پسندیدہ عمل

رسولِ کریم، رءُوف رَّحیم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اِنَّ اَحَبَّ الْاَعْمَالِ اِلَى اللهِ مَا دَامَ وَاِنْ قَلَّ یعنی اللہتعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جو پابندی کے ساتھ ہو اگرچہ مقدار میں قلیل ہو۔( بخاری،ج4،ص67،حدیث:5861)

نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی عملی سیرت  اور آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مبارک فرامین اُمّت کے لئے سراپا رحمت ہیں، جن پر عمل کرنا حصولِ ثواب کا ذریعہ ہے۔اس حدیث میں نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے انتہائی جامِع (Comprehensive) بات ارشاد فرمائی ہے جس  پر عمل سے بندہ نہ تو غافِل ہوتا ہے اور نہ وہ اس مشقت میں پڑتا ہے جس کا نِبھانا اس پر مشکل ہوتا ہے۔ یعنی بندۂ مؤمن جب عمل ہمیشہ کرتا رہے گا تو غفلت سے محفوظ رہے گا اور اگر عمل اتنا ہوگا جس کو وہ نبھاسکے گا تو اس کے نفس پر گِراں (بھاری) بھی نہیں ہوگا۔

 اس حدیث ِ پاک کے ضمن میں5 باتیں پیش نظر رہیں:

(1)یہاں قلیل عمل سے مراد نفلی اعمال ہیں، یعنی بندہ اگر کوئی نفلی عمل کرنا چاہتا ہے تو وہ عمل اِختیِار کرے جسے ہمیشہ نبھا سکے، اگرچہ یہ نفلی عمل  تھوڑا ہو۔ جہاں تک فرائض و واجبات کی بات ہے تو اس میں بندے کو اختیار (Choice) نہیں وہ جو مُقَرَّر ہیں  مکمّل ہمیشہ ادا کرنے ہیں۔حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ الغنِی فرماتے ہیں: خیال رہے کہ فرائض وواجِبات تو رب تعالیٰ کی طرف سے مُقَرَّر ہیں ان میں زیادَتی یا کمی ہوسکتی ہی نہیں! نوافل میں بندے کو اختیار دیا گیا ہے،چاہیے کہ بندہ اتنے نفْل اختیار کرے جو نِبھا سکے، نہ ایک دَم زیادہ نہ بالکل کم اسی کا نام قَصْد(میانہ روی) ہے اور یہاں عمل سے مراد نفلی عمل ہیں درمیانی چال دین ودنیا میں مفید ہے۔(مراۃ المناجیح،ج2،ص263)

(2)ایک حدیثِ پاک میں ہے کہ ”ہر وقت خیر مانگتے رہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کی تجلِّیات کو تلاش کرو۔“ (الفرج بعد الشدۃ لابن ابی الدنیا،ج2،ص100، حدیث: 27ملتقطاً) لہٰذا ہمیشہ کیا جانے والا عمل اس حدیث پاک پر عمل کرنے کا ذریعہ بھی بنتا ہے جیسا کہ حافظ ابن حَجَر ھَیتَمی علیہ رحمۃ اللہ القَوی فرماتے ہیں: ہمیشہ عمل میں ہم اُن تجلِّیات اور برَکات کو ہمیشہ تلاش کرتے رہیں گے اور اُس کی امّید بھی رہے گی ، جبکہ وہ عمل جو کچھ وقت کرکے چھوڑ دیا گیا اگرچہ بہت زیادہ ہو اُس میں یہ تلاش چُھوٹ جائے گی۔ ( فتح الالٰہ شرح المشکاۃ،ج5،ص 82،ملخصاً)

(3)نفلی عمل جب اتنا ہوتا ہے جسے بندہ نِبھا سکے تو نفْس اس کا عادی ہوجاتا ہے ، اور جب بندہ ہمیشہ یہ عمل کرتا رہتا ہے تو وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رَحْمت کی طرف مُتوجّہ رہتا ہے،جیسا کہ مُحَدِّث فقِیہ اِبْنُ الْمَلِک رُومی حَنَفیرحمھ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں: وہ عمل جو ہمیشہ کیا جائے  اس لئے زیادہ پسندیدہ ہے کہ نفْس اس کو کرنے کا عادی ہوجاتا ہے اور ہمیشگی کی وجہ سے بندہ ہمیشہ اللہ تعالی کی طرف متوجہ رہتا ہے۔ ( شرح مصابیح السنۃ،ج2،ص171)

(4)وہ نفلی عمل جو اگرچہ کم ہو لیکن ہمیشہ ہو وہ اللہ تعالٰی کو پسند ہے جبکہ وہ عمل جس کو بندہ نِبھا نہ سکے اس کو چھوڑنے سے برَکت جاتی رہتی ہے۔ علامہ مُظْہَرُ الدّین مُظْہَری رحمھ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں: اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ جو نماز روزے کا کوئی نفلی کام شروع کرے تو اس پر ہمیشگی اختیار کرے ۔ مزید اسی معنی کی ایک اور حدیث کے تحت فرماتے ہیں: اپنے اوپر  ایسےاعمال لازم نہ کرو  جن پر ہمیشگی اختیار نہیں کرسکتے ، کیونکہ اس وقت یہ اعمال کرنے سے عاجز آکر عمل  کرنا چھوڑ دو گے جس سے  ان کی برکت تم سے جاتی رہے گی ، لہذا نفلی اعمال میں سے وہی عمل اختیار کرو جس پر ہمیشگی اختیار کرسکو کیونکہ اللہ تعالٰی عمل پر ہمیشگی کو پسند فرماتا ہے۔ ( ملخص از المفاتیح شرح المصابیح،ج2،ص278)

(5)نفلی عمل جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہو یہ مُؤَثِّر ہوتا ہے یعنی اثر رکھتا ہے جبکہ وہ عمل جو کبھی کبھی ہو اس کا اثر کم ہوا کرتا ہے ۔ شیخِ مُحَقِّق شیخ عبد الحق محدّث دہلوی رحمھ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں: عملِ قلیل جو ہمیشہ جاری رہے زیادہ مُؤَثِّر اور زیادہ کارگَر ہوتا ہے ، اُس عمل کی نسبت جو زیادہ ہو مگر کبھی کبھی ہو، جس طرح ایک ایک قطرہ جو لگاتار اور ہمیشہ گرتا رہے سوراخ کردیتا ہے بخلاف بہت سے پانی کے جو کبھی کبھی بہتا ہو وہ اتنا اثر نہیں کرتا۔(اشعۃ اللمعات،ج1،ص564) البتّہ یہ ملحوظ رہے کہ ہمارے اَسْلاف جو بکثرت عبادت کیا کرتے تھے وہ اس پر ہمیشگی اختیار کرنے کی قدرت رکھتے تھے اس لئے اس پر قائم بھی رہا کرتے تھے ۔ اس  کی جامع تفصیل علامہ عبد الحَی لکھنوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی  نے اپنی عربی  کتاب ”اِقَامَۃُ الْحُجَّۃِ عَلٰی اَنَّ الْاِکْثَارَ فیِ الْعِبَادَۃِ  لَیْسَ بِبِدْعَۃٍ“ میں بیان فرمائی ہے ۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…دارالافتاء اہل سنّت عالمی مدنی مرکزفیضان مدینہ،باب المدینہ کراچی۔

Share

Articles

Comments


Security Code