آسمانی کتابوں میں نعتِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

اے عاشقانِ رسول! اللہ کریم نے اپنے آخری نبی   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کو ایسے کثیر فضائل عطا فرمائے جو مخلوق میں سے کسی اور ہَستی کو نصیب نہ ہوئے۔ رسولُ اللہ   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کے ایسے ہی3خصوصی فضائل کا مُطَالَعہ کرکے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کیجئے :

(1)آسمانی صَحائف میں اَوصاف کا تذکرہ : گزشتہ آسمانی کتابوں میں سرکارِ دوعالَم   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں۔ ([i])

شارحِ بخاری مفتی شریفُ الحق امجدی   رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں : تَوراۃ و انجیل وغیرہ اگلی کُتُبِ سَماوِیَہ  میں حُضورِ اقدس   صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم   کے اوصاف اس وضاحت اور تفصیل سے مذکور ہیں کہ ان کی روشنی میں اہلِ کتاب حُضورِ اقدس    صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم   کو بِلا کسی شک و شُبہ کے  یقینی طور پر پہچانتے تھے۔ ([ii])

اللہ پاک کا فرمان ہے : ( اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْؕ- ) تَرجَمۂ کنزُالعرفان : وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب عطا فرمائی ہے  وہ اس نبی کو ایسا پہچانتے ہیں جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ ([iii])  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

تَورات میں اوصافِ مصطفےٰ   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  : حضرت سیّدُنا عطا بن یَسار   رحمۃ اللہ علیہ  کا بیان ہے کہ میری حضرت سیّدُنا عبدُاللہ بن عَمْرو   رضی اللہ عنہما   سے ملاقات ہوئی تو میں نے عرض کیا : مجھے رسولُ اللہ   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کے وہ اوصاف بتائیے جو تورات میں مذکور ہیں۔ انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم! حُضور   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کے قراٰنِ کریم میں مذکور بعض اوصاف تورات میں بھی بیان کئے گئے ہیں ، (جیسے : ) اے نبی! بے شک ہم نے آپ کو گواہ اور خوش خبری دینے اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا۔ (تورات میں آپ کے مزید یہ اوصاف بھی بیان کئے گئے ہیں : ) ہم نے آپ کو اَن پڑھ قوم کی حفاظت کرنے والا بناکر بھیجا ہے۔ آپ میرے بندے اور رسول ہیں ، میں نے آپ کا نام مُتَوَکِّل (یعنی اللہ پر بھروسا کرنے والا) رکھا۔ آپ نہ تو بَداَخلاق  ہیں نہ سخت مزاج ، نہ تو آپ  بازاروں میں شور  کرنے والے ہیں اور نہ ہی بُرائی کا بَدلہ بُرائی سے دینے  والے بلکہ آپ دَرْگُزر سے کام لیتے اور مُعاف فرماتے ہیں۔ اللہ پاک اس وقت تک انہیں وفات نہیں دے گا جب تک ان کے ذریعے ٹیڑھی مِلّت کو سیدھا نہ کردے کہ لوگ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کا اِقرار کرنے لگیں  اور اس ذریعے سے  اللہ پاک اندھی آنکھوں ، بہرے کانوں اور پردہ پڑے ہوئے دِلوں کو کھول دے گا۔ ([iv])

مفتیِ اعظم ہند حضرت علّامہ مولانا مصطفےٰ رضا خان   رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں :

کتابِ حضرتِ موسیٰ میں وَصف ہیں ان کے

کتابِ عیسیٰ میں ان کے فَسانے آئے ہیں

انہیں کی نعت کے نغمےزَبُور سے سُن لو

زبانِ قرآں پہ ان کے تَرانے آئے ہیں([v])

(2)غَزْوات میں فرشتوں کی شرکت : فرشتوں نے سرکارِ دو عالَم   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کے لشکر میں شریک ہوکر مختلف غَزْوات میں شرکت کی۔ ([vi])

غزوۂ بَدر میں فرشتوں کا نُزول : غزوۂ بَدْر میں پہلے ایک ہزار فرشتے نازِل ہوئے۔ اللہ پاک کا فرمان ہے : ( اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓىٕكَةِ مُرْدِفِیْنَ(۹)  )  تَرجَمۂ کنزُالعرفان : میں ایک ہزار لگاتار آنے والے فرشتوں کے ساتھ تمہاری مدد کرنے والا ہوں۔ ([vii])   (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  بعد میں 2ہزار فرشتے نازِل ہوئے اور یوں ان کی تعداد 3ہزار ہوگئی۔ قراٰنِ کریم میں فرمایا گیا : ( اَلَنْ  یَّكْفِیَكُمْ  اَنْ  یُّمِدَّكُمْ  رَبُّكُمْ  بِثَلٰثَةِ  اٰلٰفٍ  مِّنَ  الْمَلٰٓىٕكَةِ  مُنْزَلِیْنَؕ(۱۲۴)  )  تَرجَمۂ کنزُالعرفان : کیا تمہیں یہ کافی نہیں کہ تمہارا رب تین ہزار فرشتے اُتار کر تمہاری مدد کرے۔ ([viii])   (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  اس کے بعد مزید 2 ہزار فرشتوں کا نُزول ہوا اور فرشتوں کی  کُل تعداد 5ہزار ہوگئی۔ اللہ کریم کا فرمان ہے : ( یُمْدِدْكُمْ  رَبُّكُمْ  بِخَمْسَةِ  اٰلٰفٍ  مِّنَ  الْمَلٰٓىٕكَةِ  مُسَوِّمِیْنَ(۱۲۵)  ) تَرجَمۂ کنزُ العرفان : تمہارا رب پانچ ہزار نشان والے فرشتوں کے ساتھ  تمہاری مدد فرمائے گا۔ ([ix])  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

غزوۂ حُنین میں فرشتوں کا نُزول : قراٰنِ کریم میں غزوۂ حُنَین سے متعلق فرمایا گیا : ( وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا  )  تَرجَمۂ کنزُ العرفان : اور اس نے ایسے لشکر اتارے جو تمہیں دکھائی نہیں دیتے تھے۔ ([x])  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)   یعنی فرشتےجنہیں کُفّارنےاَبْلَق گھوڑوں پر سفید لباس پہنے عمامہ باندھے دیکھا۔ یہ فرشتے مسلمانوں کی شوکت بڑھانے کے لئے آئے تھے۔ ([xi])

غزوۂ خَنْدَق میں فرشتوں کا نُزول : غزوۂ خندق کے بارے میں اللہ پاک کا فرمانِ عالیشان ہے : ( فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا وَّ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَاؕ- ) تَرجَمۂ کنزُ العرفان : تو ہم نے ان پر آندھی  اور وہ لشکر بھیجے  جو تمہیں  نظر نہ آئے۔ ([xii])  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  ابو عبداللہ حضرت سیّدُنا امام محمد بن احمد مالکی قُرطُبی   رحمۃ اللہ علیہ   لکھتے ہیں : اللہ پاک نے فرشتے بھیجے جنہوں نے کفار کے خیموں کی رسیاں کاٹ دیں ، کیلیں اکھاڑ دیں ، دیگچیاں الٹی کردیں ، ان کی جلائی ہوئی آگ بجھا دی اور ان کے گھوڑے بِدَک کر بھاگنے لگے۔ ان کے لشکر کے چاروں طرف فرشتے بلند آواز سے اللہُ اَکْبَر کہنے لگے اور اللہ پاک نے ان کے دِلوں پر خوف اور رُعب طاری کردیا۔ ([xiii])

چمکتی تھی وہ بجلی تیغِ سلطانِ رسالت کی

فرشتے دیکھتے تھے جنگ میں صولت محمد کی([xiv])

(3)نبیوں اور فرشتوں کی امامت فرمائی : اللہ کے حبیب   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   نے انبیائے کرام   علیہمُ الصَّلٰوۃ وَالسَّلام   اور فرشتوں کی امامت فرمائی۔ ([xv])

ایک روایت کے مطابق شبِ مِعراج بیتُ المقدس میں حضرت سیّدُنا جبریلِ امین   علیہ الصَّلٰوۃ وَالسَّلام   نے اذان دی اور پھر نبیِّ پاک   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   نے انبیائے کرام   علیہمُ السَّلام   اور فرشتوں کی امامت فرمائی۔([xvi])

تو پیشوا ہے سب کا سب مقتدی ہیں تیرے

اَقصیٰ میں کیسے بنتا کوئی امام تیرا([xvii])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*ماہنامہ  فیضانِ مدینہ ، کراچی



([i])   کشف الغمۃ ، 2 / 53

([ii])   نزھۃ القاری ، 3 / 478

([iii])   پ2 ، البقرۃ : 146

([iv])   بخاری ، 2 / 25 ، حدیث : 2125

([v])   سامانِ بخشش ، ص140

([vi])   انموذج اللبیب ، ص37

([vii])   پ9 ، الانفال : 9

([viii])   پ4 ، اٰل عمرٰن : 124

([ix])   پ4 ، اٰل عمرٰن : 125

([x])   پ10 ، التوبۃ : 26

([xi])   صراط الجنان ، 4 / 97

([xii])   پ21 ، الاحزاب : 9

([xiii])   الجامع لاحکام القرآن ، جز : 14 ، 7 / 107

([xiv])   قبالۂ بخشش ، ص254

([xv])   تاریخ الخمیس ، 1 / 391

([xvi])   در منثور ، 5 / 226 ، فتاویٰ رضویہ ، 30 / 242

([xvii])   قبالۂ بخشش ، ص25

Share

Articles

Comments


Security Code