ایک ہی چیزمختلف کسٹمرزکومختلف قیمت پربیچناکیسا؟

ایک ہی چیز مختلف کسٹمرز کو مختلف قیمت پر بیچنا کیسا؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ دوکاندار اپنا سامان فروخت کرتے ہیں تو ہر کسٹمر کے لئے ان کا الگ الگ ریٹ ہوتاہے ، کسی کسٹمر سے  دس بیس  روپے زیادہ لیتےہیں اور دوسرے کسٹمر کو وہی چیز  سستی بیچ دیتے ہیں ، گاہک جھگڑتا ہے تو اس کو اور سستا کر دیتے ہیں۔ کیا ایسا کرنا  شرعی اعتبارسے  جائز ہے؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب : بیچنے والا اپنی چیز کا مالک ہے وہ جتنے کی چاہے بیچ سکتا ہے جبکہ خریدار کو دھوکا نہ دیا جائے۔ البتہ کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کے ریٹ حکومت کی طرف سے مقرر ہوتے ہیں ، ان چیزوں کو ان کے مقرر کردہ ریٹ پر ہی بیچنا ضروری ہے کیونکہ قانون کی پاسداری کرنا لازم ہے لیکن بہت ساری چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن میں یہ قانون  نہیں ہوتا ، جیسے کپڑے ، فرنیچر  وغیرہ جن کے ریٹ مقرر نہیں ہوتے تو ان چیزوں میں یہ کاروباری ٹول استعمال ہوتا ہے کہ “ جیسا گاہک ویسا بھاؤ۔ “ اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں۔ نیز بارگیننگ کرنا بھی خریدار و دکاندار کاحق ہے نبیِّ اکرم    صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   سے بھاؤ کم کروانا ثابت ہے اگر بھاؤکم  ہی نہ ہوسکتاتونبیِّ اکرم   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   سے ثابت کیسےہوتا۔

حدیثِ پاک میں ہے : “ حضرت سوید ابنِ قیس   رضی اللہ عنہ   فرماتے ہیں کہ میں اور مخرفہ عبدی مقام ہجر سے کپڑا لائے ہم اسے مکۂ معظمہ میں لائے تو ہمارے پاس رسول اللہ   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  پاپیادہ چلتے ہوئے تشریف لائے تو ہم سے پاجامہ کا بھاؤ چکایا۔ ہم نے وہ آپ کے ہاتھ بیچ دیا وہاں ایک شخص تھا جو مزدوری پر تول رہا تھا۔ اس سے رسول اﷲ   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا تول دو اور نیچا تو لو۔ (ترمذی ، 52 / 3 ، حدیث : 1309)

مفتی احمد یار خان نعیمی   علیہ الرحمہ   اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں : “ بھاؤ چکانے کا مطلب یہ ہے کہ بھاؤ طے کرکے خرید لیا۔ (مرقات)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خود دوکان پر جانا اور تاجر کی منہ مانگی قیمت نہ دینا بلکہ اس سے طے کرنا کچھ کم کرانا سنّت ہے ، اگرچہ اپنے خدام سے ہی خرید کی جائے اس بھاؤ تاؤ کرنے میں عار نہیں۔

آپ   علیہ الرحمہ   مزید لکھتے ہیں : “ چونکہ اس زمانہ میں نوٹ تو تھے نہیں درہم کا عام رواج تھا جن کے گننے میں بہت وقت لگتا ہے اس لئے تول کر ادا کئے جاتے تھے ، درہم تولنے والا تاجر کی طرف سے مقرر ہوتا تھا جس کی اجرت(تولائی)خریدار کے ذمہ ہوتی تھی۔ “ (مراٰۃ المناجیح ، 4 / 524)

اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِ سنّت   علیہ الرحمہ   لکھتے ہیں : “ بھاؤ کے لئے حجت کرنا بہتر ہے بلکہ سنّت۔ سوا اس چیز کے جو سفرِ حج کے لئے خریدی جائے اس میں بہتر یہ ہے کہ جو مانگے دے دے۔ “ (فتاویٰ رضویہ ، 17 / 128)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم 

لنڈے کی پینٹ میں ڈالر نکلا تو اس کا کیا کرنا ہوگا؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زید نے لنڈے کی پینٹ خریدی جس میں سے ایک ڈالر

نکلا۔ یہ ارشاد فرمائیں کہ اس ڈالر کا کیا جائے؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب : یہ ڈالر لقطے کے حکم میں ہے لہٰذا اس ڈالر کو صدقہ کرتے ہوئے کسی بھی نیک کام میں خرچ کیا جا سکتا ہے۔ اگر زید شرعی فقیر ہے تو وہ خود بھی رکھ سکتا ہے۔ لنڈے کے کپڑے فروخت کے لئے عموماً بیرونِ ملک سے لائے جاتے ہیں لہٰذا قرائن سے یہی ظاہر ہوتاہے کہ ان کپڑوں میں ملنے والی غیر ملکی کرنسی ان لوگوں کی ہے جو بیرونِ ملک ان کپڑوں کے مالک تھے اور ان تک پہنچنا اب ناممکن ہے لہٰذا ان پیسوں کو صدقہ کرنے کا حکم دیا جائے گاجیساکہ کتب فقہ میں یہ مسئلہ بیان کیا گیا ہے کہ ایک شخص نے مکان خریدا اور اس کی دیوار میں دراہم نکلے تواگر مکان بیچنے والا کہے کہ یہ میرے ہیں تو اس کو دے دئیے جائیں ورنہ لقطہ ہیں۔

صدرالشریعہ بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی   رحمۃ اللہ علیہ   لکھتے ہیں : ’’مکان خریدا اس کی دیوار وغیرہ میں روپے ملے اگر بائع کہتا ہے یہ میرے ہیں تو اسے دیدے ورنہ لقطہ ہے۔ ‘‘

(بہارِ شریعت ، 2 / 483 ، ردالمحتار علی الدرالمختار ، 6 / 437)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم 

سُنار کا سونے کی مردانہ انگوٹھی بنانا کیسا؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں سونے کا کاریگرہو ں ، کیامیرے لئے سونے کی  مردانہ انگوٹھی یا سونے کے بٹن بنانا ، جائز ہے؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب : ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ جن چیزوں کا استعمال جائزنہیں ان چیزوں کو بنانا بھی جائزنہیں اور جن چیزوں کا استعمال جائزہے ان کا بنانا بھی جائز ہے ، ایسے معاملات میں ہمیشہ اس اصول کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

اعلیٰ حضرت امام اہل سنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان   رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں : “ یہ اصل کلی یاد رکھنے کی ہے کہ بہت جگہ کام دے گی۔ جس چیز کا بنانا ، ناجائز ہوگا اسے خریدنا کام میں لانا بھی ممنوع ہوگا اور جس کا خریدناکام میں لانا منع نہ ہوگا اس کا بنانا بھی ناجائز نہ ہوگا۔ “ (فتاویٰ رضویہ ، 23 / 464)

مرد کے لئے چاندی کی صرف ایک انگوٹھی پہننا جائز ہے اور اس میں بھی یہ ضروری ہے کہ  چاندی کا وزن ساڑھے چار ماشے سےکم ہو ، اس میں ایک نگینہ بھی ہو ، ایک سے زائد نگینے بھی نہ ہوں اور بغیر نگینے والی بھی نہ ہو۔ اس کے علاوہ  کسی بھی دھات کی انگوٹھی ، چَین ، یا چھلہ وغیرہ نہیں پہن سکتا۔

اس تمام تفصیل سے واضح ہوگیا کہ سونے کی انگوٹھی پہننا بھی مرد کے لئے جائز نہیں لہٰذا سُنار کا مرد کے لئے سونے کی انگوٹھی بنانا بھی جائز نہیں۔

جہاں تک سونے کے بٹن بنانے کی بات ہے تو فقہائے کرام نے کپڑوں میں سونے کے بٹن لگانے کی اجازت دی ہے کیونکہ یہ لباس کے تابع ہیں لہٰذا سونے کے بٹن بنانا بھی جائز ہے البتہ بٹن کے ساتھ چین لگانے کی اجازت نہیں۔

بہارِ شریعت میں ہے : “ سونے چاندی کے بٹن کُرتے یا اچکن میں لگانا ، جائز ہے ، جس طرح ریشم کی گھنڈی جائز ہے۔ یعنی جبکہ بٹن بغیر زنجیر ہوں اور اگر زنجیر والے بٹن ہوں تو ان کا استعمال ناجائز ہے کہ یہ زنجیر زیور کے حکم میں ہے ، جس کا استعمال مرد کو ناجائز ہے۔ “ (بہارِ شریعت ، 3 / 415)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*دارالافتاء اہلِ سنّت نورالعرفان ، کھارادر ، کراچی

 

Share

Articles

Comments


Security Code