روزہ چھوڑنے کے بہانے نہ بنائیے!

مکی مَدَنی سُلطان صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:سَيِّدُ الشُّهُوْرِ رَمَضَانُ وَسَيِّدُ الْاَ يَّامِ  يَوْمُ الْجُمُعَةِ یعنی تمام مہینوں کا سردار رَمَضان ہے اور تمام دِنوں کا سردار جمعہ کا دِن ہے۔ (معجم کبیر،ج9ص205،حدیث:9000)اس مبارک مہینے کے روزے اللہ پاک نے ایمان والوں پر فرض فرمائے ہیں۔ نبیِّ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا:اگر بندوں کو معلوم ہوتا کہ رَمَضان کیا  چیز ہے تو میری اُمّت تمنَّا کرتی کہ کاش!پورا سال رَمَضان ہی ہو۔ (صحیح ابنِ خُزَیمہ،ج3ص 190،حدیث:1886)ایک اور حدیثِ پاک میں اِرشاد فرمایا: جس نے ماہِ رَمَضان کوپایا اور اُس کے روزے نہ رکھے وہ شخص شقی(یعنی بَدبخت)ہے۔(معجم اوسط،ج3،ص62، حدیث: 3871)

فی زمانہایسوں کی بھی کمی نہیں جو مختلف حیلے بہانوں مثلاً ابھی طبیعت نرم گرم ہے، شدید گرمی ہے،بیماری بڑھ جائے گی،کمزوری ہو جائے گی،دن بھر کام کرنا ہوتا ہے،بعد میں رکھ لیں گے وغیرہ وغیرہ  بہانے  بنا کر   روزہ رکھنےسےمحروم   رہتے ہیں۔ حدیثِ پاک میں ہے: جس نے رَمَضان کا ایک دن کا روزہ بغیر رُخصت و بغیر مرض اِفطار کیا (یعنی نہ رکھا) تو زمانے بھر کا روزہ بھی اُس کی قضا نہیں ہوسکتا اگر چہ بعد میں رکھ بھی لے۔ (ترمذی،ج2ص175، حدیث:723) یعنی وہ فضیلت جو رَمَضان میں(روزہ )رکھنے کی تھی کسی طرح حاصل  نہیں کر سکتا تو جب روزہ نہ رکھنے میں یہ سخت وعید ہے ، رکھ کر توڑ دینا تو اس سے(بھی) سخت تر ہے۔ (بہار شریعت،ج1ص985)

ہمارے بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ  اللّٰہُ  الْمُبِیْن کے دِلوں میں ماہِ رَمَضان کی اہمیت ایسی راسِخ تھی کہ سخت بیماری میں بھی روزہ چھوڑ دینا یا رکھ کر توڑ دینا گوارا نہ کرتے ۔ اس ضمن میں عاشقِ ماہِ رَمَضان  امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کی حکایت مُلاحظہ کیجیے:

چنانچہ اعلیٰ حضرترحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں:ابھی چند سال ہوئے، ماہِ رجب میں حضرت والد ماجد(رئیس المتکلمین مولانا نقی علی خان) قَدَّسَ اللہُ سِرَّہُ الشَّرِیْف خواب میں تشریف لائے اور مجھ سے فرمایا:اب کی رمضان میں مرض شدید ہو گا،روزہ نہ چھوڑنا۔ ویسا ہی ہوا اور ہر چند طبیب وغیرہ نے کہا (مگر)میں نے بِحَمْدِ اللہِ تَعَالٰی روزہ نہ چھوڑا اور اسی کی بَرکت نے بِفَضْلِہٖ تَعَالٰی شِفا دی کہ حدیث میں اِرشاد ہوا ہے:’’صُوْمُوْا تَصِحُّوْا روزہ رکھو تندرست ہو جاؤ گے۔(معجم اوسط،ج6ص146،حدیث:8312، ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص206)

مىرى تمام مسلمانوں سے یہ فریاد ہے کہ وہ اپنے دِلوں میں  اس مبارک مہینے کی قَدْر و اہمیت کو اُجاگرکریں،روزہ چھوڑنے کے بہانے بنانے کے بجائے روزے رکھیں اور اپنی دنیا وآخرت کو بہتر بنائیں۔اگرکوئی عذرہوتواپنے طورپریاکسی کے کہنے پر روزہ ترک کرنے کے بجائے دارالافتاءاہلِ سنت یا کسی عاشقِ رسول مفتی صاحب سے رجوع کریں۔اللہ پاک ہمیں ماہِ رمَضَان کے فیضان سے  مالا مال فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم  

آگیارمضان عبادت پر کمر اب باندھ لو               فیض لے لو جلد یہ دن تیس کا مہمان ہے

Share