شرم و حیا کا پیکر بننے کا طریقہ

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْؕ-ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ(۳۰)

ترجمہ:مسلمان مَردوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لئے زیادہ پاکیزہ ہے، بیشک  اللہ اُن کے کاموں سے خبردار ہے۔(پ18، النور: 30) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) تفسیر:یہ سورۂ نور کی آیتِ مبارکہ ہے اور سورۂ نور بطورِ خاص اِسلامی معاشرے میں پردہ، حجاب اور شرم و حیا   کی ضرورت و اہمیت اور اس کی خلاف ورزی کی مختلف صورتوں اور ان کے سنگین نتائج اور سزاؤں کے بیان پرمشتمل ہے۔موجودہ زمانے میں بےپردگی، بےحیائی،  ترکِ حجاب، نمائشِ لباس و بدن اور ناجائز زیب و زینت سے بھرپور ماحول میں اِس سورتِ مبارکہ کو سمجھ کر پڑھنے کی ضرورت بہت بڑھ جاتی ہے۔ اِسی لئے حدیث پاک میں حکم دیا گیا کہ ”اپنی عورتوں کو سورۃ نور سکھاؤ“ (مستدرک، حدیث: 3546) اِس بات سے کوئی مسلمان اِنکار نہیں کرسکتا کہ شرم وحیا، اِسلامی معاشرے کی بنیادی اَقدار اور قرآن و سنت کے حکیمانہ اَحکام میں سے ہیں، اور اِس سے بھی کوئی اِنکار نہیں کرسکتا ہے کہ بدکاری اپنی تمام تر صورتوں کے ساتھ حرام ہے، خواہ رضامندی سے ہو یا جبری، پیسے کے بدلے میں ہو یا مفت، اِس کی تمام صورتیں حرام ہیں۔ اِسلام میں بدکاری کی حرمت ضروریاتِ دین میں سے ہے کہ اِسے حلال سمجھنے والا مسلمان نہیں۔  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حرام کردہ چیز اُسی کے بتائے ہوئے کسی جائز طریقے کے بغیر، صرف باہمی رضامندی سے حلال نہیں ہوسکتی۔ بے حیائی اور بدکاری انسان کے اخلاقی وجود کو، رَذالَت (کمینے پَن) میں ڈھال دیتی ہے اور اُسے احسنِ تقویم (بہترین تخلیق) سے اسفلِ سافلین (سب سے نِچلے درجے) میں جاگراتی ہے۔ بے حیا آدمی کی سوچ گندی، ذہنیت غلیظ اور اعمال و افعال گھٹیا پَن کے عادی ہوجاتے ہیں، اسی لئے جب کبھی کسی عالمی یا مُلکی سطح کے آدمی کی  بے حیائی اور بدکرداری لوگوں کے سامنے آتی ہے، تو وہ آدمی لوگوں کی نگاہ میں ذلیل و رُسوا ہوجاتا ہے، اگرچہ یہ واقعہ ایسے مُلک میں ہو، جہاں بے حیائی عام اور قانونی طور پر جائز ہو، ایسے مواقع پر لوگوں کو انسانی حقوق، کشادہ ذہنی، روشن خیالی، جنسی  آزادی کی باتیں بھول جاتی ہیں، حالانکہ اِس وقت اِن سے بطورِ اعتراض پوچھا جاسکتا ہے کہ تمہارے قانون، معاشرے اور عقیدے میں تو یہ سب جائز تھا، تو اَب اِعتراض کیوں کررہے ہو؟ اِس سے معلوم ہوا کہ حیادار آدمی کا لوگوں کی نظر میں معزز ہونا، اور بے حیا کا گھٹیا ہونا، فطرتِ انسانی میں داخل ہے۔دینِ اسلام کی خوبصورتی یہ ہے کہ جس چیز کو حرام قرار دیتا ہے، اُس سے بچنے کے طریقے بھی سکھاتا ہے۔ اِسلام نے بدکاری اور بے حیائی کو حرام قرار دیا تو اِس سے بچانے والے اسباب کے متعلق بھی ہدایات عطا فرمائیں، جن میں پردے کی تاکید، اجنبی مرد و عورت کا کسی بند جگہ تنہا نہ ہونا، اجنبی مرد و عورت کا بلاضرورت آپس میں کلام و ملاقات نہ کرنا، عورتوں کا غیروں کے سامنے بھڑکیلے اور بے پردگی کے لباس نہ پہننا، بلاضرورت گھر سے باہر نہ نکلنا وغیرہا کثیر اَحکام عطا فرمائے گئے ہیں۔ اِس طرح کے اَحکام کو اصولِ فقہ کی زبان میں ”سدِّ ذرائع“ (برائی کے اسباب ہی کو روک دینا) کہا جاتا ہے۔ اُسی میں سے شرم و حیا کے متعلق ایک بنیادی حکم، ”نگاہوں کو جھکا کر رکھنا“ ہے، جو اُوپر بیان کردہ آیت میں دیا گیا ہے۔ اِس آیت میں مسلمان مَردوں کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور جس چیز کو دیکھنا جائز نہیں، اُس پر نظر نہ ڈالیں۔ نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی احادیثِ طیبہ میں بھی یہ حکم موجود ہے اور مسلمان مَردوں کو اپنی نظریں نیچی رکھنے کی تاکید فرمائی، چنانچہ ایک مرتبہرسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔ صحابۂ کرام رضی اللہ  تعالٰی عنہم نے عرض کی: یارسولَ اللہ! صلَّی اللہ  تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم،  راستوں میں بیٹھے بغیر ہمارا گزارا نہیں، ہم وہاں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔ ارشاد فرمایا:”اگر راستوں میں بیٹھے بغیر تمہارا گزارا نہیں، تو راستے کا حق ادا کرو۔ صحابۂ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے عرض کی:”راستے کا حق کیا ہے؟“ ارشاد فرمایا: ”نظر نیچی رکھنا،  تکلیف دہ چیز کو دور کرنا، سلام کا جواب دینا، نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا۔“(بخاری،ج2،ص351، حدیث:2285) دوسروں کے پوشیدہ اعضاء پر نظر ڈالنے سے بچنے کے متعلق رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا:”ایک مرد دوسرے مرد کے ستر کی جگہ نہ دیکھے اور نہ عورت دوسری عورت کے ستر کی جگہ دیکھے۔“(مسلم،ج1،ص238، حدیث:512) غلطی سے کسی عورت پر نظر پڑجائے تو دوبارہ دیکھنے کے متعلق فرمایا: کہ ”ایک نظر کے بعد دوسری نظر نہ کرو (یعنی اگر اچانک بلاقصد کسی عورت پر نظر پڑجائے تو فوراً نظر ہٹالے اور دوبارہ نظر نہ کرے) کہ پہلی نظر جائز ہے اور دوسری نظر جائز نہیں۔“(ابوداؤد،ج2،ص54، حدیث:1837) نگاہوں کو آزاد چھوڑنے کی تباہ کاری پر  نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:”نگاہ شیطان کے تیروں میں سے زہر میں بجھا ہوا ایک تیر ہے۔“(معجم الکبیر، حدیث: 10362) یعنی جیسے زہر میں بجھے تیر کا شکار بچ نہیں پاتا، یونہی نگاہ کا آوارہ استعمال کرنے والا، گناہ میں پڑنے سے نہیں بچ سکتا۔ اس تنبیہ کے ساتھ دوسری طرف نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بدنگاہی کا موقع اور قدرت کے باوجود نگاہ جھکا لینے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:”جو مسلمان کسی عورت کے حسن و جمال کی طرف (بلاارادہ) پہلی بار نظر کرے، پھر اپنی آنکھ جھکا لے تو اللہ  تعالٰی اسے ایسی عبادت کرنے کی توفیق دے گا جس کا وہ مزہ پائے گا۔“(مسندامام احمد،ج5،ص264، حدیث: 22332) حکیم الامت، امام محمد غزالی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے ”نگاہوں کی حفاظت“ پر ”سدِّذرائع“ کی روشنی میں بڑا حکیمانہ کلام فرمایاہے، چنانچہ ”منہاج العابدین“ میں لکھا ہے (جسے بریکٹوں میں اپنے الفاظ کی تشریح کے ساتھ پیش کرتا ہوں):”نظر نیچی رکھنا، دل کو پاکیزہ بناتا ہے اور نیکیوں میں اضافے کا ذریعہ ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر تم نظر نیچی نہ رکھو، بلکہ اسے آزادی سے ہر چیز پر ڈالو، تو بسا اوقات تم بے فائدہ اور فضول بھی اِدھر اُدھر دیکھنا شروع کر دو گے اور رفتہ رفتہ تمہاری نظر حرام پر بھی پڑنا شروع ہو جائے گی، اب اگر جان بوجھ کر حرام پر (مثلاً نامحرم عورت یا خوبصورت اَمرد پر بُری خواہش سے) نظر ڈالو گے، تو یہ بہت بڑا گناہ ہے اور عین ممکن ہے کہ تمہارا دل حرام چیز پر فریفتہ ہوجائے اور تم تباہی (گناہ) کا شکار ہوجاؤ، اور اگر اس طرف دیکھنا حرام نہ ہو، بلکہ جائز ہو، (جیسے لوگوں کے مہنگے لباس، موبائل، کار، مکانات کو دیکھنا) تو ہوسکتا ہے کہ تمہارا دل (اُن میں) مشغول ہوجائے اور اِس کی وجہ سے تمہارے دل میں طرح طرح کے وسوسے آنا شروع ہوجائیں (کہ یا تو لوگوں پر وسوسے آئیں کہ حرام کمائی سے سب بنایا ہوگا اور یا پھر خود اُن کے حصول کی طلب میں خیالی پلاؤ پکاتے اور تڑپتے رہوگے) اور ان وسوسوں کا شکار ہو کر نیکیوں سے رہ جاؤ، لیکن اگر تم نے (حرام اور مباح) کسی طرف دیکھا ہی نہیں، تو ہر فتنے اور وسوسے سے محفوظ رہو گے اور اپنے اندر راحت و نشاط محسوس کرو گے۔( منہاج العابدین،ص62)آیت میں دوسرا حکم یہ ہے کہ ”اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں“ یعنی بدکاری اور حرام سے بچیں، جس کا ایک طریقہ تو وہی ”نگاہوں کو جھکانا“ ہے اور مزید یہ ہے کہ اپنی شرم گاہ اور اُن سے متصل وہ تمام اعضاء جن کا چُھپانا ضروری ہے، انہیں چھپائیں اور پردے کا اہتمام رکھیں۔ ”نگاہیں نیچی رکھنا“ اور ”شرم گاہ کی حفاظت کرنا“ گناہوں سے بچنے کا وہ عمدہ و مفید ذریعہ ہے کہ خود رب العالمین اِس کی افادیت کے متعلق فرماتا ہے: ( ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْؕ-)یہ ان کے لئے زیادہ پاکیزہ ہے۔(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) یعنی نگاہیں نیچی رکھنا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنا ”گناہ کی گندگی“ کے مقابلے میں بہت پاکیزہ طریقہ ہے۔ اِن سب باتوں کے علاوہ آیت کے اِختتام پر گناہوں سے بچنے کے سب سے بنیادی اور مؤثِّر طریقے کی طرف بھی اِشارہ فرما دیا کہ ”بیشک اللہ تعالٰی اُن کے کاموں سے خبردار ہے۔“ یعنی گناہوں سے بچنے میں یہ تصور بہت مفید ہے کہ ”اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھے دیکھ رہا ہے۔“ حقیقت یہی ہے کہ اگر یہ تصور کما حقہ (جیسا ہونا چاہئے ویسا) ہمارے دل و دماغ میں مُستَحضَر (واضح طور پر موجود) رہے کہ اللہ تعالٰی  ہمارے جملہ اَعمال، نگاہوں کی خیانت اور دلوں کے پوشیدہ خیالات سے باخبر ہے تو تنہا یہی ایک تصور، سب گناہوں سے بچانے کیلئے کافی ہے۔ اسی حکمِ شرعی کی وجہ سے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں نگاہوں کی حفاظت پر بہت زور دیا جاتا ہے۔ نگاہوں کی حفاظت کو دعوتِ اسلامی کی اِصطلاح میں آنکھوں کا قفلِ مدینہ کہا جاتاہے۔ اللہ  تعالٰی ہم سب کو اِس مدنی انعام پر عمل کرنے کی توفیق عطا  فرمائے۔  آمین

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…مفتی محمد قاسم عطاری 

٭…دارالافتاءاہل سنت عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code