عطّار کی نصیحت اور ابنِ عطّار کا جواب

شیخِ طریقت ، امیرِ اہلِ سنّت حضرت علّامہ مولانا محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی   دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ   نے اپنے بیٹے اور جانشین کو سالگرہ کی مبارک باد دیتے ہوئے ارشاد فرمایا :

حاجی عبید رضا ابنِ عطار  کی خدمت میں :

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ

مَا شَآءَ اللّٰہ! آپ کو چالىسوىں سالگرہ مبارک ہو۔ 17شوّالُ المکرم1400سِنِ ہجرى مىں ولادت ہوئى۔ بیٹا! اب ىوں سمجھو کہ آپ کى زندگى کے 40سال کم ہوگئے ، آگے پتا نہىں کہ کتنى زندگى باقی ہے اس بات کا نہ آپ کو پتا ، نہ مجھے پتا۔ اللہ پاک آپ کے تمام پچھلے گناہ معاف فرمائے ، آپ کے صدقے مجھےبھى معاف فرمائے ، مىرى ، آپ کى ، ہمارى آل اولاد کى اور ہر دعوتِ اسلامى والے اور والى کى بے حساب مغفرت کرے ، سارى اُمّت کى بخشش فرمائے۔ بىٹا! اللہ سے ڈرتے رہنا ، کبھى بھى تکبر مت کرنا کسی کو خود سے گھٹیا مت سمجھنا کہ ہمارى شہرت! ہمارى عزت! اپنا ىہ! اپنا وہ! اگر رب ناراض ہوا تو ىہ کچھ بھى کام نہىں آئے گا ، رب راضى ہوا تو اس کی رضا ہی کافى ہے ، کسى شہرت کى حاجت نہىں اور شہرت ہر اىک کے کام آئے یہ ضروری بھی نہیں ، شہرت مىں تو بىٹے! کافى امتحان ہوتا ہے ، بندہ پُھولتا ہے ، پھر مَعَاذَ اللہ رب کو بُھولتا ہے اور پھر کام خراب ہوجاتا ہے۔ مىں آ پ کو اور کوئی تحفہ تو نہیں دے پایا ، مکتبۃُ المدىنہ کے رِسالے “ بیٹے کو نصیحت “ صفحہ9 سے حدىثِ پاک تحفۃً پىش کرتا ہوں : حُضور نبىِّ کرىم ، رَءُوفٌ رَّحىم   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   نے اپنى اُمّت کو جو نصىحتىں ارشاد فرمائىں ان مىں سے اىک مہکتا مدنى پھول ىہ ہے : بندے کا غىر مفىد کاموں مىں مشغول ہونا اس بات کى علامت ہے کہ اللہ پاک نے اس سے اپنى نظرِ عناىت پھىر لى ہے اور جس مقصد کے لئے بندے کو پىدا کىا گىا ہے اگر اس کى زندگى کا اىک لمحہ بھى اس کے علاوہ گزر گىا تو وہ اس بات کا حق دار ہے کہ اس کى حسرت طوىل ہوجائے اور جس کى عمر 40سال سے زىادہ ہوجائے اور اِس کے باوجود اُس کی بُرائىوں پر اُس کى اچّھائىاں غالب نہ ہوں تو اسےجہنم کى آگ مىں جانے کے لئےتىار رہنا چاہئے۔ (اَلْاَمَان وَالْحَفِیظ)

امام غزالى   رحمۃ اللہ علیہ   ىہ رواىت بیان کرنےکے بعد نصىحت کر تے ہوئے فرماتے ہىں : سمجھ دار اور عقل مند کے لئے اتنى ہی نصىحت کافى ہے۔ (بیٹے کو نصیحت ، ص9 ، 10)

آپ کے لئے بھى ىہ نصىحت کافى ہے اور آپ کے باپ کے لئے بھى کافى ہے کہ آپ کا باپ تو 40سال کبھى کے گزار چکا۔ آہ! اللہ کرىم پىارے حبىب   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کے صدقے ہم باپ بىٹوں پراپنى خصوصى رحمت نازِل فرمائے ، ہم سب کو بے حساب مغفرت سے مشرف فرمائے اور ہر دعوتِ اسلامى والے اور والى کى خصوصى طور پر بے حساب مغفرت فرمائے ، اللہ کرىم سارى اُمّت کو بخش دے ، مجھے بے حساب مغفرت کى دعا سے نوازنا نہ بھولا کرىں۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                    صلَّی اللہُ علٰی محمَّد

جانشینِ امیرِ اہلِ سنّت مُدَّظِلُّہُ الْعَالِی نے جوابی پیغام میں شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا :

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ وَنُسَلِّمُ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْم

عُبىد رضا بن عطار کى جانب سے مىٹھے مىٹھے مُشفِق والدِ محترم امىرِ اہلِ سنّت کى خدمت مىں :

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ

آپ کا بہت بہت شکرىہ ، آپ نے مجھے اپنى دعاؤں سے نوازا ، آپ نے مجھے تحفۃً مدنى پھول دىئے اور اَیُّہَا الْوَلَد سے اىک رواىت بھى بیان فرمائى ، اللہ پاک مىرے حق مىں ىہ دعائىں قبول فرمائے ، مجھے آپ کى امىدوں پر پورا اُتارے ، جو آپ نے نصىحتىں مجھے فرمائىں اللہ پاک مجھے اُن کا عامِل بنائے ، دعائے مغفرت کى التجا ہے۔

اللہ تَبَارک و تعالىٰ آپ کو درازیِ عمر بِالخیر عطا فرمائے ، آپ کا ساىہ تادىر مىرے سَر پرقائم رکھے اور آپ سے خوب دین کا کام لے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم 

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                    صلَّی اللہُ علٰی محمَّد

Share

Articles

Comments


Security Code