سیّد الشہداء حضرت  امام حسین رضی اللہ عنہ کی نصیحتیں

کسی کو نصیحت کرنا یا اسے اچھی بات بتانا گویا کہ اس پر احسان کرنا ہے ، قراٰنِ حکیم میں کئی جگہ نصیحت کی گئی ہے جس سے نصیحت کی اہمیت و افادیت معلوم ہوتی ہے ، نصیحت کی ضرورت و اہمیت کے پیشِ نظر ہمارے بزرگانِ دین   رحمۃ اللہ علیہم   نے بھی لوگوں کو بہترین نصیحتیں فرمائی ہیں۔ سیِّدُنا امام حسین   رضی اللہ عنہ   بھی لوگوں میں وعظ و نصیحت فرمایا کرتے تھے۔ راکبِ دوشِ مصطَفٰے ، جگر گوشۂ مُرتضیٰ ، دِل بندِ فاطِمہ ، سلطانِ کربلا ، سیّدُالشّہَداء ، امامِ عالی مقام ، حضرت سیِّدُنا امامِ حسین   رضی اللہ عنہ   کی ولادتِ با سعادت5شعبانُ المُعظَّم4ھ کو مدینۂ منوَّرہ میں ہوئی۔ (معجم الصحابہ للبغوی ، 2 / 14) جبکہ آپ   رضی اللہ عنہ   نے یومِ عاشورا یعنی10مُحَرَّمُ الْحَرام61ھ کو بروز جمعہ دینِ اسلام کی حفاظت کرتے ہوئے یزید پلید کے خلاف میدانِ کربلا میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ آپ   رضی اللہ عنہ   نے میدانِ کربلا میں اور اپنی مبارک حیات کے دیگر مواقع پر جو خُطبات اور نصیحت آموز اَشعار ارشاد فرمائے ان میں سے چند منتخب نصیحتیں ملاحظہ کیجئے : (1) اے لوگو! اچھے اَخلاق میں رغبت کرو ، نیک اعمال میں جلدی کرو ، جس نے کسی پر احسان کیا ہواور وہ اس کا شکر ادا نہ کرے تو احسان کرنے والے کو اللہ پاک عوض عطافرماتا ہے۔ یقین کرو نیک کام میں تعریف ہوتی ہے اور ثواب ملتا ہے ، اگر تم نیکی کو کسی مرد کی صورت میں دیکھ سکتے تو اسے بہت حسین و جمیل دیکھتے جو دیکھنے والے کو بَھلا لگتا اور اگر تم مَلامت اور بَدی کودیکھ سکتے تو بدترین منظر دیکھتے جس سے دل نفرت کرتے اور نظریں نیچی  ہوجاتی ہیں۔ اے لوگو! جو سخاوت کرتا ہے وہ سردار ہوتا ہے اور جو بُخل کرتا ہے وہ ذلیل و رُسوا ہوتا ہے۔ زیادہ سخی وہ شخص ہے جو اس شخص پر سخاوت کرے جسے اس کی اُمید نہ ہو۔ زیادہ پاک دامن اور بہادُر وہ شخص ہے جو بدلہ لینے پر قادر ہونے کے باوجود مُعاف کردے ، زیادہ صِلۂ رحمی کرنے والاشخص وہ ہے جو قَطْع تعلق کرنے والے رشتے داروں سے تعلق جوڑے۔ جو شخص اپنے بھائی پر احسان کرکے اللہ کی رضا چاہے اللہ پاک مشکل وقت میں اس کا بدلہ دیتا ہے اور اس سے سخت مصیبت ٹال دیتا ہے۔ جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی سے دنیوی مصیبت دور کی اللہ پاک اس سے اُخرَوی مصیبت دور کرتا ہے اور جو کسی پر احسان کرے اللہ کریم اس پر احسان فرماتا ہے اور احسان کرنے والے اللہ کے پیارے ہیں۔ (2)اگرچہ دنیا اچھی اور نفیس سمجھی جاتی ہے مگر اللہ کا ثواب بہت زیادہ اور نفیس ہے (3)رزق تقدیر میں تقسیم ہوچکے ہیں لیکن کَسْب میں انسان کا حرص نہ کرنا اچھا ہے (4)مال دنیا میں چھوڑ کر ہی جانا ہے تو پھر انسان مال میں بُخل کیوں کرتا ہے؟ (5)جب اذیت دینے کے لئے کوئی شخص کسی سے مدد چاہے تو اس کی مدد کرنے والے اور ذلیل و رُسوا لوگ سب برابر ہیں۔ (نورالابصار فی مناقب آل بیت النبی المختار ، ص 152 ، 153)

اللہ کریم ہمیں ان نصیحتوں کواپنے دل میں جگہ دینے اور ان پر عمل کی سعادت عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*منقش  مدنی چینل

 

Share

Articles

Comments


Security Code