باپ اپنے بچوں کی تربیت کیسے کرے ؟

٭باپ کو چاہئے کہ کھانے پینے کے معاملے میں بھی بچے کی تربیت کرے کہ بلاوجہ ہر وقت کھاتے  پیتے رہنا  اور طبیعت و موسم کے خلاف چیز کھانا نقصان دہ  ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ باپ خود بھی بچے کے سامنے  وقت بےوقت نہ کھاتا رہے۔ امام غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوَالیفرماتے ہیں: بُری صِفات میں سے جو چیز سب سے پہلے غالب آتی ہے وہ کھانے کی حرص ہے لہٰذا مناسب ہے کہ سب سے پہلے بچے کو کھانے کے آداب سکھائے جائیں۔(احیاءالعلوم،ج3ص89)([1]) ٭بعض لوگ اپنی اولاد کے ساتھ یکساں سُلُوک نہیں کرتے۔ ذہین (Intelligent) بچے کو شفقتوں اور عِنایتوں کا مرکز بنا دینا اور  کُنْدذہن(Dull) کو ہر وقت ڈانٹ ڈپٹ کرنا  اور نالائق ہونے کے طعنے   دیتے رہنا قطعاً مناسب نہیں۔ یاد رہے کہ جس بچے کے ساتھ زیادہ شفقت اور پیار کا رویّہ رکھا جائے گا  اور دوسروں کی حق تلفی کرکے اسے اہمیت دی جائے گی وہ ضِدّی اور خودسَر بن سکتا ہے  جبکہ بقیہ بچے اِحساسِ کمتری کاشکار ہوسکتے ہیں۔ ٭بعض لوگ اس قدر غیر ذِمّہ داری کا مُظاہرہ کرتے ہیں کہ ان کا چھوٹا بچہ اگر بڑوں کے ساتھ بدتمیزی، اونچی آواز اور بداخلاقی سے پیش آئے یا(مَعَاذَ اللہ)گانا گائے، ناچ کر دکھائے، اپنی توتلی زبان میں گالی دے  تو وہ بڑی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ دَرحقیقت بہت بڑی غلطی ہے۔ بارہا دیکھا گیا ہے کہ بچوں کی ایسی حرکتوں پر خوش ہونے والے ان کیجوانی میں ان کی انہی حرکتوں پر نالاں ہوتے ہیں۔ ٭فرمانِ  مصطفےٰ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَّمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا یعنی وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر مہربانی نہیں کرتا۔ (ترمذی،ج3ص369، حدیث:1927) میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بعض لوگ اپنے بچوں پر بے جا سختی کرتے ہیں، ان کو معمولی بات پر بھی سخت سزا یا شدید ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں اور نتیجۃً ناقابلِ تلافی نقصان کا منہ دیکھتے ہیں۔ پرنٹ میڈیا میں چھپنے والی ایک ایسے ہی  سخت گیر باپ کی خبر پڑھئے اور عبرت حاصل کیجئے، چنانچہ ایک شخص نے  نئی کار خریدی، اس کے سب سے چھوٹے بچے نے جس کی عمر بمشکل چار سال تھی، گاڑی کی سیٹ کو چُھری سے پھاڑ ڈالا۔  باپ یہ دیکھ کر آگ بگولا ہوگیا اور بچے کوبہت مارا یہاں تک کہ بچے کے بازو رسی سے باندھ کر چھت والے پنکھے کے ساتھ لٹکا دیا اور  کئی گھنٹوں تک بچے کو اسی حالت میں رکھا۔ ماں بے چاری مِنّت سمَاجت کرتی رہی مگر اس نے ایک نہ سنی۔ جب بچے کو اتارا گیا تو  اس کے دونوں بازو کام کرنا چھوڑ چکے تھے۔ بچے کو اسپتال لایاگیا۔ ڈاکٹر نے کہا: بچے کے دونوں ہاتھ شَلّ(سُوکھ کر بے حرکت ) ہوچکے ہیں اور انہیں کاٹنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ عین اس وقت جب آپریشن تھیٹر میں بچے کا آپریشن ہورہا تھا باپ نے اسی پنکھے کے ساتھ رسی باندھ کر خودکشی کرلی اور یوں ہنستا بستا گھر برباد ہوگیا۔ ٭باپ کو چاہئے کہ کبھی بھی بچے کو لَعْن طَعْن اور گالی گلوچ نہ کرےکہ کل جوان ہونے کے بعد بچہ بھی یہی رویہ اپنائے گا۔ گھر میں گالی گلوچ اور ماردھاڑ دیکھنے  والے بچے باہر بھی گرم طبیعت کا مظاہرہ کرتے ہیں، نتیجۃً اپنے ساتھ ساتھ ماں باپ کو بھی پریشانیوں میں مبتلا کرتے ہیں۔٭بچوں کے ملبوسات (Dressing) وغیرہ کا بھی ان کی تربیت میں بڑا کردار ہے، خود کو ترقی یافتہ(Moderate) ظاہر کرنے والے اکثر  لوگ مغربی طرزِ زندگی کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں اور بچوں کو بھی یہی کچھ سکھاتے ہیں، یادرکھئے!بچپن میں بچے کو جیسا پہناوا دیں گے اسے بعد میں بھی ویسا ہی  پہننے کی عادت ہوگی، اس لئے ایک باپ کی ذمّہ داری ہے کہ بچے کو اپنے مُعاشَرَتی انداز اور اسلامی ثقافت کے مطابق ہی لباس وغیرہ پہنائے۔ لڑکیوں کو لڑکوں والے لباس ہرگز ہرگز نہ پہننے دے۔ عُمْر بڑھنے کے ساتھ ساتھ بچے اور بچیوں کو بے حیائی سے بچانے کی طرف توجہ دے۔لڑکوں کو گھٹنے سے اوپر لباس نہ پہننے دے اور لڑکیوں کو سر وغیرہ ڈھانکنے کی تاکید کرے تاکہ بالغ ہونے کے بعد سِتْر اورحجاب کے احکامات پر عمل کرنے میں انہیں کسی مشکل یا تنگی کا سامنا نہ ہو۔ ٭باپ کو چاہئے کہ اپنی اولاد کو ترغیب دینے کے لئےان  کے سامنے قراٰن پاک کی تلاوت کرے ، قراٰن پاک اور دیگر کتابوں کا ادب کرے،بچہ سات سال کا ہوجائے تو نماز کا حکم دے اور جب دس سال کا ہوجائے تو شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے سختی سے نماز پڑھائے، فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں  نماز پڑھنے کا حکم دو اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں  تو انہیں  مار کر نماز پڑھاؤ اور ان کے بستر الگ کر دو۔ ( ابوداؤد،ج1ص208، حدیث: 495)  بچوں کو نمازی بنانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ  حتّی الاِمْکان گھر پر نفل نماز کا اہتمام کرے کہ بچوں کو نماز کی عادت پڑے گی جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جُبَیر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں : میں اپنےاس بچے کی وجہ سے کثرت سے(نفلی)نماز پڑھتا ہوں۔ حضرتِ سیِّدُنا ہِشام رحمۃ اللہ تعالٰی علیہحضرت سعید کی گھر میں نماز پڑھنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : یہ اُمید کرتے ہوئے کہ بچے میں  نماز  کی رغبت پیدا ہو۔ (حلیۃ الاولیاء ،ج4ص309،رقم: 5659) ٭مدنی منّے جب تھوڑے سمجھدار ہوجائیں تو انہیں باجماعت نماز پڑھنے کے لئے اپنے ساتھ مسجد لے جایا کرے نیز جہاں تک ممکن ہو بچے کو اپنے ساتھ اجتماعاتِ ذکرونعت  اور بزرگوں کی بارگاہ میں لے کر جائے اور ان میں ادب کا خاص خیال رکھے تاکہ بچہ بچپن ہی سے ان محافل کا عادی ہونے کے ساتھ ساتھ  باادب بھی بن جائے۔ یادرہے کہ بچہ اپنے باپ سے  مُعاشَرے میں  اٹھنے بیٹھے کے طور طریقے سیکھتا ہے۔ یہ تعلق بچے کی آنے والی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ ٭بچے کو اسکول یا مَدْرَسہ میں داخلہ دلوا دیا اور روزانہ وقت پر بھیج دیا، صرف اتنا کرنے سے باپ کی ذمّہ داری ختم نہیں ہوجاتی، بچہ ادارے میں کیا سیکھ رہا ہے؟ کن بچوں سے دوستی رکھتاہے؟ ادارے میں اس کا رویہ(Attitude) کیسا ہے؟ یہ سب دیکھنا بھی ضروری ہے۔ وقت پر ان چیزوں کو نہ دیکھنے والے والدین بعض اوقات بعد میں بڑے نقصان کا سامنا کرتے ہیں۔بچے کی صُحْبت (Company) پر غور کرنا ایک باپ کی بہت اہم و بڑی ذمّہ داری ہے کیونکہ صحبت رنگ لاتی ہے، لہٰذا باپ کو چاہئے کہ بچے کو ہمیشہ اچھی صحبت دے، بُرے دوستوں سے دور رکھے،  گلیوں میں بیٹھنے، بلاوجہ بازاروں میں گھومنے سے منع کرے۔ ٭ایک ذمّہ دار باپ ہمیشہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھتا ہے کہ وہ کیسی کتابیں اور رسائل وغیرہ پڑھ رہے ہیں؟  کون سی چیزیں اپنے استعمال میں رکھتے ہیں؟  کن آلات اور کن چیزوں سے کھیلتے ہیں؟ اوران کی سوچ کے دھارے کس سَمْت بہہ رہے ہیں؟ یادرہے بچوں پر نظررکھنے کا انداز ایسا ہو کہ وہ خود کو قیدی محسوس نہ کریں۔ ٭بچے کی تربیت کی ذمّہ داری تعلیمی ادارے سے زیادہ  ماں باپ کی ہے، کیونکہ بچہ تعلیمی ادارے میں کم اور گھر میں زیادہ رہتاہے، لہٰذا باپ کو چاہئے کہ گھر میں مدنی ماحول بنائے تاکہ دیگر اہلِ خانہ کے ساتھ ساتھ  بچے کی بھی قراٰن و سنّت کی تعلیمات کی روشنی میں تربیت ہو۔ گھر میں مدنی ماحول بنانے کیلئےمکتبۃ المدینہ کی شائع کردہ کتاب  ”جنّت کے طلبگاروں کے لئے مدنی گلدستہکےصفحہ نمبر 37 سے گھرمیں مدنی ماحول بنانے کے 19مدنی پھول“ پڑھئے  نیز گھر میں صرف اور صرف مدنی چینل چلائیے  ۔         

بقیہ آئندہ ماہ کے شمارے میں۔۔۔۔۔۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ناظم ماہنامہ فیضان مدینہ، باب المدینہ کراچی



[1] ۔۔تفصیل جاننےکےلئے احیاءالعلوم مترجم جلد3صفحہ 220 تا 228 اور فیضانِ سنّت کا باب ” آدابِ طعام“ پڑھئے)

Share