن رہتی ہیں اور جب وہ دوبارہ ان سے مال لینے جاتے ہیں تو وہ بخوشی  انہیں ادھار پر مال دے دیتی ہیں۔ یوں ہی گاہک سے آرڈر لیتے وقت جو چیز دینے کا ”وعدہ“ کیا ہو وہی دی جائے، اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ گاہک کا اعتماد قائم ہوگا اور وہ اپنے قریبی لوگوں کو بھی آپ کے پاس جانے کا مشورہ دے گا، اگر طے شدہ چیز نہ دی اور ”وعدہ خلافی“ کی تو گاہک بد ظن ہوجائے گا اور دوبارہ کبھی آپ  کی دکان کے قریب بھی نہیں پھٹکے گا اور نہ کسی کو آنے دے گا اور یوں بکِری میں کمی ہوجائے گی اور کاروبار ٹھپ ہونے کا آغاز ہوجائے گا۔ کوشش کریں جب بھی کسی سے ”وعدہ“ کریں اسے ضبطِ تحریر میں لے آئیں یا اپنے موبائل فون میں ریمائنڈر (Reminder) رکھ لیں تاکہ بھول چوک نہ ہو اور ”وعدہ“ وقت پر پورا ہوسکے۔

بعض دکاندار پیسے دینے کے بارے میں سپلائرز سے جھوٹے ”وعدے“ کرتے ہیں کہ کل  آجانا، پرسوں آجانا لیکن پھر ان کو وقت پرپیسے نہیں دیتے اوردھکے کھلاتے رہتے ہیں۔

وعدہ خلافی  حرام ہے

یاد رکھئے! بدعہدی (یعنی ”وعدہ“ پورا نہ کرنے) کی نیت سے اور فقط ٹالنے کے لیے جھوٹا ”وعدہ“ کرنا نا جائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ حدیث  شریف میں ہے: جو کسی مسلمان سے عہد شکنی کرے، اس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے اور اس کا کوئی فرض قبول نہ ہوگا نہ نفل۔(بخاری،ج1،ص616،  حدیث: 1870، ملتقطاً)

”وعدہ“ کرتے وقت اگر کسی کی نیّت ”وعدہ خلافی“ کی ہو مگر اِتفاقاً پورا کردے تو پھر بھی اُس بَدنیّتی کی وجہ سے گنہگار ہے۔ ہر ”وعدے“ میں نیّت کا بڑا دخل ہے۔(خلاصہ اَز مراٰۃ المناجیح،ج 6،ص492)

اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں ”وعدہ“ پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

Share

Articles

Gallery

Comments


Security Code