جھگڑے سے بچنے کے طریقے

گھر کا سکون جن چیزوں سے وابستہ ہے ان میں سے ایک جھگڑے (Dispute)“ سے بچنا بھی ہے، چنانچہ جس گھر میں میاں بیوی، ساس بہو، بھائی بہن، بھائی بھائی کی آپس میں نہ بنتی ہو، ہر ایک ہاتھ میں گویا بارُودی مواد (Explosives) لے کر گھومتا ہو کہ جونہی کسی نے ذرا سی بات کی فوراً آگ کا شعلہ بھڑک اُٹھے اور ”جھگڑا“ شروع ہوجائے، اُس گھر میں اَمْن و  سکون کی فضا قائم ہونے کے بجائے ٹینشن (Tension) کی کیفیت دکھائی دیتی ہے۔ ”جھگڑے“ میں نقصان دونوں فریقوں کا ہوتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ کسی کا کم تو کسی کا زیادہ۔ جس میں ذرا سی بھی عقل ہوگی وہ کبھی بھی ”جھگڑے“ کو اچھا نہیں سمجھے گا، لیکن ذرا سی بات پر جھگڑنے والوں کی عقل پر نہ جانے کونسا پردہ پڑ جاتا ہے کہ انہیں اپنی عزت و وقار کا احساس رہتا ہے نہ سامنے والے کی عزت کا! ”زبان درازی، دل آزاری، طنز، طعنے، تہمت لگانا، عیب کھولنا، گالم گلوچ، ہاتھا پائی اور طلاق!“ خدا کی پناہ! کیا کچھ نہیں ہوجاتا اس ”جھگڑے“ میں؟ جھگڑالو شخص کی مذمت کرتے ہوئے مدنی تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: بے شک اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو لوگوں ميں سب سے ناپسند وہ لوگ ہيں جو شديد ”جھگڑالو“ ہيں۔(بخاری،ج 2،ص130، حدیث: 2457)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آپس میں صلح اور پیار محبّت کے ساتھ رہنے میں فائدہ ہے جبکہ جھگڑے میں نقصان، تو ہمیں ایسا کچھ کرنا چاہیے کہ جھگڑے کی نوبت ہی نہ آئے۔ جھگڑا چھوڑنے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جو شخص حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا چھوڑ دے، اس کے لیے جنت کے بیچ میں گھر بنایا جائے گا۔(ترمذی،ج3،ص400، حدیث: 2000، ملتقطاً)

14مدنی پھولوں کا مدنی گلدستہ

ان مدنی پھولوں پر عمل کر کے جھگڑے سے بچا جاسکتا ہے:

٭ہر شخص کا مزاج الگ الگ ہوتا ہے مثلاً کسی کو سالن میں تیز مرچ اچھی لگتی ہے تو کسی کو ہلکی، دوسروں کو اپنے مزاج کا پابند نہ بنائیں، درمیانہ راستہ نکالنا ہی دانشمندی ہے۔ ٭غلطیاں کس سے نہیں ہوتیں! خود ہی پر غور کر لیجئے، اپنی ”بڑی غلطی“ پر ہلکی سی سوری (Sorry) اور دوسروں کی ’’چھوٹی غلطی“ پر پاؤں پکڑ کر، زمین پر ناک رگڑ کر معافی مانگنے کا تقاضا کرنا ”جھگڑے“ کا راستہ کھولتا ہے۔ ٭ہر معاملے میں اپنی من مانی کرنا دوسروں کو تنگی میں مبتلا کرنے والی بات ہے، دوسروں کی بھی سنیں پھر اس کے فائدے دیکھئے۔ ٭ہر بات میں حکم چلانا:”آج یہ پَکا لو، یہاں نہیں جانا، آج وہاں نہیں جانا، دیواروں پر فلاں رنگ ہوگا“ یہ انداز آپ کی شخصیت کو چار چاند نہیں لگائے گا، اپنے انداز میں لچک و گنجائش لائیں، کبھی مشورہ دینے کا انداز اپنا کر دیکھیں مثلاً اگر چاہیں تو آج یہ پکا لیں، اس طرح بچوں کی امی کے دل میں آپ ہی کا احترام بڑھے گا اور گھر میں بھی آپ کی قدر و قیمت بڑھ جائے گی۔ ٭ایک ہی گھر میں رہنے والے عموماً ایک دوسرے کی نظروں میں ہوتے ہیں، اس لیے شیطان کے لیے دلوں میں بدگمانی پیدا کروانا آسان ہوجاتا ہے، مثلاً بہو کو کچن (Kitchen) میں باکس (Box)  کا دروازہ بند کرتے دیکھ کر ساس کے دل میں یہ خیال آئے کہ اچھا! یہ مجھ سے کھانے کی چیزیں چھپا کر رکھ رہی ہے، چاہے اس بے چاری نے مرچوں کا ڈبہ باکس میں رکھا ہو۔ جب تک گھر کا ہر فرد حسنِ ظن کے جام نہیں پیئے گا بدگمانی کا راستہ روکنا بہت مشکل ہے۔ ٭مشہور ہے ”جس کا کام اسی کو ساجھے“، کچھ کام عورتوں کے ذمے ہوتے ہیں مثلاً کچن، صفائی اور بستر کے معاملات، ان میں مردوں کو بِلاضرورت دخل نہیں دینا چاہیے اور کچھ مردوں کے کرنے کے ہوتے ہیں مثلاً سواری، دکانداری، فرنیچر وغیرہ اس میں عورتیں خواہ مخواہ دخل اندازی نہ کریں۔ ٭یہ بات اپنے پیشِ نظر رکھیں تو جھگڑا کرنے سے خود ہی رک جائیں گے  کہ سامنے والا بھی انسان ہے اُسے بھی بُھول، تھکن اور بیماری لگ سکتی ہے، اسے بھی غصّہ آتا ہے۔ ٭چھوٹی چھوٹی باتوں پر طوفان مچانے والا اپنا وقار کھو بیٹھتا ہے۔ ٭ہر وقت ”تنقید کے تیر“ برسانے کے بجائے اچھے کاموں پر حوصلہ افزائی بھی کرتے رہنا چاہیے، اِس سے دوسروں کے دل میں جگہ بنتی ہے۔ ٭نرمی بہترین حکمتِ عملی ہے۔ ٭دوسروں کے احسانات کو تسلیم کریں، دعاؤں سے نوازیں، کبھی بچوں کی امی کی دل جوئی کریں کہ تم میرے بچوں کو سنبھالتی ہو میرے کھانے پینے اور کپڑوں کا بھی خیال رکھتی ہو، گھر کی صفائی بھی کرتی ہو، میرے والدین کی خدمت بھی کرتی ہو، اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں اس کا عظیم ثوابِ عطا فرمائے، تو کبھی اپنی امی کے احسانات کا شکریہ ادا کریں کہ آپ نے مجھے پالا پوسا، اپنا آرام میرے آرام کے لیے قربان کیا، آج بھی میری خوشی کا خیال رکھتی ہیں، میں آپ کی ویسی خدمت نہیں کرپارہا جیسا کرنے کا حق ہے، اسی طرح دیگر افرادِ خانہ کی بھی  دل جوئی کی جاسکتی ہے، لیکن خیال رہے کہ یہ سب کچھ حسبِ حال ہو اور اس میں جھوٹ کی ملاوٹ نہ ہو۔ ٭ہر وقت تیوری چڑھا کر رکھنا (یعنی غصیلا چہرہ بنانا) آپ سے لوگوں کو دُور تو کرسکتا ہے قریب نہیں۔

حکایت: ایک شخص اپنے گھریلو جھگڑوں سے تنگ تھا، ایک ماہرِ نفسیات سے مشورہ کیا تو اس نے کہا کہ آج جب گھر جاؤ اور دروازہ کھلے تو مسکرا کر گھر میں داخل ہونا، اس نے ایسا ہی کیا تو اس کی بیوی اس کے مسکرانے پر بے ہوش ہوگئی، جب اس سے وجہ پوچھی گئی تو اس نے بتایا کہ یہ جب بھی گھر آتے تھے منہ بنا ہوتا تھا، آج یہ مسکرائے تو میں خوشی کے مارے خود پر قابو نہ رکھ سکی۔ اس واقعے کے بعد مذکورہ گھر میں جھگڑے ختم ہوئے ہوں گے یا بڑھے ہوں گے، اس کا جواب اپنے آپ سے لے لیجئے ۔

٭خاص مواقع پر غلط رَدِّ عمل بھی جھگڑے کی وجہ بنتا ہے اپنے رشتے دار آئیں تو ”باچھیں کھل اٹھیں“ اور بیوی کے رشتہ دار مہمان بنیں تو ”موڈ (Mood)“ خراب ہوجائے، اگر بیوی کی دلجوئی کی نیت سے اس کے میکے سے آنے والوں کا اِستقبال مسکرا کر کرلیں گے تو آپ کا کیا جائے گا!

٭بعضوں کی عادت ہوتی ہے کہ بات بات پر دوسروں کو جاہل (Ignorant) قرار دیتے ہیں کہ تمہیں کچھ پتا ہی نہیں ہے، یاد رکھئے ”اندھے (Blind)“ کو بھی اندھا کہا جائے تو خوشی سے اس کے دل میں لڈو نہیں پُھوٹتے بلکہ منہ میں ”کڑواہٹ“ ہی آتی ہے، اگر سامنے والا بالکل جاہل بھی ہو تو اسے جاہل کہنے سے اس کی جہالت دور ہونے سے رہی، ہاں! آپ بولنے میں احتیاط کریں گے تو جھگڑے کا راستہ رک جائے گا، آزمائش شرط ہے۔

Share

Articles

Comments


Security Code