حضرت سیّدنا ادریس علیہ الصَّلٰوۃ وَالسَّلام کا ذریعۂ معاش/ دکان سے پیک چیز خریدی اگر خراب نکلے تو کیاحکم ہے؟/ کیا زمین ٹھیکے پر دینا جائز ہے؟/ مال بیچنے کے لیے سچی قسم کھانا کیسا؟

اللہ پاک کے نبی حضرتِ سیّدنا اِدرِیس علٰی نَبِیِّنَاوعلیہ الصَّلٰوۃ وَالسَّلام کا نام اَخْنُوخ ہے، اللّٰہ پاک نے آپ پر تیس صحیفے نازِل کئے اور ان صحیفوں کا کثرت سے درس دینے کی وجہ سے آپ  کا نام اِدرِیس ہوا۔(صراط الجنان، پ16، مریم، تحت الآیۃ: 56،ج 6ص124 ملخصاً)

حضرتِ سیّدنا اِدرِیس علیہ السَّلام کی رنگت سفید، قد لمبا اور سینہ چوڑا تھا، جسم پر بال کم تھے اورسر کے بال بڑے تھے۔ جب زمین پر ظلم اور سَرکشی  کا بازار گرم ہوا تو اللہ پاک نے آپ کو آسمان کی طرف اٹھالیا، چنانچہ  قراٰنِ پاک میں اللہ کریم کا فرمان ہے:( وَ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِیًّا(۵۷)) ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نے اسے بلند مکان پر اٹھالیا۔(پ16، مریم:57)(مستدرک،ج3ص417، حدیث:4069ملتقطاً)

ذریعۂ معاش حضرتِ سیّدنا اِدرِیس علیہِ السَّلام کپڑا سینے کا کام کرتے تھےاورجو کماتے اس میں سے بقدرِ ضَرورت رکھ کر بَقِیَّہ راہِ خدا میں صَدَقہ کردیتے۔(الحث  علی التجارۃ والصناعۃ، ص113) منقول ہے کہ آپ سینے کے لئے سوئی داخل کرتے وقت  اللہ  کریم کی تسبیح کرتے اور سوئی نکالتے وقت حمدِ الٰہی کرتے۔ (تفسیرالمحرر الوجیز، پ17، الانبیاء، تحت الآیۃ:85،ج4ص95)ایک مرتبہ آپ کپڑا سی رہے تھے کہ شیطان آپ کے پاس پِستہ لے کر آیا اور وسوسہ ڈالتے ہوئے کہنے لگا: کیا آپ کا رب اس بات پر قادر ہے کہ دنیا کو اس پستے میں ڈال دے؟ آپ علیہِ السَّلام نے ارشاد فرمایا: اللہ پاک تو اس بات پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ پوری دنیا کو اس سوئی کے ناکے میں ڈال دے۔

(تفسیر البحر المدید، پ16، مریم، تحت الآیۃ:56،ج4ص238)

جو کام سب سے پہلے آپ نے کئے سب سے پہلے جس شخص نے قلم سے لکھا وہ آپ ہی ہیں۔ کپڑوں کو سینے اور سلے ہوئے کپڑے پہننے کی ابتدا بھی آپ ہی سے ہوئی، آپ سے پہلے لوگ کھالیں پہنتے تھے۔ سب سے پہلے ہتھیار بنانے والے، ترازو اور پیمانے قائم کرنے والے اور علمِ نُجوم اور علمِ حساب میں نظر فرمانے والے بھی آپ ہی ہیں۔(صراط الجنان، پ16، مریم، تحت الآیۃ:56،ج 6ص124)

سلائی کے کام کی فضیلت میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ والے جو کام کرتے ہیں اس کام میں بھی بَرَکت آجاتی ہے، چنانچہ فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم ہے: نیک مَردوں کا کام کپڑے سینا اور نیک عورَتوں کا کام سُوت کاتنا (یعنی چرخے پر رُوئی سے دھاگا بنانا)ہے۔(تاریخ ابن عساکر،ج36ص199) سرکارِمدینہ صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم گھر کے کام کرلیا کرتے تھے اور ان میں سینے کا  کام زیادہ ہوتا۔ (طبقات ابن سعد،ج1ص275)

خائن درزی کی بروزِ قیامت رسوائی حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تعالٰی وجہَہُ الکریم نے ایک درزی سے فرمایا: مضبوط دھاگا استعمال کرو، سلائی باریک اور ٹانکے قریب قریب رکھو کیونکہ میں نے رسولُ اللہ صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے سنا ہے کہ ”اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن خیانت کرنے والے درزی کو اس حال میں اٹھائے گا کہ اس پر وہ قمیص اور چادر ہوگی جس کے سینے میں اُس نے خیانت کی ہوگی۔‘‘(فردوس الاخبار،ج5ص479، حدیث: 8820) اور بچ جانے والے ٹکڑوں کے معاملے میں ڈرو کہ کپڑے کا مالِک اس کا زیادہ حق دار ہے۔(المستطرف فی کل فن مستظرف،ج2ص113)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ماہنامہ  فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی

Share

حضرت سیّدنا ادریس علیہ الصَّلٰوۃ وَالسَّلام کا ذریعۂ معاش/ دکان سے پیک چیز خریدی اگر خراب نکلے تو کیاحکم ہے؟/ کیا زمین ٹھیکے پر دینا جائز ہے؟/ مال بیچنے کے لیے سچی قسم کھانا کیسا؟

دکان سے پیک چیز خریدی اگر خراب نکلے تو کیاحکم ہے؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہم سے دکاندار یاگاہک ہول سیل پر مال لے کر جاتے ہیں سامان پیک ہوتاہے اور وہ گنتی کرکے سامان لے جاتے ہیں پھر کچھ دنوں کے بعد آکر کہتے ہیں کہ آپ کی یہ چیز خراب نکلی ہےکیا اس صورت میں ہم ان کو یہ کہہ کر منع کرسکتے ہیں کہ ہم نے آپ کوسامان دے دیاتھا آپ کا کام تھا کہ چیک کر کے لےجاتے؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب:اشیاء کی خرید وفروخت دوقسم کی ہوتی ہے، ایک وہ اشیاءجن کوچیک کیا جاسکتاہےجیسے کھلے آئٹم کہ ان کو ہاتھ لگاکرچیک کرنا ممکن ہے، دوسری وہ اشیاءکہ جن  کو چیک نہیں کیاجاسکتامثلاً ڈبے میں چائے کی پتی،  ڈبّے میں بند دودھ یا انڈے وغیرہ کو عام طور سے دکان ہی پر چیک نہیں کیا جاتا۔ ایسے معاملات میں اصول یہ ہے کہ کوئی بھی ایسی چیز جس کو صحیح کہہ کر بیچا گیااگر اس میں عیب نکل آیااورجیسی کہہ کر بیچی گئی تھی ویسی نہیں نکلی تو خریدار کو وہ چیزواپس کرنے کا حق ہوتا ہے اور دکاندار کو وہ چیز واپس کرنی پڑے گی وہ واپس کرنے سے منع نہیں کرسکتا۔خریدار کے اس حق کو فقہاء ”خیارِ عیب“ کے نام سے موسوم کرتے ہیں اور کتبِ فقہ میں یہ پورا باب ہے جس میں اس کے مسائل لکھے ہوئے ہیں بہار شریعت میں بھی حصہ 11 میں اس کی تفصیل موجود ہے ۔خریداری کے وقت اگر بیچنے والے نے  یہ کہہ دیا کہ آپ یہ چیز چیک کر لیں یہ جیسی بھی ہے آپ کی ہے میں اس کے عیب سے بری الذمہ ہوں تو  اس صورت میں دکاندار کو وہ چیز واپس لینا ضروری نہیں۔ واضح رہے کہ خریدار کو جن صورتوں میں یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ عیب نکلنے پر چیز واپس کر سکتا ہے یہ اختیار کچھ شرائط سے مشروط ہے جن میں سے ایک یہ ہے کہ اس چیز میں خریدار نے مالکانہ تصرف نہ کیا ہو۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

کیا پلاٹ خریدنے پر بھی کوئی عیب نکل سکتا ہے؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائےکرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہم نے ایک پلاٹ یہ کہہ کر بیچا کہ اس میں کوئی فالٹ (عیب) نہیں ہے اور بیعانہ بھی ہوگیا اس کے بعد پلاٹ میں کوئی فالٹ نکل آیا تو اس کوٹھیک کروانے کی ذمہ داری کس کی ہو گی؟  ہماری یاپھر خریدار کی؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب:پلاٹ میں عیب کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں مثلاً کاغذات میں کوئی پیپر کم  ہےیاپلاٹ خریدنے کے بعد پتا چلا کہ بیچنے والے کی فیملی نے کورٹ میں کیس کیا ہو ا ہےکہ یہ پلاٹ تو ہمارے والد کا ہے وراثت کا ہےاور ایک پارٹی نے بیچ دیا ہے یا پھر یہ کہہ کرپلاٹ بیچا گیاکہ یہ پلاٹ لیز کا ہے لیکن بعد میں پتا چلاکہ ابھی تک اس کی لیزنگ نہیں ہوئی ہے۔عیب کی تعریف ہی یہ ہے کہ جس کے پائے جانے پر تاجروں کے عرف میں اس چیز کی قیمت کم ہو جائے جیسا کہ کار کی خریداری میں اگر نمبر پلیٹ ڈپلیکیٹ ہو اور اصل گم ہو گئی ہو تو عام طور سے کم از کم پچاس ہزار قیمت کم ہو جاتی ہے ۔

جب پلاٹ کو متعلقہ عیوب سے خالی کہہ کر بیچا گیا تھا لیکن بعد میں کوئی نقص نکلا ہے تو اب دو ہی صورتیں ہیں یا تو قبضہ دینے کا جو وقت مقرر ہوا تھا اس سے قبل بیچنے والا وہ خرابی دور کر دے اگر ایسا نہ ہواور قبضہ دینے کا وقت آجائے اور یہ نقص دور نہ ہو توایسی صورت میں خریدار یکطرفہ سودا کینسل کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

کیا زمین ٹھیکے پر دینا جائز ہے؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زمین کو ٹھیکے پر دینااور اس پر اُجرت لینا جائزہے؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب:زمین ایک کارآمد چیز ہے اس کوکرائے پر دیناجائز ہے چاہے وہ کرایہ ماہانہ ہو یا سالانہ۔البتہ کرایہ میں طے ہو کہ اس میں کیا کام ہوگا مثلاً کھیتی باڑی ہوگی،اس میں گودام بنایا جائے گا،یا اس میں گھر کی تعمیر کی جائے گی وغیرہ ذٰلک۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

مال بیچنے کے لیے سچی قسم کھانا کیسا؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائےکرام اس مسئلے کے بارے میں کہ سچی قسم کھا کر مال بیچا جا سکتاہے؟بعض اوقات کسٹمر کہتا ہے کہ قسم کھاؤ کہ تم نے یہ چیز اتنے میں خریدی ہے توکیا ہم سچی قسم کھا سکتے ہیں؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب:سچی قسم کھانا گناہ نہیں بلکہ جائزہےاور ضرورتاً سچی قسم کھانےکی اجازت بھی ہے۔قسم کامعنی ہے ”تاکید“  اور اپنے کلام کوپختہ ومؤکدکرنے کےلیے قسم کھائی جاتی ہےلیکن کاروبار میں قسم کھانا معیوب بات ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے: ”عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، يَقُولُ: إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَلِفِ فِي الْبَيْعِ، فَإِنَّهُ يُنَفِّقُ ثُمَّ يَمْحَقُ“ ترجمہ: حضرت سیّدنا ابوقتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے انہوں نے رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے سنا کہ بیع میں قسم  کی کثرت سے پرہیزکرو کہ یہ اگر چہ چیز کو بکوا دیتی ہے مگر برکت کو مٹا دیتی ہے۔( مسلم، ص668، حدیث:4126)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

نیلامی کے ذریعے مال بیچنا کیسا؟

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بازار وغیرہ میں سامان رکھ کر بولی لگائی جاتی ہےکوئی شخص ایک قیمت پر خریدنے کیلئے تیار ہوجائے تو دوبارہ اس سے زیادہ کیلئےبولی لگائی جاتی ہےاس طرح یہ معاملہ چلتارہتاہے آخر میں اس کےہاتھ چیزفروخت کر دی جاتی ہے جو سب سے زیادہ قیمت پر لینے کو راضی ہوتاہے ایسا کرناکیسا ہے؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب:بعض اوقات کسی چیز کو نیلامی کے ذریعے بیچا جاتا ہے یہ طریقہ بھی فی نفسہ جائز ہے البتہ نیلامی کے کام میں بھی بہت ساری شرعی خرابیاں لوگوں نے داخل کر دی ہیں ان سے بچنا بھی ضروری ہے۔نیلامی کے ذریعے زیادہ قیمت کی بولی دینے والے کو چیز بیچناخود رسولِ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے ثابت ہے کہ آپ نے ایک صحابی کی مدد کے لئے ان  کا پیالہ وغیرہ نیلامی کے طریقے پر زیادہ بولی لگانے والے کو بیچا۔

(سنن ابی داؤد،ج 2ص168، حدیث:1641)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

Share