وہ بزرگانِ دین جن کا وصال یاعرس رَجَبُ الْمُرَجَّب میں ہے

رَجَبُ الْمُرَجَّب اسلامی سال کا ساتواں مہینا ہے۔ اس میں جن صحابۂ کرام، علمائے اسلام اور اَولیائے عِظام کا یومِ وصال یا عرس ہے،  ان میں سے 21کا مختصر ذکر ماہنامہ فیضانِ مدینہ رجب المرجب 1438ھ کے شمارے میں کیا گیا تھا مزید 18 کا مختصر تعارف ملاحظہ فرمائیے:

صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان (1)حضرتِ سیّدنا نضیر بن حارث رضی اللہ تعالٰی عنہ قُرَشی عَبْدَرِی، صحابی، مہاجر، مجاہد، شہید اور حلمائے قریش سے تھے، جنگِ یرموک میں رجب 15ھ کو شہید ہوئے۔ آپ وہ صحابی ہیں جو دولتِ اسلام کے مِل جانے پر کثرت سے شکرِالٰہی بجالایا کرتے تھے۔ (اسد الغابۃ،ج5،ص338)  (2)صحابیِ رسول حضرتِ سیّدنا سعید بن حارِث قُرَشی سَہْمی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اسلام قبول کرنے کے بعد حبشہ ہجرت فرمائی پھرمدینۂ منوّرہ آئے، آپ نے جنگِ یَرمُوک میں رجب 15ھ کو شہادت پائی۔ (اسد الغابۃ،ج2،ص451 تا 452) (3)سلطانِ اسلام، حضرتِ سیّدنا امیر معاویہرضی اللہ تعالٰی عنہ بِعثتِ نبوی سے پانچ سال قبل مکّہ شریف میں پیداہوئے۔ صحابیِ رسول، امینِ اَسرارِ نبوت، کاتبِِ وحی، حِلم و سخاوت کے مالک اور مجموعۂ مَناقِب ہیں۔ رجب المرجب 60ھ کووصال فرمایا، آپ کا مزارمبارک دِمَشق (شام ) میں ہے۔ (الاصابہ،ج6،ص120، تاریخ ابنِ عساکر،ج59،ص240) علمائے اسلام رحمہمُ اللہُ السّلَام (4)امامُ المسلمین حضرتِ امام مُسلم بن حَجّاجرحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ولادت 206ھ میں نیشا پور (خُراسَان) میں ہوئی۔ 24رجب 261ھ کووِصال فرمایا، مزارمبارک نیشا پور میں ہے۔ غیر معمولی ذہانت کے مالک، حافظُ الحدیث، اِمامُ المُحَدِّثین اور عظیم شخصیت کے مالک تھے، اپنی تصنیف”صحیح مسلم“ کی وجہ سے عالمگیر شہرت حاصل ہوئی۔ (جامع الاصول،ج1،ص124، محدثین عظام حیات وخدمات، ص 323 تا 332) (5)امامُ الا ئمّہ حضرتِ امام ابوعیسٰی محمد تِرمِذی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 209 ھ میں تِرْمِذ (ساحلِ نہرِجیجون) اُزْبَکِسْتان میں ہوئی اور یہیں 13رجب 279ھ کو وصال فرمایا۔ شیخ المحدثین، محسنِ اُمّت، علم وعمل کے پیکر اور احادیث کی مشہورکتاب ”سُننِ تِرمِذی“ کے مصنف ہیں۔ (جامع الاصول ،ج1،ص129،محدثین عظام حیات وخدمات، ص 357 تا 363) (6)شیخ الاسلام، مخدوم محمد ہاشِم ٹھٹھوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1104ھ کو ضلع ٹھٹھہ (باب الاسلام سندھ) میں ہوئی اور 6رجب 1174ھ کو وصال فرمایا،آپ کا مزار مَکلی شریف ضلع ٹھٹھہ  میں ہے۔ استاذُالعلما، عظیم مُحَدِّث، بہترین فقیہ، قادرُ الکلام شاعر، عربی، فارسی اور سندھی زبان میں تقریباً 300 کتب کے مصنف، بانی و شیخُ الحدیث دارالعلوم ہاشمیہ ٹھٹھہ، قاضِیُ القُضاۃ اور سلسلہ قادریہ کے شیخِ طریقت تھے۔ (انوارعلمائے اہلِ سنّت سندھ، ص 713تا 718، سیرتِ سید الانبیا، ص 45تا 49) (7) فقیہِ اعظم حضرت مفتی محمد نوراللہ نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1332ھ کو بصیر پور (اوکاڑہ) پاکستان میں ہوئی۔محدِّثِ دوراں، عالمِ باعمل، مصنفِ کتب، بانی وشیخ الحدیث دارُالعلوم حنفیہ فریدیہ اورشیخِ طریقت تھے، پانچ جلدوں پر مشتمل فتاویٰ نوریہ آپ کے فتاویٰ کا مجموعہ ہے۔ یکم رجب 1403ھ کو وصال فرمایا۔ (فتاویٰ نوریہ،ج1،ص68تا98) (8)واعِظِ شیریں بیان خطیبِ اعظم پاکستان مولانا محمد شفیع اوکاڑویعلیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1348ء میں (کھیم کرن، مشرقی پنجاب) ہند میں ہوئی۔ 21 رجب 1404ھ کو وصال فرمایا۔ آپ کا مزارمبارک (گلستانِ اوکاڑوی سولجر بازار) بابُ المدینہ کراچی میں ہے۔ عالمِ باعمل، رہنمائے اہلِ سنت ، کئی کتب کے مصنف اوربہترین واعظ تھے، خَلقِ کثیرنے آپ سے فیض پایا۔ (انوارِ علمائے اہلِ سنت سندھ، ص 866 تا 869) اولیائے کرام رحمہمُ اللہُ السّلَام (9)سلسلۂ نقشبندیہ کے عظیم شیخِ طریقت، حضرت خواجہ یوسف ہَمْدَانی  حنفیعلیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولا د ت 441ھ میں بُوزَنَجِرْد (مضافاتِ ہمدان) ایران میں ہوئی۔  عالمِ دین ، بانیِ دارُالعلوم،کئی کتب کے مصنف، غوثِ زمانہ اور شیخُ الشیوخ ہیں۔ 27رجب 535ھ کو وصال فرمایا، مزارمبارک مَرْو قدیم جنوبی تُرْکْمَانِسْتان میں ہے۔(تاریخِ مشائخِ نقشبندیہ، ص 197 تا 203) (10)عمادُ الدین حضرتِ سیّدنا ابو صالح عبداللہ نَصْر جیلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کی ولادت 562 ھ کو بغداد (عراق) میں ہوئی۔ خاندانِ غوثیت کے چشم وچراغ، سراجُ العُلَماء، فخرُ الفُضَلاء، قاضِیُ القُضاۃ (چیف جسٹس)، وسیعُ العلم، جلیل القدر اور سلسلۂ قادریہ رضویہ عطاریہ کے انیسویں شیخِ طریقت ہیں۔ 27رجب 632ھ کووصال فرمایا اور بغداد میں تدفین ہوئی۔ (تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ (برکاتیہ)، ص 187 تا 192) (11) سلطانُ الہند ، حضرت خواجہ غریب نواز معین الدین سیّد حَسن سَنْجَری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت537ھ میں سجستان (موضع سنجر) ایران میں ہوئی۔ سلسلۂ عالیہ چشتیہ کے عظیم المَرْتَبَت شیخ، نجیبُ الطرفین سیّد، صاحبِ دیوان شاعراورمشہورترین ولی اللہ ہیں۔ لاکھوں کفّار آپ کے دستِ اقدس پر اسلام لائے۔ 6رجب627ھ کووصال فرمایا، مزارمبارَک اجمیر شریف (راجستھان) ہند میں دُعاؤں کی قبولیت کا مقام ہے۔ (اخبار الاخیار، ص 23، اقتباس الانوار، ص 344 ،385) (12)قدوۃُ السالکین، حضرت سیّد میرموسیٰ جیلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کی ولادت باسعا دت بغداد شریف عراق میں ہوئی۔ 13 رجب 763ھ کو وصال فرمایا، تدفین بغداد شریف (عراق) میں ہوئی۔ (تاریخ مشائخِ قادریہ رضویہ (برکاتیہ)، ص199) (13)پیرِمحافظ، حضرتِ سیّدنا شیخ بدرالدین بدرِ عالم جُنیدی مِیرٹھی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت مِیرٹھ (یوپی) ہند میں ہوئی۔25یا 27 رجب 844ھ کو وصال فرمایا۔ آپ کا مزار مبارک چھوٹی درگاہ کے نام سے بِہار ہند میں   ہے۔ آپ بِہارو بنگال کے مشہور ترین ولیِ کامل ہیں۔ (اردو دائرہ معارفِ اسلامیہ،ج 4،ص157) (14)امامُ الاَصْفِیاء حضرت سیّدنا قاضی ضیاءُ الدّین جیاء عثمانی قادری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 925ھ قصبہ نیوتنی (ضلع اناؤ، یوپی) ہند میں ہوئی۔آپ عالمِ دین، استاذُالعلما اورسلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ کے اٹھائیسویں شیخِ طریقت ہیں۔ 21رجب 989ھ کو وصال فرمایا، مزار مبارک قصبہ نیوتنی میں ہے۔ (تاریخ مشائخِ قادریہ رضویہ (برکاتیہ)، ص 221 تا 223، تاریخ مشائخ قادریہ رضویہ،ج2،ص73) (15)قبلۂ عالم، حضرت خواجہ سیّد فیض محمد شاہ قَندھاری نقشبندیعلیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1266ھ میں موضع قلعۂ سیداں قندھار افغانستان میں ہوئی۔ 18رجب 1380ھ کو وصال فرمایا۔ آپ کامزارمبارک فیض آبادتحصیل تاندلیا نوالہ ضلع سردار آباد (فیصل آباد پنجاب) پاکستان میں ہے۔ (تذکرہ خانوادہ حضرت ایشاں، ص 646 تا 657) (16)استاذُالعلما، عاشقِ اعلیٰ حضرت ،پیر بَارُو حضرت خواجہ عبداللہ نقشبندیعلیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت فتح پور ضلع لیہ میں ہوئی اور وصال 19 رجب 1399ھ کو فرمایا، مزارمبارک موضع پیِربَارُو شریف (تحصیل فتح پورضلع لیہ پنچاب) پاکستان میں ہے۔ (فیوضاتِ حسنیہ، ص 483 تا 487) خُلَفائے اعلٰی حضرت علیہم رحمۃ ربِّ العزت (17)عالمِ باعمل حضرت شیخ عبدالقادرکُرْدِی آفندی مکی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت  1275ھ کواَرْبِیل (کردستان) عراق میں ہوئی۔ عالمِ دین، مکۂ مکرمہ کے مُجاوِر، مُتَرْجِم، مصنف اور خلیفۂ اعلیٰ حضرت تھے۔ 9رجب 1365ھ کو طائف میں وفات پائی اور وہیں دفن کئے گئے۔ (اجازات المتینہ، ص ،69،31 تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت ص 67) (18)عالمِ جلیل، حضرت شیخ سیّد محمدعبد الحی کَتَّانی حسنی مالکی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت   1305ھ فاس مغرب (یعنی مراکش) میں ہوئی۔ 12 رجب 1382ھ کو وصال فرمایا۔ نیس(Nice) فرانس کے قبرستان میں دفن کئے گئے۔آپ  مُحَدِّ ث ِ عرب وعجم، عالمِ باعمل،  کئی کتب کے مصنف اورخلیفۂ اعلیٰ حضرت تھے۔آپ کی کتاب”فِہْرِسُ الفہارس“ علمائے سِیَر(علمائے سیرت)میں معروف ہے۔(نظامِ حکومتِ نبویہ مترجم، ص 27، الاعلام للزرکلی،ج6،ص187)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭ رکنِ شوریٰ و نگران مجلس المدینۃ العلمیہ،   باب المدینہ کراچی

Share

Articles

Gallery

Comments


Security Code